دبئی اور دوحہ میں دوسرے دن دھماکوں کی آوازیں، عمان کی دقم بندرگاہ کو ٹارگٹ کیا گیا
دبئی کے مشہور مقام ’دی پام‘ سے دھوئیں کے بادل اور شعلے اُٹھتے دکھائی دیے (اے ایف پی)
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے خلیجی ممالک پر جوابی حملوں کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ اتوار کو دوسرے دن بھی دبئی اور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ عمان کو پہلی بار نشانہ بنایا گیا۔
خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ وہ خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا اور اس نے متعدد دیگر اہداف پر بھی حملے کیے۔
دبئی کے میڈیا دفتر کے بیان کے مطابق دبئی میں دو افراد اُس وقت زخمی ہوئے جب فضا میں تباہ کیے گئے ڈرونز کے ٹکڑے دو گھروں پر گرے۔
دبئی میں دو افراد زخمی ہوئے جب روکے گئے ڈرونز کے ٹکڑے دو گھروں پر گرے۔
دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے، مشہور برج العرب ہوٹل اور پام جمیرہ کو بھی نقصان پہنچا۔
جبل علی بندرگاہ کے علاقے سے اتوار کو بھی گہرا سیاہ دھواں اُٹھتا رہا جہاں تباہ کیے گئے میزائل کے ملبے کی وجہ سے آگ لگ گئی تھی۔
سنیچر کے روز حملوں سے محفوظ رہنے والے ملک عمان کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق دقم کی تجارتی بندرگاہ کو دو ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک کارکن زخمی ہوا۔
ایک ڈرون کارکنوں کی رہائش گاہ پر گرا جس سے ایک غیر ملکی کارکن زخمی ہوا، جبکہ دوسرے ڈرون کا ملبہ ایندھن کے ٹینکوں کے قریب گرا مگر کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
دبئی مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا سیاحتی و تجارتی مرکز ہے اور اس کا ہوائی اڈہ دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے۔
قطر کی وزارتِ داخلہ نے اتوار کو کہا کہ وہ ایک صنعتی علاقے میں لگی محدود آگ پر قابو پا رہی ہے، جو فضا میں تباہ کیے گئے میزائل کے ملبے سے لگی۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بتایا کہ سنیچر کو پورے یو اے ای میں ایران نے 137 میزائل اور 209 ڈرون فائر کیے۔
ابوظبی کے ایئرپورٹ پر ایک واقعے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔
قطر میں حکام نے کہا ہے کہ ایران نے 65 میزائل اور 12 ڈرون قطر کی جانب داغے جن میں سے زیادہ تر کو روک لیا گیا تاہم ان حملوں میں آٹھ افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔
جب سنیچر کو ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں متعدد حملے شروع کیے تو دھماکوں نے خلیج کے شہروں کو ہلا کر رکھ دیا۔
ان حملوں کے نتیجے میں ابوظبی میں دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ دبئی کے مشہور مقام ’دی پام‘ سے دھوئیں کے بادل اور شعلے اُٹھتے دکھائی دیے۔
ان حملوں میں ابوظہبی، دبئی اور کویت کے ہوائی اڈوں کے ساتھ ساتھ خلیج میں فوجی اڈوں اور رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے بڑے پیمانے پر تنازع کے خدشات پیدا ہو گئے اور طویل عرصے سے امن اور تحفظ کی علامت سمجھے جانے والا خطہ بھی لرز اُٹھا۔
حکام نے بتایا کہ گرنے والے ملبے سے ابوظہبی میں ایک پاکستانی شہری ہلاک ہوا۔ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں چار جبکہ لگژری پام ڈویلپمنٹ میں بھی چار افراد زخمی ہوئے۔
دوحہ کی نرسنگ کی طالبہ ماہہ مانباز نے کہا کہ ’ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے لیے مستقبل کیسا ہوگا، اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگلے چند دن کیسے گزرنے والے ہیں۔‘
عینی شاہدین کے مطابق ابوظبی میں امریکی اڈوں اور بحرین کے دارالحکومت منامہ، جہاں امریکی نیوی کی پانچویں بیڑہ موجود ہے، سے دھواں اُٹھتا دیکھا گیا۔
منامہ کے جفیر علاقے میں امریکی اڈے کے قریب رہائش پذیر 50 سالہ شہری نے کہا کہ ’پہلے دھماکے کی آواز نے مجھے خوفزدہ کر دیا۔‘
کویت یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر بدر السیف سمجھتے ہیں کہ ’خلیجی ریاستیں ایران اور اسرائیل کے درمیان پھنس کر رہ گئی ہیں۔ ایران کے خلیج میں حملے غلط سمت میں ہیں۔ یہ صرف اس کے پڑوسیوں کو دور کریں گے اور ایران سے مزید فاصلوں کو بڑھائیں گے۔‘
خلیج میں تنازع غیرمعمولی ہے جو اپنے استحکام کی شہرت کی بدولت مشرق وسطیٰ کا تجارتی اور سفارتی مرکز بن چکا ہے۔
خلیج کے بیشتر رہائشی اس صورتحال پر صدمے میں ہیں۔ ریاض میں رہائش پذیر ایک لبنانی خاتون نے کہا کہ ’میں نے دھماکوں کی آواز سُنی اور مجھے نہیں معلوم میں نے کیا محسوس کیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم خلیج میں آئے کیونکہ اسے لبنان کی نسبت میں زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ اب میں واقعی نہیں جانتی کہ کیا کرنا ہے یا کیسے سوچنا ہے۔‘
