Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کم سرمایہ، زیادہ منافع: میڈیکل بلنگ پاکستانی نوجوانوں کی پہلی ترجیح کیوں بن رہی ہے؟

پاکستان میں حالیہ برسوں میں میڈیکل بلنگ کا شعبہ تیزی سے فروغ پا رہا ہے جس کی اہم وجہ فری لانسنگ بھی ہے۔
ملک میں جہاں کئی بڑی کمپنیاں ماہانہ لاکھوں ڈالر کما رہی ہیں، تو وہیں نوجوان بھی اپنے عملی کیریئر کا آغاز کرنے کے لیے اس فیلڈ میں قدم رکھ رہے ہیں۔
تاہم یہ جاننا ضروری ہے کہ میڈیکل بلنگ کا کاروبار کیا ہے اور نوجوانوں کی اس میں دلچسپی کیوں بڑھ رہی ہے؟
میڈیکل بلنگ سے مراد ہسپتال یا کلینک کی جانب سے مریض کے علاج کے اخراجات کی تفصیلات تیار کر کے انشورنس کمپنی کو بھیجنا اور اس کے بدلے ادائیگی وصول کرنا ہے۔
امریکہ اور کینیڈا میں ہسپتال اور طبی مراکز علاج کی فیس براہِ راست مریض سے وصول کرنے کی بجائے انشورنس کمپنیوں کے ذریعے وصول کرتے ہیں۔
اس دوران میڈیکل بلنگ کرنے والے کا کام یہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کے علاج کی تفصیلات کو مخصوص کوڈز میں تبدیل کیا جائے اور انشورنس کمپنی سے ادائیگی وصول کی جائے۔ سادہ الفاظ میں، میڈیکل بلنگ کے نظام کے تحت ہسپتال اور انشورنس کمپنی کے درمیان مالی لین دین کو منظم کیا جاتا ہے۔
میڈیکل بلنگ کا پاکستان میں فروغ 

پاکستان میں چھوٹی کمپنیاں بھی کم از کم 10 ہزار ڈالر ماہانہ کما سکتی ہیں: فائل فوٹو پکسابے

پاکستان میں میڈیکل بلنگ کا آغاز تقریباً سال 2000 کے بعد شروع ہوا، جب آئی ٹی اور بی پی او (بزنس پراسیس آؤٹ سورسنگ) انڈسٹری نے ملک میں فروغ پانا شروع کیا۔
سال 2001 کے بعد امریکہ میں ہیلتھ کیئر اور انشورنس سسٹم میں ڈیجیٹلائزیشن تیزی سے بڑھی، جس کے نتیجے میں بیرونِ ملک کمپنیوں کو سروسز آؤٹ سورس کرنے کا رجحان بھی بڑھ گیا۔
اسی دوران پاکستان میں چند نجی آئی ٹی کمپنیوں نے امریکی کلینکس اور ہسپتالوں کے لیے میڈیکل بلنگ اور کوڈنگ کی خدمات فراہم کرنا شروع کیں۔
بعد ازاں یہ شعبہ زیادہ منظم انداز میں ترقی کرنے لگا اور پاکستان کے مختلف شہروں، بالخصوص کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں کال سینٹرز اور بی پی او کمپنیوں کے قیام کے ساتھ، فری لانسنگ پلیٹ فارمز کے پھیلاؤ نے اسے گھریلو سطح تک پہنچا دیا۔
ہم نے اس سلسلے میں پاکستان کے چند انٹرپرینیورز سے گفتگو کی، جو میڈیکل بلنگ کے بزنس میں کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ عمر شعیب بھی ایک ایم ٹیگ بلنگ کمپنی کے مالک ہیں۔
عمر شعیب 10 سال قبل بلنگ کمپنی میں بطور سی ایس آر کام کرتے تھے، اور آج وہ 20 سے 25 افراد پر مشتمل اپنی ایک درمیانے درجے کی کمپنی چلا رہے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’انہوں نے جب ملازمت شروع کی تھی تو ان کی آمدنی 20 سے 25 ہزار روپے ماہانہ تھی، تاہم اب ان کی ماہانہ آمدن لاکھوں روپے تک پہنچ چکی ہے۔‘

مریکہ اور کینیڈا میں ہسپتال اور طبی مراکز علاج کی فیس براہِ راست مریض سے وصول کرنے کی بجائے انشورنس کمپنیوں کے ذریعے وصول کرتے ہیں: فائل فوٹو پکسابے

عمر شعیب نے میڈیکل بلنگ کی کمپنی شروع کرنے کے حوالے سے بتایا کہ ’ابتدا میں مختلف کمپنیوں میں کام کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ بزنس کی مکمل سمجھ بوجھ حاصل کی جا سکے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ یہ ضوابط امریکہ کے لیے ضروری نہیں لیکن پاکستان میں کمپنی کو پہلے ایس ای سی پی میں رجسٹر کروانا پڑتا ہے، اس کے بعد ایف بی آر  سے ٹیکس رجسٹریشن اور این ٹی این نمبر حاصل کرنا پڑتا ہے۔‘
’کمپنی کے نام پر پاکستانی بینک میں بزنس اکاؤنٹ ہونا بھی لازمی ہے، اور اگر امریکی کلائنٹس سے ڈالر میں ادائیگی لینی ہو تو فارن کرنسی اکاؤنٹ یا آن لائن ادائیگی کے لیے پے اونیئر کا اکاؤنٹ ضروری ہوتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کے بعد فری لانسنگ یا بی پی او پلیٹ فارم پر کام کرنے کے لیے کمپنی کی پروفائل تیار کی جاتی ہے۔ بعض اوقات امریکی کلائنٹس یو ایس بیسڈ آئی آر ایس  فارم ڈبلیو-ایٹ مانگ سکتے ہیں، جس کے لیے کمپنی اور مالک کے ٹیکس کی تفصیلات تیار ہونی چاہییں۔‘
عمر شعیب کے مطابق مریضوں کے حساس ڈیٹا کی حفاظت کے لیے ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کی پابندی بھی لازم ہے۔کمپنی کے ملازمین کو اس حوالے سے بنیادی تربیت  دی جاتی ہے تاکہ وہ کلائنٹس کے ساتھ مؤثر انداز میں کام کر سکیں اور سروسز کے تمام پہلوؤں کو بخوبی سمجھیں، جس کے لیے انگریزی زبان پر مہارت ضروری ہے۔
اسلام آباد میں مقیم میڈیکل بلنگ کمپنی کے ساتھ کام کرنے والے نوجوان عاطر آزاد کے مطابق، امریکہ کے لیے میڈیکل بلنگ میں انفرادی طور پر کام نہیں کیا جا سکتا، بلکہ کمپنی کو امریکہ میں ایل ایل سی کے طور پر رجسٹر کروانا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’ایل ایل سی بنانے کے بعد کمپنی کی ویب سائٹ اور دیگر سرٹیفکیشنز بھی کلائنٹس کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔‘ 
انہوں نے آمدنی کے حوالے سے بتایا کہ ’چھوٹی کمپنیاں بھی کم از کم 10 ہزار ڈالر ماہانہ کما سکتی ہیں، جبکہ بڑی کمپنیاں ڈیڑھ سے دو لاکھ ڈالر تک ماہانہ کماتی ہیں۔‘


فری لانسرز ایسوسی ایشن کے مطابق  پاکستان میں ڈالر کی ادائیگی کے محدود آپشنز کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے: فائل فوٹو پکسابے

راولپنڈی سے ہی تعلق رکھنے والے عزیر محمد خان، جو میڈیکل بلنگ میں ایک دہائی سے کام کر رہے ہیں، بتاتے ہیں کہ ’اس کاروبار میں رسک بھی ہے۔‘
’تاہم، کلائنٹس کے لیے اعتماد اور مریضوں کے ڈیٹا کی حفاظت بنیادی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ ریسورسز کے ذریعے یہ ڈیٹا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں بھی ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کے قوانین موجود ہیں جو ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بناتے ہیں۔‘
عزیر محمد کے مطابق، یہ شعبہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ ایشیا کے دیگر ممالک جیسے سری لنکا، بنگلہ دیش اور انڈیا میں بھی مقبول ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ان ممالک بشمول پاکستان میں سستی لیبر کی وجہ سے امریکہ اور کنیڈا سے کلائنٹس اپنا بزنس آؤٹ سورس کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف کاروباری حضرات کو فائدہ ہو رہا ہے بلکہ کلائنٹس کی لاگت بھی کم ہو رہی ہے۔‘
’ایک کمپنی چار ہزار میڈیکل طالبات کو روزگار فراہم کر رہی ہے‘
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ابراہیم امین کا بھی میڈیکل بلنگ کا بزنس یقیناً فروغ پا رہا ہے، لیکن اس میں متعدد چیلنجز بھی موجود ہیں۔
اُنہوں نے بتایا کہ ’نوجوان خصوصاً شام /رات کے اوقات میں فری لانسنگ کر رہے ہیں، اور وہ ذاتی طور پر ایک کمپنی کو جانتے ہیں جس نے پاکستان کے مختلف شہروں سے 4 ہزار خواتین کو فری لانسنگ کے ذریعے ملازمت فراہم کی ہوئی ہے۔‘
انہوں نے شعبے کے چیلنجز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سب سے اہم مسئلہ پیمنٹ ہے، کیونکہ پاکستان میں ڈالر کی ادائیگی کے محدود آپشنز موجود ہیں اور زیادہ تر ادائیگیاں پے اونیئر کے ذریعے کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، انٹرنیٹ اور بجلی کے مسائل، اور امریکی اور پاکستانی وقت کے فرق کی وجہ سے بھی اکثر رات کے اوقات میں کام کرنا ایک اہم چیلنج بن جاتا ہے۔‘
ماہرین کے مطابق، نوجوان اس شعبے کی طرف اس لیے زیادہ راغب ہو رہے ہیں کیونکہ میڈیکل بلنگ میں کم سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے اور گھر بیٹھے کام کرنے کی سہولت اور بیرونِ ملک کلائنٹس سے اچھی آمدنی کے مواقع موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، فری لانسنگ پلیٹ فارمز نے اس کاروبار کو نوجوانوں کے لیے اور بھی آسان اور پرکشش بنا دیا ہے۔

 

شیئر: