آصف زرداری کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

آصف زرداری نے استدعا کی ہے کہ خرابی صحت کے پیش نظر انہیں دو اٹینڈنٹ فراہم کیے جائیں۔
قومی احتساب بیورو (نیب) کی حراست میں موجود سابق صدر پاکستان اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو آج دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب اسلام آباد کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
آصف زرداری کو  پیر کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے درخواست ضمانت مسترد ہونے پر نیب نے زرداری ہاؤس اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا۔
نیب نے آصف علی زرداری کو آج اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر 2 میں پیش کیا اور جج ارشد ملک سے ان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے قبول کرتے ہوئے عدالت نے چودہ کے بجائے دس روز کا ریمانڈ دے دیا۔
نیب کا کہنا ہے کہ اسے آصف زرداری کا جسمانی ریمانڈ درکار ہے، نیب نے ان سے جعلی بنک اکائونٹس کیس کی تفتیش کرنی ہے۔ نیب نے آصف زرداری کی گرفتاری کے لیے شواہد عدالت میں پیش کیے۔
احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر سے استفسار کیا کہ آصف زرداری کو کن بنیادوں پر گرفتار کیا گیا؟
اس پر نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کی گرفتاری کے لیے ان کے پاس آٹھ ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے ٹرانزیکشن کر کے غیر قانونی آمدن کو جائز کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ آصف زرداری نے فرنٹ مین اور جعلی اداروں کے ذریعے منی لانڈرنگ کی۔
آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے نیب کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نیب اس موقع پر گرفتار تو کیا وارنٹ بھی جاری نہیں کر سکتا تھا۔ سپریم کورٹ نے نیب کو تفتیش کے لیے دو ماہ کی مہلت دی تھی جو ختم ہو چکی ہے۔
فاروق ایچ نائیک نے مزید کہا کہ شفاف تفتیش سے ہی شفاف ٹرائل ہوتا ہے، نیب عدالت کو گمراہ نہ کرے۔
آصف زرداری کی پیشی کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر موجود ہے جبکہ نیب راولپنڈی کے دفتر کے باہر بھی سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جہاں سے آصف زرداری کو احتساب عدالت لے جایا گیا۔
دوسری جانب آصف علی زرداری نے ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی کو خط لکھا ہے کہ خراب صحت کے پیش نظر انہیں دو اٹینڈنٹ فراہم کیے جائیں۔


آصف علی زرداری کی گرفتاری سے قبل زرداری ہاؤس اسلام آباد کا منظر۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی نے ’اردو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے آصف علی زرداری کی جانب سے ڈی جی نیب راولپنڈی کو لکھے گئے خط کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری کو مختلف بیماریاں لاحق ہیں۔ 'دیکھیں آصف صاحب کی ایک میڈیکل ہسٹری ہے اور ان کی صحت کے مسائل ہیں۔ٗ'
سعید غنی نے کہا کہ آصف صاحب نے اپنے صحت کے مسائل کے پیش نظر اٹینڈنٹ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ آصف زرداری نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ اٹینڈنٹ ان کی صحت کی نگرانی کرتے ہیں اور وقت پر انہیں دوائیاں بھی دیتے ہیں۔
خط میں آصف علی زرداری نے مزید لکھا ہے کہ اگر انہیں اٹینڈنٹ کی سہولت فراہم نہ کی گئی تو ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
اسی حوالے سے نیب راولپنڈی کے ترجمان محمد بلال خان نے ’اردو نیوز‘ کو بتایا کہ آصف علی زرداری ایک ملزم کے طور پر نیب کی تحویل میں ہیں اور انہیں اے کلاس سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نیب ان کے خط کا جواب دینے کا پابند نہیں بلکہ بطور ملزم انہیں اضافی سہولیات لینے کے لیے  عدالت سے استدعا کرنی چاہیے۔ ہم صرف طبی سہولیات کی فراہمی کے پابند ہیں۔
آصف زرداری کی گرفتاری سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کا کہنا تھا کہ کراچی کے تمام اضلاع میں آج ان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے اپنے کارکنوں کو احتجاج پرامن رکھنے کی ہدایت کی ہے۔


بلاول نے آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد کہا تھا کہ جنہیں پھانسی گھاٹ اور بم دھماکوں سے نہیں جھکایا جاسکا وہ گرفتاری سے کیوں جھکیں گے؟

دوسری جانب پولی کلینک کی میڈیکل ٹیم نے احتساب عدالت پیشی سے قبل آصف زرداری کا طبی معائنہ کیا اور انہیں جسمانی ریمانڈ کے لیے مکمل فٹ قرار دے دیا ہے۔
گذشتہ رات پیپلزپارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ جنہیں پھانسی گھاٹ اور بم دھماکوں سے نہیں جھکایا جاسکا وہ گرفتاری سے کیوں جھکیں گے؟
انہوں نے کہا کہ آصف زرداری عدالتوں کا سامنا کرنے کو تیار ہیں، ہم قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔ بلاول کا کہنا تھا کہ ہم سب نے مل کر پاکستان کو مسائل سے نکالنا ہے، تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ رکھوں گا، مولانا فضل الرحمان جب اے پی سی بلائیں گے تو ہم شرکت کریں گے، ہم ڈرنے والے نہیں، آخری دم تک لڑیں گے، پاکستان اور انسانی حقوق کے لیے لڑتے رہیں گے۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد پیپلز پارٹی کے احتجاج پر ٹویٹ کے ذریعے ردعمل دیا ہے۔ فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ سندھ تک محدود ہونے والوں کی عوامی مقبولیت صفر بٹہ صفر ہے۔ ان کے سیاسی وجود کا اندازہ احتجاج کے لیے چند درجن افراد کے باہر نکلنے سے ہو گیا ہے۔

شیئر: