Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وزیراعظم مودی کا اسرائیل کا دوسرا سرکاری دورہ، ’نیتن یاہو سے ملاقات ہوگی‘

انڈین وزیراعظم بدھ کی شامل اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے (فوٹو: اے پی)
انڈین وزیراعظم نریندر مودی آج بدھ کو اسرائیل کا دو روزہ سرکاری دورہ کر رہے ہیں جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی، اقتصادی اور تکنیکی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نریندر مودی نے بتایا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور صدر آئیزک ہرزوگ سے بات چیت کریں گے اور بدھ کی شامل اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے۔
انہوں نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ہمارے ممالک کے تعلقات ایک مضبوط اور کئی جہتوں پر محیط سٹریٹجک شراکت داری پر مبنی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں تعلقات نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں۔‘
اسرائیلی وزیراعظم نے رواں ہفتے دورے کا اعلان کرتے ہوئے خود کو اور مودی کو ’ذاتی دوست‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دورہ اسرائیل کے لیے بین الاقوامی حمایت میں اضافہ کرے گا۔
غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیل کے کئی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو چکے ہیں۔
انڈیا نہ صرف ایک طاقتور اتحادی ہے بلکہ اسرائیل کا ایشیا میں دوسرا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بھی ہے۔ انڈیا کی وزارتِ تجارت و صنعت کے مطابق مالی سال 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان کل تجارتی حجم 3.62 ارب ڈالر تھا۔
نریندر مودی 2017 میں اسرائیل جانے والے پہلے انڈین وزیراعظم بنے اور جواب میں نیتن یاہو نے بھی اگلے سال انڈیا کا دورہ کیا تھا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے اتوار کو کابینہ کے اجلاس میں بتایا تھا کہ دورے کے دوران ایجنڈے میں اقتصادی اور سکیورٹی کے مسائل کو ترجیح دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون، جس میں مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ شامل ہیں، پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
بنیامین نیتن یاہو نے نریندر مودی کی اسرائیل آمد سے قبل ایک پوسٹ میں کہا کہ ’ہم جدت، سکیورٹی اور مشترکہ سٹریٹجک وژن میں شراکت دار ہیں۔ ہم مل کر ایسے ممالک کا اتحاد قائم کر رہے ہیں جو استحکام اور ترقی کے لیے پُرعزم ہیں۔‘
وزیراعظم نریندر مودی کا اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنا انڈیا کی خارجہ پالیسی میں ایک واضح تبدیلی کی علامت ہے۔ انڈیا ماضی میں پر فلسطینیوں کی حمایت کرتا رہا ہے اور 1992 تک اس نے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے تھے۔
نریندر مودی سات اکتوبر 2023 کو فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے حملے کے فوراً بعد اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے والے پہلے عالمی رہنماؤں میں شامل تھے۔
اس کے علاوہ انڈیا رواں ماہ کے اوائل میں 100 سے زائد ممالک کے ساتھ شامل تھا جنہوں نے اسرائیل کے نئے اقدامات کی مذمت کی تھی جن کے تحت مغربی کنارے پر کنٹرول بڑھانے اور فلسطینی اتھارٹی کی محدود اختیارات کو مزید کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

 

شیئر: