Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دفاعی اخراجات میں کٹوتی کے فیصلے کو سراہتے ہیں: عمران

فوج کایہ بے مثال رضاکارانہ اقدام ہے:عمران خان: تصویر اے ایف پی
 پاکستان کی فوج نےآئندہ مالی سال کے بجٹ میں دفاعی اخراجات میں رضاکارانہ کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ فوج نے یہ فیصلہ ملک کی نازک معاشی صورتحال کی وجہ سے کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹر پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ میں کہا ہے کہ’ میں فوج کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اپنے دفاعی اخراجات میں کٹوتی کے فیصلےکو سراہتا ہوں۔ فوج کا یہ بے مثال رضاکارانہ اقدام ہے‘۔

عمران خان نےمزید کہا کہ ’فوج نے کئی سکیورٹی چیلنجز کے باوجود دفاعی اخراجات میں کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت یہ رقم قبائلی علاقوں اور بلوچستان کی ترقی پر خرچ کرے گی‘۔
پاکستانی میڈیا مطابق فوج نے راشن، سفری الاؤنس اور انتظامی اخراجات میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔اس پر عمران خان نے فوج کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ قومی ادارے کی حب الوطنی کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے پہلے پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ میں ایک برس کے لیے دفاعی بجٹ میں کٹوتی کا اعلان کیا۔
ٹویٹ میں بجٹ میں کٹوتی  کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایک سال کے لیے دفاعی بجٹ میں رضاکارانہ کمی سے دفاع اور سکیورٹی معاملات اثر نہیں پڑے گا۔
میجر جنرل آصف غفور نے بیان میں مزید کہا کہ تینوں مسلح افواج اس کٹوتی کے نتیجے میں ہونے والے اثرات سے مناسب اندرونی اقدامات کے تحت نٹ لیں گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’بلوچستان اور قبائلی علاقوں کی ترقی میں حصہ ڈالنا ضروری تھا۔‘

پاکستان ہر برس مالی بجٹ کا ایک بڑا حصہ دفاعی اخراجات کی مد میں مختص کرتا ہے

خیال رہے کہ گذشتہ برس مالی بجٹ میں دفاع کے لیے گیارہ سو روپے مختص کیے گئے تھے اور یہ 2017 کے بجٹ سے 10.2 فیصد زیادہ تھے۔
پاکستان میں ہر برس دفاعی بجٹ میں اضجفہ کیا جاتا ہے اور اس اضافے پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آتے ہیں کہ اس پیسے کو ملک میں غربت کے خاتمے، تعلیم اور صحت پر خرچ کیا جانا چاہیے تاہم حکومت خطے کی صورتحال کی وجہ سے دفاعی بجٹ میں اضافہ ناگزیر ہے۔

شیئر: