حکومت مارتی بھی ہے رونے بھی نہیں دیتی: بلاول بھٹو زرداری

بلاول بھٹو زرداری کارکنوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ضیا الحق، پرویز مشرف کے پاکستان اور نئے پاکستان میں کوئی فرق نہیں۔
 پیر کو نیب کی جانب سے آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت ظلم پر اتر آئی، جو مارتی بھی ہے اور رونے بھی نہیں دیتی۔ ’یہ نیا پاکستان نہیں سنسر پاکستان ہے۔‘
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق صدر اور ان کی بہن فریال تالپور کی جعلی اکاؤنٹس کیس میں ضمانت توسیع کے لیے دائر درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد احتساب بیورو نے آصف زرداری کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ نیب کالا قانون ہے جو صرف اپوزیشن پر لاگو ہوتا ہے۔ ’یہ اسٹیبلشمنٹ کی بنائی کٹھ پتلی حکومت ہے۔‘
بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ یہ حکومت چلانے کے اہل نہیں، نواز شریف کے بعد  زرداری کو جیل بھیج دیا لیکن علیمہ خان کے لیے کلین چٹ ہے، جہانگیر ترین آج بھی ڈیفیکٹو وزیراعظم ہیں۔ ’آج اسمبلی میں مجھے تقریر نہیں کرنے دی گئی، ڈپٹی سپیکر کا رویہ انتہائی قابل مذمت تھا وہ فوری طور پر استعفیٰ دیں۔‘
اسلام آباد کی سڑکوں پر پیپلز پارٹی کی دو خواتین ارکان کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں زیرحراست رکھتے ہوئے بھی تشدد کیا گیا جو تمام آمرانہ ہتھکنڈے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نیب میں پیشی کے موقع پر کارکنوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دو ارکان اسمبلی کو گرفتار کیا گیا حالانکہ قانون یہ کہتا ہے کہ سپیکر کو مطلع کیا جائے مگر ایسا نہیں ہوا۔ ’ان کو پروڈکشن آرڈر پر پیش کرنے کا مطالبہ بھی پورا نہیں کیا گیا۔ جب پی پی کی طرف سے خط لکھا گیا تو سرے سے خط ہی غائب کر دیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہر شہری کو آئین اپنے دفاع کا حق دیتا ہے کہ وہ اپنا دفاع کرے اس کے بعد عدالت ٹرائل کرے، قومی و سندھ اسبملی کے اپوزیشن لیڈرز کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سلیکٹڈ عدلیہ، سلیکٹڈ میڈیا اور سلیکٹڈ اپوزیشن چاہتی ہے۔
آصف علی زرداری کی گرفتاری کے سوال پر بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جوڈیشل آرڈر کے بغیر ہی ٹیم گرفتاری کے لیے بھجوا دی گئی۔ ’ہم قانون پر عمل کرنے والے لوگ ہیں لیکن حکومت مسلسل قانون توڑ رہی ہے۔ آمرانہ ادوار کی طرح آج بھی بولنے کی اجازت نہیں، تب بھی عدالتیں آزاد نہیں تھیں، سازشوں کے ذریعے چیف جسٹس کو ہٹانے کی کوشش کی گئی اور آج بھی ججز کو ہٹانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ حکومت سب کے حقوق پر حملے کر رہی ہے، ہم ہر قدم  پر مزاحمت کریں گے۔‘
 

شیئر: