عرب سٹریمنگ سروسز نیٹ فلیکس کے مقابلے پر

نیٹ فلیکس اپنی پہلی عربی سیریز جون سے ریلیز کررہا ہے۔( تصویر اے ایف پی)
مشرق وسطیٗ کی مقامی سٹریمنگ سروسز نیٹ فلیکس کے مقابلے پر آگئی ہیں جو اپنی پہلی پروڈکشن سیریز آئندہ ماہ جون سے ریلیز کریں گی۔
حالیہ سالوں میں’سٹارز پلے‘ اور ’ویوونیٹ فلیکس‘ نامی سٹریمنگ سروسزمقامی سطح پرمضبوط حریف کے طور پر سامنے آئی ہیں اور عرب ناظرین میں بے حد مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔
یہ سٹریمنگ سروسزعرب ناظرین کو متوجہ کرنے کے لیے ایک سال سے جنگ لڑ رہے ہیں اور اپنا یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کی توجہ کے مرکوز ہیں۔
’سٹارز پلے‘ تین سیریز ریلیز کررہا ہے جن میں عربی سیریز بھی شامل ہیں۔ سٹارز پلے عریبیہ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر معاذ شیخ نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’روایتی ٹیلی ویژن سے مقابلہ ہماری حکمت عملی اور ہمارا مقصد نہیں۔ ہم رمضان کے مہینے میں اپنے ناظرین کے لیے زیادہ سے زیادہ عربی مواد لانا چاہتے ہیں۔‘
نیٹ فلیکس نے بھی رمضان کے مہینے میں چار عربی سیریز ریلیز کی ہیں۔ یہ سیریز رمضان کے 30 دن کے لیے 30 اقساط پر مشتمل ہیں اور ہر دن ایک قسط نشر کی جاتی ہے۔
نیٹ فلیکس کے مشرق وسطیٰ، ترکی اور افریقہ کے لیے کمیونیکیشن مینیجرآرٹانک ساواز نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’رمضان کے مہینے میں ان سیریز کو اپنی فہرست میں شامل کرنے سے ہمارے ناظرین کو یہ سہولت مل گئی ہے کہ وہ جو دیکھنا چاہتے ہیں،جب دیکھنا چاہتے ہیں دیکھ سکتے ہیں۔‘

نیٹ فلیکس نے رمضان میں چار عربی سیریز ریلیز کی ہیں۔ (تصویر:اے ایف پی)

نیٹ فلیکس نے رمضان میں چار عربی سیریز ریلیز کی ہیں۔ (تصویر:اے ایف پی)  

مشرق وسطیٰ کئی سٹریمنگ سروسز جیسے ’او ایس این پلے‘ اور ’ویوو‘ عربی مواد پر مشتمل اپنی پروڈکشن فراہم کررہے ہیں  لیکن ’سٹارز پلے‘ اس خطے میں نیٹ فلیکس کا سب سے بڑا حریف ہے جس کے ایک ملین سبسکرائبرز ہیں۔
معاذ شیخ نے اپنے دبئی آفس سے بتایا کہ ’سٹارز پلے اپنی سٹریمنگ کو اپنے ناظرین کے لیے مزید مؤثر بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارا اگلا قدم اپنا عربی زبان میں مواد پیش کرنا ہے۔‘
واضح رہے کہ سٹراز پلے خلیج میں بہت سی مشہور سیریز نشر کررہا ہے جو نیٹ فلیکس پر تاحال دستیاب نہیں جن میں ’بگ بینگ تھیوری‘، ’گریز ایناٹومی‘ اور’مارول سپرہیروز‘ شوزشامل ہیں۔
سٹراز پلے کھے سی ای او کا کہنا ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ عربی مواد پیش کرنا چاہتے ہیں۔(تصویر:اے ایف پپی)
سٹارز پلے کے سی ای او کا کہنا ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ عربی مواد پیش کرنا چاہتے ہیں۔(تصویر:اے ایف پی)

امریکی ریسرچ فرم فروسٹ اینڈ سولیون کے ڈیجیٹل میڈیا کی سربراہ میوکل کرشنا کے مطابق مشرق وسطیٰ میں 85 سے 90 فیصد افراد ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں جبکہ 25 سے 30 فیصف لوگ آن لائن سٹریمنگ ویڈیوز دیکھتے ہیں جن کے ہزاروں سبسکرائبرز ہیں۔
13 جون کو نیٹ فلیکس اپنی پروڈکشن میں بننے والی پہلی سیریز ’جن‘ ریلیز کرے گا۔ جورڈن میں فلمائے جانے والی اس سیریز کی کہانی ان نوجوانوں کے گرد گھومتی ہے جو تاریخی شہر پیٹرا کے سفر کے دوران دو جنوں سے مقابلہ کرتے ہیں۔  
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ تجسس اور ایڈونچر سے بھرپور سیریز ہوگی۔

نیٹ فلیکس نے رمضان 2016 میں گرینڈ ہوٹل نامی عربی سیریز شروع کی تھی۔ تصویر: ٹوئٹر

نیٹ فلکس نے مشرق وسطیٰ کے لیے اپنی دوسری سیریز ’ال روابی سکول فار گرلز‘ کا بھی اعلان کیا ہے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ سیریز کب ریلیز ہوگی۔
ساواز نے بتایا کہ ’جورڈن کی مصنفہ اور ہدایتکار تیما شومالی کی لکھی گئی اور ان ہدایتکاری میں بننے والی اس سیریز کی کہانی لڑکیوں کے ہائی سکول کےگرد گھومتی ہے۔‘
کمپنی نے مئی میں اپنی پروڈکشن میں بننے والی تیسری عربی سیریز ’پیرانورمل‘ کا بھی اعلان کیا ہے جو مصری مصنف احمد خالد کے ناول سے ماخوز ہے۔

شیئر: