بحری جہازوں پر حملے کی ابتدائی رپورٹ:'ریاستی عناصر ملوث تھے‘

متحدہ عرب امارات کے ساحل پر چار آئل ٹینکرز پر حملے کی  ابتدائی عالمی تحقیقاتی رپورٹ سلامتی کونسل کو پیش کردی گئی ہے جس میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ حملے میں ریاستی عناصر ملوث تھے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق متحدہ عرب امارات کی سربراہی میں کی جانے والی ابتدائی رپورٹ میں بارہ مئی کو ہونے والے حملے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس میں کسی ریاست کے ملوث ہونے کا امکان ہے تاہم کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا۔
تحقیقات میں متحدہ عرب امارات کے علاوہ سعودی عرب اور ناروے شامل ہیں اور رپورٹ سلامتی کونسل کے 15رکن ممالک کے نمائندوں سے نیویارک میں ملاقات کے دوران پیش کی گئی۔
مشترکہ ابتدائی تحقیقات کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ' سعودی عرب کے 2آئل ٹینکرز، ناروے کے ایک آئل ٹینکر اور امارات کے سامان بردار جہاز پر حملوں میں انتہائی پیچیدہ سمندری بارودی سرنگیں استعمال کی گئیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان حملوں میں کوئی ریاستی عناصر ملوث ہیں۔‘

شاہ سلمان نے آئل ٹینکرز پر ہونے والے حملوں کا الزام ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں پر عائد کیا تھا

امارات کے دفتر خارجہ نے اطلاع دی تھی کہ چار تجارتی جہازوں پر اس کے علاقائی سمندر کے قریب حملہ کیا گیا۔ یہ واقعہ آبنائے ہرمز کے باہر پیش آیا۔جسے پیٹرول اور گیس کے حوالے سے انتہائی اہم آبی گزر گاہ مانا جاتا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ'کیمیائی تجزیے کی روشنی میں نقصان کا جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ حملے جدید انداز میں کیے گئے جس سے امکان ہے کہ اس میں ریاست کی سروسز ملوث تھیں۔~
متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور ناروے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ'جبکہ تحقیقات ابھی جاری ہیں، یہ حقائق اس بات کی ٹھوس نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ چار حملے ایک جدید اور منظم اور مربوط سے کیے جانے والے آپریشن کا نتیجہ تھے جس میں قابل ذکر آپریشنل صلاحیت موجود تھی، زیادہ امکان ہے کہ اس میں ریاستی عناصر شامل تھا۔‘

12 مئی کو متحدہ عرب امارت کے قریب سمندر میں تیل کے چار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا

متحدہ عرب امارات کی جانب سے دی جانے والے بریفنگ کے دوران سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ اس ابتدائی رپورٹ میں ایران کے ممکنہ کردار کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
سعودی عرب نے صحافیوں کو بتایا کہ قوی امکان ہے کہ ایران ہی ان حملوں کا مجرم ہے۔ اقوام متحدہ میں سعودی سفیر عبداللہ ال معلمی نےبریفنگ کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ’ہمارا ماننا ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری ایران کے کندھوں پر ہی ہے۔‘
ایران نے خود پر لگنے والے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ کویت تجارتی جہازوں پر حملوں سے متعلق پیش کردہ ابتدائی بین الاقوامی تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج پر بحث یا مشاورت کے لیے سلامتی کونسل اجلاس کب طلب کرے گا کیونکہ ان دنوں کویت ہی سلامتی کونسل کا سربراہ ہے۔

حملے میں ایران کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا جسے ایران نے مسترد کیا

تحقیقات میں شامل تینوں ممالک نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس حوالے سے کی جانے والی تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی نئی معلومات سے سلامتی کونسل کو آگاہ کرتے رہیں گے۔ خیال رہے کہ  ٹرمپ کے سخت گیر نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جان بولٹن نے بدھ کو کہا تھاکہ 12 مئی کو متحدہ عرب امارت کے قریب سمندر میں تیل کے چار جہازوں کی تباہی کی ذمہ دار ایرانی بحریہ کی بارودی سرنگیں تھیں۔ تہران نے بولٹن کے ان الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا۔
گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے شہر مکہ میں منعقد ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے متحدہ عرب امارات کی سمندری حدود میں آئل ٹینکرز پر ہونے والے حملوں کا الزام ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ’اس مقدس مہینے میں، سعودی عرب کے آئل ٹینکرز سمیت تجارت جہازوں کو متحدہ عرب امارات کی سمندری حدود میں شدت پسندوں نے نشانہ بنایا۔ اور یہ سمندری ٹریفک، علاقائی اور عالمی سکیورٹی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میں ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا نے آئل پمپ کرنے والے دو سٹینشز کو نشانہ بنایا۔‘
 

شیئر: