Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عالمی رہنماؤں کا ایرانی سپریم لیڈر کی موت اور ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں پر محتاط ردِعمل

ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ’ایرانی عوام کے لیے اپنا ملک واپس لینے کا سب سے بڑا موقع‘ قرار دیا (فوٹو: اے ایف پی)
دنیا بھر میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ یہ صورتحال کب تک رہے گی اور کیا کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا؟ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت اور جاری تنازع ہمارے لیے اور مجموعی عالمی سلامتی کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟
امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ سے لے کر پوری دنیا تک مختلف ملکوں کے رہنماؤں نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں پر محتاط ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے یہی سوالات اٹھائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ خامنہ ای مر چکے ہیں اور اسے ’ایرانی عوام کے لیے اپنا ملک واپس لینے کا سب سے بڑا موقع‘ قرار دیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار کی صبح 86 سالہ رہنما کی موت کی تصدیق کی، لیکن وجہ نہیں بتائی۔
اسرائیلی حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ خامنہ ای مر چکے ہیں، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک خطاب میں کہا کہ ایسے ’شواہد‘ ہیں کہ سنیچر کی صبح ان کے کمپاؤنڈ پر اسرائیلی حملے کے دوران وہ ہلاک ہوئے۔
شاید ٹرمپ کے ساتھ پہلے ہی کشیدہ تعلقات کو مزید بگاڑنے سے بچنے کے لیے کئی ممالک نے امریکی اور اسرائیلی حملوں پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، مگر تہران کی جوابی کارروائی کی مذمت کی۔ یورپی ممالک کی طرح مشرقِ وسطیٰ کی حکومتوں نے بھی ایران کے عرب ممالک پر حملوں کی مذمت کی جبکہ امریکی اور اسرائیلی حملوں پر خاموشی اختیار کی۔
کچھ ممالک زیادہ واضح تھے جیسے آسٹریلیا اور کینیڈا نے امریکی حملوں کی کھل کر حمایت کی، جبکہ روس اور چین نے براہ راست تنقید کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت پاکستان اور عوام غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں۔
اتوار کو وزیراعظم آفس کی طرف سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی موت پر حکومت اور عوام کی جانب سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ اور پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش بھی کرتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’روایات کے مطابق ریاستوں کے سربراہان کو ہدف نہیں بنایا جا سکتا۔‘
کچھ رہنماؤں کی مذاکرات کی اپیل

میکخواں نے کہا کہ فرانس کو حملوں کے بارے میں ’نہ آگاہ کیا گیا اور نہ شامل کیا گیا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

برطانوی وزیراعظم کیر سٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ایک مشترکہ بیان میں امریکہ اور ایران سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ اس کا حل بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایران پر حملوں میں حصہ نہیں لیا مگر امریکہ، اسرائیل اور علاقائی شراکت داروں سے رابطے میں ہیں۔
یہ تینوں ممالک ایران کے جوہری پروگرام کے حل کے لیے مذاکراتی کوششوں کے قائل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم ایران کے خطے میں حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ایران کو اندھا دھند فوجی کارروائیوں سے باز رہنا چاہیے۔ بالآخر ایرانی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔‘
بعد میں ایک ہنگامی سکیورٹی اجلاس میں میکخواں نے کہا کہ فرانس کو حملوں کے بارے میں ’نہ آگاہ کیا گیا اور نہ شامل کیا گیا۔‘ انہوں نے مذاکراتی کوششوں کو تیز کرنے کی اپیل کی۔
عرب ممالک کا ردِعمل
22  ممالک پر مشتمل عرب لیگ نے ایران کے حملوں کو ’امن کے خواہاں ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔ مراکش، اردن، شام اور متحدہ عرب امارات نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی میزائل حملوں کی مذمت کی۔

روس نے حملوں کو ’ایک منصوبہ بند اور بلاجواز مسلح جارحیت‘ قرار دیا (فوٹو: اے ایف پی)

شام، جو ماضی میں ایران کا قریبی اتحادی رہا ہے، نے بھی اس بار صرف ایران کی مذمت کی، جو ظاہر کرتا ہے کہ نئی شامی انتظامیہ علاقائی طاقتوں اور امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
سعودی عرب نے کہا کہ وہ ’ایرانی جارحیت اور خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی کی شدید مذمت کرتا ہے۔‘ اومان نے، جو ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالث رہا ہے، کہا کہ امریکی کارروائی ’بین الاقوامی قوانین اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔‘
محتاط زبان کا استعمال
نیوزی لینڈ نے مکمل حمایت سے گریز تو کیا، مگر کہا کہ امریکی اور اسرائیلی حملے ’ایرانی حکومت کو مسلسل خطرہ بنے رہنے سے روک رہے ہیں۔ ایرانی حکومت اپنے عوام کی حمایت کھو چکی ہے۔‘
یورپی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک نے احتیاط برتی تاکہ ایسا نہ لگے کہ وہ امریکہ کی یکطرفہ کارروائی کی حمایت یا مخالفت کر رہے ہیں۔
روس نے حملوں کو ’ایک منصوبہ بند اور بلاجواز مسلح جارحیت‘ قرار دیا۔ چین نے کہا کہ وہ ’انتہائی فکرمند‘ ہے اور فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر واپسی ضروری ہے۔
کینیڈا نے اس موقع پر امریکہ کی حمایت کرتے ہوئے ایران کو ’خطے میں عدم استحکام اور دہشت کا سب سے بڑا ذریعہ‘ قرار دیا۔

یورپی یونین اور عرب لیگ نے تمام فریقین سے تحمل، سفارت کاری اور خطے میں استحکام کی اپیل کی (فوٹو: اے ایف پی)

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی ہنگامی اجلاس طلب کیا۔
ناروے نے خبردار کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی ’ایک نئی اور بڑی جنگ‘ کو جنم دے سکتی ہے۔
یورپی یونین اور عرب لیگ نے تمام فریقین سے تحمل، سفارت کاری اور خطے میں استحکام کی اپیل کی۔

 

شیئر: