پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان سرحدی جھڑپیں، فضائی حملے شدت اختیار کر گئے
پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان سرحدی جھڑپیں، فضائی حملے شدت اختیار کر گئے
اتوار 1 مارچ 2026 17:03
جمعرات سے شروع ہونے والی کشیدگی اس وقت بڑھی جب افغان فورسز نے سرحدی پٹی کے مختلف مقامات پر کارروائی کی (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان اور افغانستان کی افواج کے درمیان سرحدی علاقوں میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
افغان حکام اور مقامی رہائشیوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو اتوار کے روز تصدیق کی کہ دونوں جانب سے گولہ باری، ڈرون حملے اور فضائی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں ہلاکتوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
جمعرات سے شروع ہونے والی کشیدگی اس وقت بڑھی جب افغان فورسز نے سرحدی پٹی کے مختلف مقامات پر کارروائی کی، جس کے جواب میں پاکستان نے بھی زمینی اور فضائی حملے کیے۔ متعدد سرحدی اضلاع کے رہائشیوں نے بتایا کہ رات بھر گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔
افغان حکومت نے کہا ہے کہ مختلف صوبوں میں ڈرون حملوں اور شیلنگ سے کم از کم تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کابل کے شمال میں واقع بگرام ایئر بیس پر بھی فضائی حملوں کی اطلاع ملی، جہاں ایک مقامی رہائشی کے مطابق دھماکوں کی آوازیں پورے علاقے میں سنائی دیں اور صبح کے وقت دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔
افغان صوبائی ترجمان فضل الرحیم مسکین یار نے کہا کہ پاکستانی طیاروں نے مبینہ طور پر بگرام ایئر بیس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پاکستان نے اس سے قبل جمعے کو کابل اور قندھار سمیت اہم شہروں میں فضائی کارروائیوں کی تصدیق کی تھی، تاہم اتوار کے حملوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ کابل شہر میں بھی دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں جبکہ جگہ جگہ سکیورٹی چیک پوائنٹس میں اضافہ کر دیا گیا۔
افغان ترجمان حمداللہ فطرت کے مطابق جمعرات سے اب تک پاکستانی حملوں کے نتیجے میں 36 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کنڑ، خوست اور ننگرہار کے متعدد رہائشیوں نے بتایا کہ اتوار کی دوپہر بھی دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔
حالیہ جھڑپوں نے خطے میں امن کے امکانات کو مزید کمزور کر دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
تورخم بارڈر کراسنگ کے قریب بھی رات بھر جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جبکہ پکتیا اور کنڑ میں حالات بدستور کشیدہ بتائے جا رہے ہیں۔
سرحدی کشیدگی کے باعث درجنوں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ خوست کے ایک بے گھر شہری جاوید نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری پاکستان پر دباؤ ڈال کر جنگ بندی کو یقینی بنائے۔
حالیہ جھڑپوں نے خطے میں امن کے امکانات کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ جانی نقصان کے دعووں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، تاہم یہ جھڑپیں اکتوبر کے بعد سب سے زیادہ شدید تصور کی جا رہی ہیں۔