Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جامع مذاکرات حالات کا تقاضا ہیں، دو روزہ قومی کانفرنس میں اپوزیشن رہنماؤں کا خطاب

اسلام آباد کے خیبر پختونخوا ہاؤس میں منعقد دو روزہ قومی کانفرنس میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے ملک کو مسائل سے نکالنے کے لیے نیشنل ڈائیلاگ پر زور دیا ہے۔
اتوار کی شام کانفرنس سے خطاب میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلٰی سہیل آفریدی نے کہا کہ بند کمروں کے منصوبہ ساز غلط مشوروں سے فیصلے کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے خیبر پختونخوا کے امن جرگے میں مشورہ دیا کہ یہاں سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں۔ ہم نے کہا تھا کہ اجتماعی فیصلے کریں اس سے نقصان نہیں ہو گا۔‘
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ رجیم چینج کا ملک کو نقصان ہوا، معیشت نیچے گئی اور دن بہ دن مہنگائی بڑھتی گئی جبکہ بیروزگاری میں اضافہ ہوا۔
آج اعلان ہو جائے کہ جو پاکستان چھوڑ کر جانا چاہتا ہے چلا جائے تو دو کروڑ لوگ سفارت خانوں کے باہر پہنچے ہوں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمارا بیرونی قرضہ ڈالر کے ریٹ کے ساتھ منسلک ہے جو بڑھتا جا رہا ہے، دوست ممالک نے ہماری مدد کی ہے اور وہ رقم سٹیٹ بینک کے پاس پڑی ہوئی ہے۔‘
کانفرنس سے خطاب میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ ’ایوب خان کی اولاد عمر ایوب کو نااہل کیا اور اُن کی جگہ کسی اور کو لے آئے۔ ضیاء الحق نے مذہب کا استعمال کر کے قوم کا استحصال کیا۔ جنرل مشرف مکے لہراتا ہوا پوری قوم کو للکارتا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں افراد کو نہیں مافیا کو مورد الزام  ٹھہرانا ہو گا جو اس کے ذمہ دار ہیں۔ نگران حکومت قوم کے مینڈیٹ اور نظریات کی گورکن ثابت ہوئی۔‘

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ رجیم چینج کا ملک کو نقصان ہوا، معیشت نیچے گئی۔ فوٹو: سکرین گریب

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ ایک وقت کی روٹی کے محتاج ہو چکے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے قومی کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ اس وقت ملکی حالات تقاضا کر رہے ہیں کہ جامع مذاکرات کیے جائیں۔
محمود خان اچکزئی جو بھی اقدام لیں گے ہم ان کے ساتھ ہوں گے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم مظلوم ہیں، ہم سب کچھ کھو بیٹھے ہیں، ہمیں ننگی گالیاں دی گئیں۔‘

 

شیئر: