Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ سنہرے دور میں داخل، ایک سال میں نمایاں تبدیلی آئی: صدر ٹرمپ

 امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور کو ’ملک کا سنہرا دور‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف ایک سال کے دوران ملک میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات اپنے دوسرے دور صدارت کے پہلے سٹیٹ آف یونین خطاب میں کی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم بہت کچھ حاصل کر رہے ہیں۔‘ امریکی صدر نے کہا کہ وہ بیرونی ملک ایک نیا ورلڈ آرڈر نافذ کرتے ہوئے ملک کے اندر ملازمتوں اور پیداواری مواقع میں تیزی لائے ہیں
انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کارناموں کی لمبی فہرست ان ریٹنگز کی راہ روک سکتی ہے جو تیزی سے گر رہی ہیں۔
صدر کے خطاب کے بعد ورجینیا کی گورنر ابیگیلی سپینبرگر ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب اس پر ردعمل ظاہر کریں گے۔
اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ جب کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کے لیے آئے تو ریپبلکنز نے ان کا استقبال کھڑے ہو کر کیا جبکہ ڈیموکریٹس احتجاجاً بیٹھے رہے۔
صدر ٹرمپ نے آغاز میں ہی کہا کہ ’میرے امریکی ساتھیو! ہمارا ملک پہلے سے کہیں زیادہ بہتر، امیر اور مضبوط ہو گیا ہے۔‘
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق صدر ٹرمپ اس وقت قدرے مشکل صورت حال میں ہیں اور ریپبلکنز کو خدشہ ہے کہ وہ ایوان میں اپنی اکثریت کھو سکتے ہیں اور ڈیموکریٹس ان کے اقتدار کے باقی حصے کو مفلوج بنانے کے ساتھ ان کا مواخذہ بھی ہو سکتا ہے۔
تاہم ریپبکن صدر نے اپنے خطاب میں اس سے قدرے مختلف انداز اپنایا۔
’صرف ایک سال کے بعد آج میں یہ فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے وہ کچھ حاصل کیا ہے جو اس سے قبل کسی نے نہیں دیکھا تھا اور یہ تبدیلی صدیوں کے لیے ہے۔‘
 انہوں نے آئس ہاکی میں طلائی تمغہ جیتنے والی امریکی ٹیم کے لیے اعلیٰ سول ایوارڈ کا اعلان بھی کیا۔
دوسری جانب نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس کے 40 ارکان ان کی تقریر کے دور چلے گئے۔
انہوں نے امریکہ کو درپیش ممکنہ خطرات کا تذکرہ بھی کیا۔ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان سخت کشیدگی کا ماحول ہے اور امریکہ کی بحری اور فضائی افواج ایران کے گرد جمع ہیں، جس سے صدر ٹرمپ کا سخت موقف ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ایک صدر کی حیثیت سے مجھ سے جس قدر ممکن ہو سکا کہیں بھی امن قائم کرنے کی کوشش کروں گا مگر امریکہ کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے کہیں بھی کچھ بھی کرنے سے قطعاً نہیں ہچکچاؤں گا۔‘
انہوں نے اس امر پر فخر کا اظہار بھی کہا کہ وینزویلا اب امریکہ کو تیل بھیج رہا ہے۔
یہ وہی ملک ہے جہاں امریکی فوج نے آپریشن کرتے ہوئے حکومت ختم کر دی تھی اور صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا تھا۔
 

شیئر: