برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے کا سات جون سے مستعفی ہونے کا اعلان

اس عہدے کو رکھنا میرے لیے اعزاز کی بات تھی: ٹریزا مے
برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ سات جون سے مستعفی ہو رہی ہیں۔
انھوں نے بیان میں بریگزٹ کے حوالے سے کہا کہ  اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ برطانیہ کے بہترین مفاد میں یہ ہے کہ ایک نیا وزیراعظم ان کوششوں کی رہنمائی کرے۔
جمعے کو لندن میں سرکاری رہائش گاہ ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر اپنے بیان کے اختتام پر ٹریزا مے اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکیں اور آبدیدہ ہو گئیں۔
جذباتی بیان دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے سنہ 2016 میں یورپی یونین ریفرنڈم کی ساکھ بچانے کی ’اپنی بہترین کوششیں کیں‘، ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے افسوس ہے کہ میں بریگزٹ پر عمل درآمد نہیں کروا سکی۔‘ 
 انھوں نے کہا کہ ’آج میں اعلان کر رہی ہوں کہ کنزرویٹو پارٹی کے رہنما کے طور پر سات جون کو مستعفی ہو جاؤں گی۔ میں نے پارٹی کے چیئرمین سے اتفاق کیا ہے کہ نئے رہنما کا انتخاب اس کے اگلے ہفتے ہو گا۔‘

ٹریزا مے اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکیں (اے ایف پی فوٹو)

ٹریزا مے نے کہا کہ ’میں نے بریگزٹ کی شرائط پر بات چیت کی اور ہر ممکن کوشش کی کہ رکن پارلیمان کو اس معاہدے پر قائل کر سکوں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ایسا نہیں کر سکی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہو سکتا ہے کہ ہماری سیاست دباؤ میں ہو لیکن اس ملک کے بارے میں ایسا بہت کچھ ہے جو اچھا ہے۔ اس پر بہت زیادہ فخر ہے۔ میں کچھ عرصے میں عہدے سے الگ ہو جاؤں گی اور اس عہدے (وزیراعظم) کو رکھنا میرے لیے اعزاز کی بات تھی۔‘

ٹریزا مے کا سیاسی کریئر


ٹریزا مے جولائی 2016 میں ڈیوڈ کیمرون کی جگہ وزیراعظم منتخب ہوئیں: تصویر روئٹرز

ٹریزا مے سال انیس سو ستانوے میں میڈن ہیڈ سے رکن پارلیمان منتخب ہوئیں۔  حزب اختلاف میں رہنے ہوئے وہ متعدد عہدوں پر رہیں جس میں تعلیم کی شیڈو وزیر کا عہدہ بھی شامل تھا۔
سابق وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے دور میں وہ مئی 2010 سے جولائی 2016 تک وزیر داخلہ رہیں اور انھیں یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ کسی بھی سیاست دان نے سب سے زیادہ عرصہ یہ عہدہ رکھا۔
ٹریزامے جولائی 2016 میں ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے یورپی  اتحاد سے نکلنے یا اس میں رہنے کے حوالے سے ہونے والے ریفرینڈم کے بعد وزیراعظم منتخب ہوئیں۔
وزیر اعظم ٹریزامے کے مستعفی ہونے کی ممکنہ وجوہات

وزیراعظم ٹریزا مے کو یورپی اتحاد سے نکلنے کے معاہدے پر ناکامی کا سامنا رہا: تصویر اے ایف پی

وزیر اعظم ٹریزامے کے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد وہ وجوہات تلاش کی جا رہی ہیں جو ان کے مستعفی ہونے کا باعث بنیں، کچھ چھوٹی موٹی دیگر وجوہات کا تذکرہ بھی ہو رہا ہے لیکن سب سے بڑا معاملہ یقیناً بریگزٹ کا ہی تھا، کیونکہ اس معاملے پر ٹریزامے اراکین کو قائل کرنے کی کوشش کرتی رہیں اور اب صورت حال ان کے استعفے کے اعلان تک پہنچ گئی ہے۔
ٹریزامے سنہ 2016 میں اس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے مستعفی ہونے کے بعد وزیراعظم بنیں۔ ٹریزامے کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھتی ہیں اور کئی سال سے اس کے مختلف عہدوں پر کام کرتی رہی ہیں۔
وزیراعظم بننے کے بعد ٹریزامے بریگزٹ کے حق میں سرگرم تھیں، اس حوالے سے انہوں نے اراکین کو قائل کرنے کی کوششیں کیں لیکن اپوزیشن کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی پارٹی کی ہی جانب سے ان کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور بات تحریک عدم اعتماد تک جا پہنچی تھی کیونکہ اس سے قبل بریگزٹ کے معاملے پر برطانوی حکومت کا پیش کردہ معاہدہ ناکام ہو گیا تھا۔

بریگزٹ معاہدہ تین بار پیش، ہر بار مسترد ہوا

وزیر اعظم بننے کے بعد ٹریزامے حکومت کی جانب سے تین بار بریگزٹ معاہدہ پارلیمان میں پیش کیا گیا تاہم اراکین نے اس کو تیسری بار بھی مسترد کر دیا تھا جس سے یہ پورا عمل ابہام کا شکار ہو گیا تھا۔ جس پر عوامی حلقوں کی جانب سے احتجاج بھی دیکھا گیا تھا
اس سے قبل معاہدہ تیرہ مارچ کو پارلیمان میں شامل کیا گیا تھا اور اس وقت بھی مسترد کر دیا گیا تھا، اس معاہدے کو 242 کے مقابلے میں 391 ووٹ سے مسترد کیا۔ اس سے قبل جنوری میں بھی معاہدہ پارلیمان میں پیش کیا گیا تھا۔
جب تیسری بار بریگزٹ معاہدے کو پارلیمان میں پیش کیا گیا تو اسی روز یعنی انتیس مارچ کو ہی برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدہ ہونا تھا لیکن  ٹریزامے نے یورپی یونین کے رہنمائوں سے کچھ ہفتے کا وقت مانگا تھا۔
اس وقت برطانوی ارکان پارلیمان نے یورپی یونین سے نکلنے کے معاہدے کو 286 کے مقابلے 344 ووٹوں سے مسترد کر دیا تھا، جس پر برطانوی وزیراعظم نے کہا تھا کہ انخلا کا معاہدہ تیسری بار مسترد ہونے کے بعد اب بریگزٹ میں طویل تاخیر ناگزیر ہو گئی ہے، تیسری بار معاہدہ مسترد ہونے پر ماہرین کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس سے ٹریزامے کی پوزیشن کمزور ہو گی اور ان کی حکومت پر دبائو بڑھے گا، چند ماہ تک تو انہوں نے ایسے دباؤ کا مقابلہ کیا مگر اب مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

شیئر: