Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’نریندر مودی کا دورہ‘، انڈیا اور اسرائیل کے تجارت، دفاع اور سفارت کاری میں گہرے ہوتے تعلقات

اسرائیل انڈیا کے اہم دفاعی شراکت داروں میں سے ایک ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انڈین وزیراعظم نریندر مودی بدھ کو اسرائیل کا دورہ کریں گے، جہاں وہ تل ابیب کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی اور دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ دورہ ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب نئی دہلی مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر سفارتی مفادات کو بھی متوازن رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انڈیا نے گزشتہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ دفاع، زراعت، ٹیکنالوجی اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
انڈیا کا بڑا کاروباری ادارہ اڈانی گروپ اسرائیل کی بحیرۂ روم کی اہم بندرگاہ حیفہ کا انتظام چلا رہا ہے، جبکہ مئی 2025 میں پاکستان کے ساتھ جھڑپ کے دوران انڈیا نے اسرائیلی ڈرون ٹیکنالوجی پر خاصا انحصار کیا۔
دوسری جانب انڈیا خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ بھی مضبوط تعلقات رکھتا ہے، جن میں ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کی ترقی بھی شامل ہے جو افغانستان تک تجارتی رسائی کا دروازہ ہے، جہاں نئی دہلی طالبان انتظامیہ کے ساتھ بھی رابطے میں ہے۔
تجارت
ستمبر 2023 میں انڈیا نے مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کو جوڑنے والی ایک بڑے اقتصادی راہداری منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس میں سعودی عرب اور اسرائیل کے ذریعے ریلوے، بندرگاہیں، توانائی اور ڈیٹا نیٹ ورک شامل تھے۔ تاہم اکتوبر 7 کے حملے اور غزہ جنگ کے آغاز نے یہ منصوبہ روک دیا۔
تجارت دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد ہے۔ اسرائیل انڈیا کو جدید ٹیکنالوجی، زرعی حل اور پانی سمیت متعدد شعبوں میں معاونت فراہم کرتا ہے، جبکہ انڈیا اسرائیل کے لیے ایک بڑی صارف مارکیٹ ہے۔ 2024-25 میں دوطرفہ تجارت3.75  ارب ڈالر تک پہنچ گئی جس میں دفاعی سامان شامل نہیں۔
ہزاروں انڈین کارکن اس وقت اسرائیل میں کام کر رہے ہیں، جن میں وہ مزدور بھی شامل ہیں جو اکتوبر 2023 کے بعد فلسطینی کارکنوں کی جگہ لائے گئے۔

مودی کے 2014 میں برسرِاقتدار آنے کے بعد یہ تعلقات تیزی سے مضبوط ہوئے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

دفاع
اسرائیل انڈیا کے اہم دفاعی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ 2020 سے 2024 کے درمیان اسرائیل نے انڈیا کو اس کے مجموعی فوجی سازوسامان کا 13 فیصد فراہم کیا، جو روس اور فرانس کے بعد تیسرا سب سے بڑا سپلائر بنتا ہے۔ دونوں ممالک ڈرونز، میزائل نظام، ریڈار، سائبر سکیورٹی اور بحری جہازوں کی مشترکہ تیاری بھی کر رہے ہیں۔
سفارت کاری
دونوں ممالک نے 1992 میں باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ مودی کے 2014 میں برسرِاقتدار آنے کے بعد یہ تعلقات تیزی سے مضبوط ہوئے۔ مودی 2017 میں اسرائیل گئے جبکہ نیتن یاہو اگلے سال انڈیا آئے۔

 

شیئر: