Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا سلمان علی آغا کو پاکستان کی ٹی20 ٹیم کی قیادت سے ہٹایا جائے گا؟

سلمان علی آغا کی انفرادی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
ٹی20 ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد پاکستان ٹیم کی قیادت ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے اور موجودہ کپتان سلمان علی آغا کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
سیمی فائنل تک رسائی کی امید آخری مرحلے تک برقرار رہنے کے باوجود ٹیم فیصلہ کن مواقع سے فائدہ نہ اٹھا سکی، جس کے بعد قیادت اور حکمت عملی دونوں پر تنقید ہو رہی ہے۔
پاکستان کی قومی خواتین ٹیم کی سابق کپتان اور معروف کرکٹ تجزیہ کار عروج ممتاز نے کرکٹ ویب سائٹ ای ایس پی این کرک انفو کو بتایا ہے کہ پاکستان کی ٹی20 قیادت کے حوالے سے ان کے ذہن میں واضح سوالیہ نشان موجود ہے۔
ان کے مطابق ’سلمان علی آغا کی قیادت میں پاکستان نے چار میچ جیتے اور دو میں شکست کھائی، جن میں انڈیا کے خلاف اہم میچ بھی شامل تھا۔ اگرچہ مجموعی نتائج بہت خراب نہیں تھے، تاہم بطور بیٹر سلمان علی آغا کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔‘
عروج ممتاز نے نشاندہی کی کہ ’سلمان علی آغا نے چھ اننگز میں صرف 60 رنز بنائے، جن میں سے 38 رنز ایک ہی میچ میں نمیبیا کے خلاف آئے۔ ان کا سٹرائیک ریٹ 130.43 رہا، جو ٹی20 کرکٹ کے معیار کے مطابق اوسط سمجھا جا سکتا ہے، لیکن ایک کپتان سے زیادہ تسلسل اور اثر انگیزی کی توقع کی جاتی ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’دباؤ والے لمحات میں فیلڈ سیٹنگ اور بولنگ تبدیلیوں کے حوالے سے بھی کپتان کی حکمت عملی کمزور دکھائی دی۔‘
عروج ممتاز کے مطابق ’موجودہ سکواڈ میں ایسا کوئی کھلاڑی فوری طور پر نظر نہیں آتا جو ہر کنڈیشن میں یقینی انتخاب ہو اور مضبوط قیادت کی اہلیت رکھتا ہو۔ صاحبزادہ فرحان اس وقت بہترین فارم میں ہیں لیکن ابھی قیادت کے لیے مکمل طور پر تیار دکھائی نہیں دیتے۔ اسی طرح شاداب خان، شاہین شاہ آفریدی اور بابر اعظم قیادت کا مرحلہ گزار چکے ہیں اور ان کے ادوار میں بھی تسلسل کا مسئلہ رہا۔‘

سلمان علی آغا نے چھ اننگز میں صرف 60 رنز بنائے (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس جانشینی کا کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں تو فی الحال سلمان علی آغا کو ہی کپتان برقرار رکھنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے بقول ’اگرچہ سلمان علی آغا نے بیٹنگ میں مایوس کیا اور چند حکمت عملی کی غلطیاں بھی ہوئیں، لیکن موجودہ حالات میں اچانک تبدیلی مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔‘
ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کو اب طویل المدتی قیادت کے منصوبے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا تاکہ آئندہ بڑے ٹورنامنٹس میں ٹیم ایک واضح حکمت عملی، مستحکم قیادت اور بہتر کارکردگی کے ساتھ میدان میں اتر سکے۔

شیئر: