فلسطین کے بعد اقوامِ متحدہ کی ’غیرحاضری‘، بحرین کانفرنس کامیاب ہوگی؟

فلسطینی اتھارٹی پہلے ہی بحرین کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کر چکی ہے۔ تصویر: اے ایف پی
اقوام متحدہ نے امریکہ کے مجوزہ مشرقِ وسطی امن منصوبے کی حمایت میں آئندہ ماہ بحرین میں ہونے والی اقتصادی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے ایک امن منصوبے پر کام ہو ریا ہے جس کے تحت ’فلسطین میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا‘۔ 
تاہم اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق نے جمعرات کو کانفرنس میں شرکت سے متعلق دریافت کرنے پر بتایا ’اس مرحلے پر وہ نہیں جانتے کہ ان کا کوئی نمائندہ موجود ہو گا۔‘
اس سے قبل ترجمان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے کوارڈینیٹر برائے مشرق وسطیٰ نکولے میلادینوف کو 26-25 جون کو منامہ میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے لیکن وہ کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔

مشرق وسطیٰ امن منصوبے کا مسودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر تیار کر رہے ہیں۔ تصویر: اے ایف پی

اقوام متحدہ کے ترجمان نے بعد میں اپنے بیان کی وضاحت کی اور کہا کہ میلادینوف کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔
مشرق وسطیٰ کے بارے میں امن منصوبے کا مسودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر تیار کر رہے ہیں۔ فلسطینی پہلے ہی اس مسودے کو یہ کہہ کر مسترد کر چکے ہیں کہ اس کی تجاویز میں اسرائیل کو زیادہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے بارے میں مجوزہ منصوبے کا مقصد فلسطینیوں کو اقتصادی مواقع فراہم کرنا ہے، تاہم کشنر نے عندیہ دیا ہے ’ یہ منصوبہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے بین الاقوامی مطالبات کی حمایت نہیں کرے گا۔’
اقوام متحدہ کی کئی قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کا حل اور امن کا قیام اسرائیل اور فلسطین کی الگ الگ ریاستوں کے قیام کے ذریعے ممکن ہے۔

اقوام متحدہ کی کئی قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کا حل اسرائیل اور فلسطین کی الگ الگ ریاستوں کے قیام کے ذریعے ممکن ہے. تصویر: اے ایف پی

 فلسطینی اتھارٹی نے امریکی انتظامیہ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے بعد اس سے اپنے تعلقات منقطع کر لیے تھے اور پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ وہ بحرین کانفرنس کا بائیکاٹ کرے گی۔
اقوام متحدہ کے سفارت کار کہتے ہیں کہ انہیں توقع ہے ’کشنر پلان‘ ناکام ہو جائے گا تاہم یہ واضح نہیں کہ کس طریقہ کار کے ذریعے اسرائیل فلسطین امن عمل آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق وائٹ ہائوس کی جانب سے 20 مئی کو اعلان کیا گیا تھا کہ امریکہ بحرین کے دارالحکومت میں جون 26-25 کو ہونے والی کانفرنس کی بحرین کے ساتھ مشترکہ میزبانی کرے گا۔
اس مجوزہ کانفرنس کا مقصد صدر ٹرمپ کی مجوزہ مشرق وسطٰی امن منصوبے کی معاشی پہلوں کو اجاگر کرنا ہے۔
تنظیم آزادی فلسطین کے سیکرٹری جنرل صائب اراکات نے ایک بیان میں کہا، ’ہم سے کسی پارٹی نے بحرین کے شہر منامہ میں ہونے والے اجلاس سے متعلق رابطہ نہیں کیا اور نا ہی ہم نے کسی پارٹی کواپنی جانب سے بات چیت کرنے کے لیے مینڈیٹ دیا ہے۔‘

شیئر: