Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بیرسٹر گوہر کہاں ہیں وہ تو عدالتوں میں کیس تک نہیں لگوا سکے: علیمہ خان

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ خاندان کی اجازت کے بغیر عمران خان کی صحت کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہ کیا جائے (فائل فوٹو: گیٹی امیجز)
سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے پارٹی قیادت پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کو بتائے بغیر عمران خان کی صحت کے حوالے سے حکام سے رابطہ کر رہی ہے.
بدھ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے واضح کیا کہ ان کی مشاورت کے بغیر عمران خان کی صحت کے حوالے سے کوئی کارروائی یا فیصلہ نہ کیا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خان کی صحت سے متعلق میری مشاورت کے بغیر کسی قسم کی کوئی کارروائی یا فیصلہ نہیں ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے رہنما بغیر بتائے اکیلے فیصلے کر رہے ہیں۔ ’ہمیں بتایا تک نہیں گیا لیکن یہ محسن نقوی تک رابطے کرتے رہے اور ہمیں کسی قسم کی معلومات نہ دی۔‘
علیمہ خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیرسٹر گوہر پہلے ملاقات کرتے تھے بعد میں ہمیں اطلاع دیتے تھے۔
ان کے مطابق ’بیرسٹر گوہر اور حامد خان کہاں ہیں، حامد خان سینیٹر بننے کے بعد نظر ہی نہیں آئے۔ بیرسٹر گوہر چیئرمین بن گئے مگر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیسز تک نہ لگوا سکے۔‘
انہوں نے کہا کہ عوام کو معلوم ہے کہ پارٹی میں کون غدار ہے اور ان کے بارے میں مکمل معلومات بھی موجود ہیں۔
انہوں نے لطیف کھوسہ اور بیرسٹر علی ظفر کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ وہ کہاں ہیں اور کیسز کیوں نہیں لگوا رہے؟
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان بھی کہہ چکے ہیں اور وہ بھی کہہ رہی ہیں کہ جو بوجھ نہیں اٹھا سکتے وہ ایک طرف ہو جائیں۔

24 فروری کو پمز کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ عمران خان کو وہاں آنکھ کے علاج کے لیے دوسری بار لایا گیا (فائل فوٹو: پمز)

انہوں نے زور دیتے ہوئے علاج کے موقع پر ہمارے ڈاکٹروں کی موجودگی ضروری ہے کیونکہ سرکاری ڈاکٹروں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق جو بات ہمیں پارٹی رہنماؤں سے معلوم ہونی چاہیے تھی وہ ٹی وی پر محسن نقوی کے بیان سے معلوم ہوئی۔
علیمہ خان واضح کیا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے فیصلہ کرنا پارٹی نہیں بلکہ خاندان والوں کا مینڈیٹ ہے۔ آئندہ ان کی صحت کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ ہماری اجازت کے بغیر نہیں ہو گا۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی قیادت ایسے پرسکون ہے جیسے عمران خان کا علاج مکمل ہو گیا ہو جبکہ ان کی صحت کے حوالے سے کچھ ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔
ان کا کا کہنا تھا کہ محسن نقوی نے کہا عمران خان کی صحت کے حوالے سے پارٹی ہمارے ساتھ ہے مگر ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ عمران کی صحت کے حوالے سے فیصلے کرنے کا مینیڈیٹ پارٹی کے پاس نہیں بلکہ فیملی کا حق ہے۔

شیئر: