سعودی عرب میں رمضان کے بعد شیشہ کیفوں پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ

 وزارت صحت کے مطابق شیشہ بیچنے والوں کے لیے باقاعدہ لائسنس حاصل کرنا ہو گا۔
سعودی مجلس شوریٰ نے ملک میں شیشہ کیفوں پر عائد پابندی ختم کرکے بعض شرائط پر شیشہ رکھنے کی منظوری دی ہے۔
سعودی اخبار ’الاشرق الاوسط‘ کے مطابق ملک میں ہوٹلوں اور ریستورانوں کو اپنے گاہکوں کے لیے شیشہ رکھنے کی اجازت رمضان المبارک کے بعد دی جائے گی۔
ان شرائط کے مطابق حرمین شریفین کے مرکزی علاقوں میں شیشہ کیفے یا ان علاقوں میں قائم ہوٹلوں اور ریستورانوں میں شیشہ نہیں رکھا جاسکے گا۔
 وزارت صحت کی انسداد تمباکو نوشی کمیٹی کے مطابق ہوٹلوں اور ریستورانوں کو شیشہ پیش کرنے کے لیے باقاعدہ لائسنس حاصل کرنا ہو گا جس کے لیے ان مقامات پر جہاں شیشہ استعمال کیا جائے وہاں تازہ ہوا کی آمدورفت کا مکمل انتظام کرنا لازمی ہے۔


سعودی مرد شیشے میں تمباکو کا استعمال کرتے تھے (فوٹو:اے ایف پی)

وزارت صحت کی انسداد تمباکو نوشی کمیٹی نے مزید کہا ہے کہ’ ریستوران میں تمباکو نوشی کا پورشن مخصوص کیاجائے تاکہ جو افراد تمباکو نوش نہ ہوں انہیں تکلیف نہ پہنچے۔ 18 برس سے کم عمر بچوں کو شیشہ پیش کرنے کی ممانعت ہوگی۔‘ 
’شرق الاوسط‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی مجلس شورٰی میں شیشے کے حوالے سے بحث کے بعد شرائط پر اتفاق کرتے ہوئے وزارت صحت کی کمیٹی کو لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے جس کے بعد لائسنس حاصل کرکے شیشہ کیفو ں کا قیام اور ہوٹلوں میں شیشہ کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
واضح رہے گذشتہ برس قانون سازی کے بعد عوامی مقامات پر تمباکو نوشی کرنے پر 200 ریال جرمانہ عائد کیا گیا تھا جبکہ شہروں کے گنجان آباد علاقوں میں قائم قہوہ خانے جہاں شیشہ برسوں سے استعمال ہوتا تھا، کو ختم کرکے انہیں شہر کے مضافات تک محدود کر دیا گیا تھا۔



شہروں میں قائم شیشہ کیفے مکمل طور پر بند کر دیے گئے تھے۔ شیشہ کیفوں کے خلاف قانون سازی کے بعد بلدیہ نے ان تمام کیفوں کے لائسنس منسوخ کر دیے تھے جہاں محتلف اقسام کے شیشہ فراہم کئے جاتے تھے ۔
توقع ہے کہ شیشہ کیفوں پر بھاری ٹیکس بھی عائد کیا جائے گا جس کی منظوری وزارت صحت کی ذیلی کمیٹی برائے انسداد تمباکو نوشی دے گی اور اس کے بعد قانون کو جاری کیا جائے گا۔

شیئر: