چیئرمین نیب سے منسوب مبینہ ویڈیو: طیبہ ، ان کے شوہر کے خلاف ریفرنس

نیب نے اس ویڈیو کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ احتساب کے عمل میں رخنہ ڈالنے کی کوشش ہے
پاکستان کے قومی احتساب بیورو نیب نے ادارے کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سے منسوب ایک مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والے ملزمان کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کر دیا ہے۔
لاہور سے اردو نیوز کے نامہ نگار رائے شاہنواز کے مطابق سنیچر کو لاہور کی احتساب عدالت میں دائر کیے جانے والے ریفرینس میں میں مرکزی ملزمان طیبہ اور ان کے شوہر فاروق نول ہیں۔
 نیب لاہور کے ترجمان کے مطابق میاں بیوی کے خلاف ریفرنس احتساب عدالت لاہور میں فائل کیا گیا جبکہ طیبہ گل عرف پنکی اور فاروق نول کو اس ریفرنس میں مرکزی ملزم نامزد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہوں نے سادہ لوح شہریوں کو جعل سازی کے زریعے کروڑوں روپے سے محروم کیا۔

اپوزیشن جماعتوں نے اس ویڈیو کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا

ریفرینس میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کو 15 جنوری 2019 کو گرفتار کیا گیا۔ جبکہ ملزمان کے خلاف  36 گواہان نے نیب کے روبرو اپنے بیانات قلمبند کروائے ہیں نیب کی جانب سے فائر کیے جانے والے ریفرینس میں ملزمان کو منتقل ہونے والی رقوم، بنک ریکارڈ اور دیگر تحریری دستاویزات کا حصہ بنایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل پاکستان کے ایک نجی نیوز چینل نیوز ون نے ایک شخص کی ایک سے غیر شائستہ بات چیت کی ویڈیو چلائی تھی جس میں ویڈیو میں موجود دوسرے شخص کو مبینہ طور پر چیئرمین نیب سے منسوب کیا گیا تھا۔  اس ویڈیو کو  بعد ازاں ٹی وی چینل سے ہٹا لیا گیا تھا۔
تاہم اس کے بعد سے اس  مبینہ گفتگو کے آڈیو ویڈیو کلپس کے سوشل میڈیا پر شیئر کیے جا رہے ہیں۔
نیب نے اس ویڈیو کو جعلی قرار دیا تھا۔ اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے نیب کے ترجمان نوازش علی عاصم نے کہا  تھا  کہ ’چئیرمین نہ کسی کے دباؤ میں ہیں اور نہ ہی استعفیٰ دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے سب قیاس آرائیاں چل رہی ہیں‘۔
اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے اس ویڈیو کی پارلیمانی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا تاہم حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ اپوزیشن اس معاملے کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

 طیبہ گل عرف پنکی اور فاروق نول کو اس ریفرنس میں مرکزی ملزم نامزد کیا گیا

جمعے کو ہی وفاقی وزیر اطلاعات عاشق اعوان نے چیئرمین نیب کی وڈیو کو انجینئرڈ اور جعلی قراردیتےکہا کہ حکومت ادارے (نیب) کے ساتھ کھڑی ہو گی اور اسے آئینی اور قانونی کردار کے اندر سپورٹ کرے گی۔
انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون کو ڈکٹیشن آئی اور پھر شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف نے چیئرمین نیب کی نجی زندگی میں گھسنے کی کوشش کی۔
تاہم سنیچر کو پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس مبینہ ویڈیو کے سامنے آنے کا ذمہ دار وزیراعظم عمران خان کو ٹھہرایا۔

 

 

   

شیئر: