اسرائیلی فوج کے ’تہران کے مرکز‘ میں اہداف پر حملے
اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ اپنے حملوں کا دائرہ ایران کے دارالحکومت کے ’مرکز‘ تک وسیع کر رہا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے دوسرے روز بھی جاری رہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقبل پر شدید غیریقینی کی فضا قائم ہو گئی ہے، جبکہ خطے میں وسیع پیمانے پر عدم استحکام کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق اتوار کو تہران میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ اپنے حملوں کا دائرہ ایران کے دارالحکومت کے ’مرکز‘ تک وسیع کر رہا ہے۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ ’اسرائیلی دفاعی افواج تہران کے مرکز میں ایرانی حکومت سے وابستہ اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فضائیہ نے فضائی برتری حاصل کرنے اور تہران تک کارروائیوں کا راستہ ہموار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔‘
اسرائیلی فوج کے ہوم فرنٹ کمانڈ نے بتایا کہ ایرانی میزائل حملوں کے بعد شہری آبادی کی مدد کے لیے تقریباً 20 ہزار ریزرو اہلکاروں کو طلب کر لیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق ’کمانڈ نے تقریباً 20 ہزار ریزرو اہلکاروں کو طلب کیا ہے‘، جو گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں ہوم فرنٹ کمانڈ کی فورسز کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے خلیجی ممالک پر جوابی حملوں کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ اتوار کو دوسرے دن بھی دبئی اور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ عمان کو پہلی بار نشانہ بنایا گیا۔
خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ وہ خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا اور اس نے متعدد دیگر اہداف پر بھی حملے کیے۔
ایران کے نصف میزائل ذخائر تباہ کرنے کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کے تقریباً نصف میزائل ذخائر تباہ کر دیے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہر ماہ درجنوں زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل تیار کر رہا تھا۔
فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے بیان میں کہا کہ ’آپریشن کے دوران ہم نے ایرانی حکومت کے تقریباً نصف میزائل ذخائر کو تباہ کر دیا اور کم از کم 1500 اضافی میزائلوں کی تیاری کو روک دیا‘”
انہوں نے مزید کہا کہ ’حکومت حالیہ عرصے میں ہر ماہ درجنوں زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل تیار کر رہی تھی اور اس کا منصوبہ تھا کہ اس پیداوار کو بڑھا کر ہر ماہ سیکڑوں میزائل تک پہنچا دیا جائے۔‘
