ہم بہترین حالات پیدا کر رہے ہیں لیکن پرامید نہیں کہ ایران کے عوام حکومت گرا دیں گے: صدر ٹرمپ کا اعتراف
ہم بہترین حالات پیدا کر رہے ہیں لیکن پرامید نہیں کہ ایران کے عوام حکومت گرا دیں گے: صدر ٹرمپ کا اعتراف
جمعہ 13 مارچ 2026 12:54
سخت گیر مذہبی رہنما مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد آیت اللہ سید علی خامنہ کی ہلاکت کے بعد اقتدار میں آئے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی قیادت کو ’بیوقوف اور نااہل‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں قتل کرنا ان کے لیے غیرمعمولی اعزاز کی بات ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ جمعے کو اپنے دوسرے ہفتے کے قریب پہنچ گئی اور خطے میں ڈرون اور میزائل حملوں کا شدید تبادلہ جاری رہا۔
حالیہ تنازع (جو فروری کے آخر میں ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں سے شروع ہوا تھا) میں اب تک دو ہزار سے زیادہ افراد جان سے جا چکے ہیں، لاکھوں لوگوں کی زندگیاں متاثر ہو چکی ہیں، اور دنیا بھر کی توانائی اور مالیاتی منڈیاں متاثر ہوئی ہیں۔
جمعے کی شب سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ’ایران کی دہشت گرد حکومت کو مکمل طور پر تباہ کر رہا ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمارے پاس بے مثال جنگی طاقت، لامحدود اسلحہ اور بہت وقت ہے، آج آپ یہ دیکھیے گا کہ ان بیوقوف اور نااہل لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ 47 سال سے دنیا بھر میں بے گناہ لوگوں کو قتل کر رہے ہیں اور اب میں، امریکہ کا 47 واں صدر ہونے کے ناتے، انہیں قتل کر رہا ہوں۔ یہ کرنا میرے لیے غیرمعمولی اعزاز کی بات ہے۔‘
نئے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو اپنے اولین بیان میں یہ عزم ظاہر کیا تھا کہ توانائی کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز بند رکھی جائے گی اور ہمسایہ ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود امریکی اڈے بند کریں، ورنہ ایران انہیں نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں آپ سب کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ ہم آپ کے شہداء کے خون کا بدلہ لینے میں کوئی کوتاہی نہیں برتیں گے۔‘
سخت گیر مذہبی رہنما مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد آیت اللہ سید علی خامنہ کی ہلاکت کے بعد اقتدار میں آئے ہیں جو اسرائیل کے ابتدائی حملوں میں مارے گئے تھے۔
ایران نواز مسلح گروہوں کے اتحاد اسلامک ریزسٹنس ان عراق نے اس طیارے کو مار گرانے کی ذمہ داری قبول کی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے نئے سپریم لیڈر کا بیان ایک ٹی وی میزبان نے پڑھ کر سنایا اور یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ خود منظرِ عام پر کیوں نہیں آئے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ معمولی زخمی ہوئے تھے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں وہ زندہ ہیں مگر ’شدید متاثر‘ ہوئے ہیں۔
اسرائیل کا گزشتہ روز ایران میں 200 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی 28 فروری کو ایران پر شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس کی اور ایران کے نئے سپریم لیڈر کو قتل کرنے کی بالواسطہ دھمکی دیتے ہوئے اس فوجی کارروائی کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’میں ان اقدامات کی تفصیل نہیں بتاؤں گا جو ہم کر رہے ہیں۔ ہم حکومت کو گرانے کے لیے بہترین حالات پیدا کر رہے ہیں، لیکن میں پورے یقین سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایران کے عوام حکومت کو گرا دیں گے اور حکومت اندر سے ہی گرتی ہے۔‘
’لیکن ہم یقینی طور پر مدد کر سکتے ہیں اور ہم مدد کر رہے ہیں۔‘
اسرائیلی فوج نے جمعے کو کہا کہ ’اس کی فضائیہ نے گزشتہ ایک دن میں مغربی اور وسطی ایران میں 200 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں بیلسٹک میزائل لانچر، فضائی دفاعی نظام اور اسلحہ بنانے کی تنصیبات شامل تھیں۔ یہ کارروائی ’آپریشن روئر آف دی لائن‘ کے نام سے کی جا رہی ہے۔‘
ایران نے جوابی ردِعمل کے طور پر اسرائیل پر رات بھر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کر دی، جس سے امریکہ اور اسرائیل کے اس دعوے کی حقیقت پر سوالیہ لگ گیا کہ انہوں نے ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے زیادہ تر ذخیرے کو تباہ کر دیا ہے۔
ایرانی میزائل نے شمالی اسرائیل میں ناصرہ کے قریب ایک بدو عرب قصبے کو نشانہ بنایا، جس سے کئی گھروں کو شدید نقصان پہنچا۔
اسرائیلی فوج نے جمعے کو کہا کہ اس کی فضائیہ نے گزشتہ ایک دن میں مغربی اور وسطی ایران میں 200 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیلی ایمبولینس سروس کے مطابق 58 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے ایک شدید زخمی ہے کیونکہ اسے بارودی ٹکڑوں کے زخم آئے جب کہ دیگر زخمیوں کو معمولی چوٹیں آئیں۔
عراق میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ’وہ ایک ایسے حادثے کے بعد ریسکیو کارروائی کر رہی ہے جس میں اس کا ایک ری فیولنگ طیارہ گر گیا۔ اس واقعے میں ایک اور طیارہ بھی شامل تھا لیکن یہ دشمن یا فرینڈلی فائر کا نشانہ نہیں بنا۔‘
ایران نواز مسلح گروہوں کے اتحاد اسلامک ریزسٹنس ان عراق نے اس طیارے کو مار گرانے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا ہے کہ ’شمالی عراق میں ایک حملے کے دوران ایک فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ اسی علاقے میں ایک اطالوی فوجی اڈے کو نشانہ بنائے جانے کے چند گھنٹوں بعد پیش آیا۔
دبئی کے مرکزی علاقے میں بھی ایک کامیاب فضائی دفاعی کارروائی کے بعد گرنے والے ملبے سے ایک عمارت کے بیرونی حصے کو معمولی نقصان پہنچا۔ امارت کے میڈیا دفتر نے جمعہ کی صبح بتایا کہ اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔
میڈیا دفتر نے مقام کی درست نشاندہی نہیں کی، تاہم ایک عینی شاہد کے مطابق دبئی انٹرنیشنل فنانشل سنٹر (دی آئی ایف سی)کے قریب ایک عمارت کو نقصان پہنچا۔
اس ہفتے کے آغاز میں سٹی گروپ اور سٹینڈرڈ چارٹرڈ سمیت کئی بینکوں نے اپنے عملے کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت دی اور دبئی میں اپنے بعض دفاتر خالی کرنا شروع کر دیے، جن میں ڈی آئی ایف سی کے دفاتر بھی شامل تھے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ اقدامات ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل سے منسلک خلیجی بینکاری مفادات کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد کیے گئے۔