’خان صاحب ،نیب کو بلیک میلنگ سے چلانا چاہتے ہیں‘

     پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نیب کو بلیک میلنگ کے ذریعے چلانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ چیئرمین نیب کے حوالے سے پیپلزپارٹی کا موقف واضح ہے۔
    رتو ڈیرو میں ایچ آئی وی کے متاثرہ مریضوں سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک سوال پر بلاول نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ اصولوں کی سیاست کرتی ہے ۔ کبھی ذاتیات کی سیاست نہیں کی ۔ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک سازشی ملک ہے جس میں بہت سی قوتیں کام کرتی ہیں ۔کسی صورت کسی کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی نہیں کرینگے ۔
     انہوں نے کہا کہ بہت پہلے سے کہتا رہا ہوں کہ خان صاحب نیب کو پریشرائز کر رہے ہیں ۔نیب کو دھمکی سے چلا رہے ہیں ۔ اب اس حد تک نیچے گر گئے ہیں کہ اسے بلیک میلنگ کے ذریعے چلانا چاہتے ہیں ۔
بلاول نے کہا کہ محض اتفاق نہیں ہوسکتا کہ آڈیو صرف ان 2 چینلز پر چلے جو وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی چلاتے ہیں۔ ہم اس قسم کی سیاست کی مذمت کرتے ہیں ۔اس قسم کی بلیک میلنگ کی مذمت کرتے ہیں ۔حکومت اور وزیراعظم کی بھی مذمت کرتے ہیں۔
پیپلزپارٹی کے چیئر مین نے کہا کہ جہاں تک چیئرمین نیب کے انٹرویو کی بات ہے یہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے ۔ اس معاملے پر وکلاءسے مشاورت کر رہے ہیں ۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ نیب کا قانون کالا قانون ہے ۔ آپ جسے بھی چیئرمین بنا لیں ۔ یہ نظام اور قانون ہی ایسا ہے کہ سیاسی انتقام اور سیاسی انجیئرنگ کے سوا کچھ ممکن نہیں ہوسکے گا ۔
    مہنگائی اور خراب معیشت کے حوالے سے بلاول نے کہا کہ اس کی وجہ صرف اور صرف حکومت کی نااہلی اور نالائقی ہے۔ نیب گردی اور ایف آئی اے کے ذریعے نظام چلانے کی وجہ سے کاروباری افراد خوفزدہ ہیں ۔ کوئی کام کرنے کو تیار نہیں۔اسی لیے صدر زرداری نے کہا تھا کہ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔
    ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ملک میں ایچ آئی وی اور ایڈز سے متعلق اتنی آگاہی نہیں۔ ملک میں ایچ آئی وی اور ایڈز سے متعلق آگاہی دینی ہے ۔یہ بات پھیلانی ہے کہ ایچ آئی وی اور ایڈز میں بہت فرق ہے۔ اب اسے سزائے موت نہیں سمجھا جاتا۔ دنیا میں ایچ آئی وی اور ایڈز کا علاج موجود ہے ۔ تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اس مرض کا مقابلہ کریں گے ۔ سندھ حکومت ایچ آئی وی متاثرین کا علاج کرائے گی ۔ان کی زندگی بھر مدد کی جائے گی۔بلاول نے کہا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کے نام پتے ظاہر کرنے کو بالکل برداشت نہیں کریں گے۔ متاثرہ افراد اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے میں اور آپ۔

شیئر: