Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے ساتھ جنگ بندی، صدر ٹرمپ نے مذاکرات کی کوششوں کو مسترد کر دیا

وائٹ ہاؤس کے اہلکار نے بتایا کہ ’اس وقت صدر کو مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں‘ (فوٹو: روئٹرز)
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ممالک کی اُن کوششوں کو رد کر دیا ہے جن کا مقصد ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کا آغاز کرنا تھا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق معاملے سے واقفیت رکھنے والے ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس وقت مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ نے مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کو رد کر دیا ہے اور وہ ایران کی فوجی صلاحیت کو مزید کمزور کرنے کے لیے جنگ جاری رکھنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
اہلکار نے بتایا کہ ’اس وقت صدر کو مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور ہمارا مشن بغیر رکے جاری رہے گا۔ ممکن ہے کسی وقت بات چیت ہو جائے، لیکن ابھی نہیں۔‘
وائٹ ہاؤس کے ایک اور سینیئر اہلکار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں ممکنہ نئی قیادت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور بالآخر کریں گے۔ فی الحال، آپریشن ایپک فیوری بلا تعطل جاری ہے۔‘
جنگ کے پہلے ہفتے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ایران کی قیادت اور فوج اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ وہ بات چیت کرنا چاہتے ہیں، لیکن اب ’بہت دیر ہو گئی ہے۔‘
صدر ٹرمپ کی یہ خاصیت رہی ہے کہ وہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ وہ دوبارہ سفارتی مذاکرات کی راہ آزمانا چاہتے ہیں یا نہیں۔
اُدھر ایران نے بھی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے بند ہونے تک کسی بھی جنگ بندی کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ دو سینیئر ایرانی ذرائع نے بتایا کہ کئی ممالک اس تنازعے کو ختم کرنے کے لیے ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں۔
عمان، جو اس جنگ سے پہلے مذاکرات میں ثالثی کر رہا تھا، کئی بار رابطہ قائم کرنے کی کوشش کر چکا ہے۔
واشنگٹن اور تہران دونوں کی طرف سے مذاکرات میں دلچسپی نہ ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق طویل جنگ کے لیے تیار ہو رہے ہیں تاہم،اس جنگ میں عام شہریوں کی ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

 

شیئر: