Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں سولر لگانے کی ’حوصلہ شکنی‘، صارفین کے ’آف گرڈ‘ آپشنز کیا؟

پاکستان میں پچھلے کچھ عرصے میں حکومتی سطح پر پالیسیوں میں بظاہر سولر سسٹم لگانے کی حوصلہ شکنی جیسے اقدامات تواتر سے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
حال میں وفاقی ادارے پاور پلاننگ اور مانیٹرنگ کمپنی نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو سولر سسٹم لگانے کے حوالے سے کچھ نئی کڑی شرائط رکھنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔  
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کو شمسی توانائی کے نظام کی تنصیب کے حوالے سے لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ اب اگر کسی ٹرانسفارمر پر سولر جنریشن کا بوجھ 80 فیصد تک پہنچ جائے تو نئے سولر کنکشنز کی منظوری روک دی جائے۔
وزارت توانائی کی جانب سے یہ شرط صرف لاہور تک محدود نہیں۔ دیگر ڈسٹری بیوشن کمپنیاں جیسے آئی ایسکو، میپکو اور فیسکو بھی اسی پالیسی پر عمل کی پابند ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان نئی ہدایات کا مطلب ہے کہ  اب سولر سسٹم کو ٹرانسفارمرز کے لوڈز سے مشروط کر دیا گیا ہے۔
ٹرانسفارمر کی 80 فیصد شرط ہے کیا؟
لیسکو اور دیگر کمپنیوں کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اگر کسی ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمر کی گنجائش کا 80 فیصد حصہ سولر جنریشن سے بھر جائے تو نئی درخواستوں کو مسترد کر دیا جائے گا۔
250 کلو واٹ سے بڑے سسٹمز کے لیے لازمی لوڈ فلو سٹڈی بھی کروائی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے رہائشی اور کمرشل علاقوں میں جہاں 2024-25 کے دوران سولر لگوانے کے رجحان میں اضافہ ہوا تھا، اب نئے صارفین کے لیے راستہ مسدود ہو جائے گا۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ شرط ریورس پاور فلو، وولٹیج میں اضافے اور گرڈ کی حفاظت کے لیے لگائی ہے۔
شمسی توانائی سے متعلق أمور کے ماہر یاسر صدیقی کہتے ہیں کہ ’حکومت کو چاہیے کہ گرڈز کی مجموعی گنجائش بڑھائے۔ نہ کہ سسٹم کی سیچوریشن کا ملبہ سولر صارفین پر ڈالا جائے۔ یہ شرط منظم طریقے سے سولر سسٹم لگانے والوں کو متاثر کر رہی ہے کیونکہ بغیر گرڈ کنکشن کے سسٹم مہنگا اور کم موثر ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں آپ کہہ رہے کہ سولر سسٹم لگا کر گرڈ سے منسلک نہ کریں مجھے تو اس سے زیادہ کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ ہم دیکھ رہے کہ حکومت پہلے لوگوں کو سولر کی طرف راغب کر رہی تھی اب حوصلہ شکنی کر رہی ہے۔‘
سولر سسٹم لگانے کی ’حوصلہ شکنی‘ کرنے والے بڑے فیصلے:
اگر دیکھا جائے تو اس ’حوصلہ شکنی‘ کا اب تک کا سب سے بڑا فیصلہ گزشتہ سال دسمبر میں  نیپرا کے پروزیومر ریگولیشنز سے ہوا جب نیٹ میٹرنگ کے قوائد بدل دیے گئے۔ اس سے پہلے 2015 کے نیٹ میٹرنگ قوانین کے تحت صارفین اپنی اضافی سولر یونٹس کو گرڈ میں بھیج کر بالکل اسی ریٹ پر آف سیٹ کر سکتے تھے جس پر وہ بجلی خریدتے تھے۔ ایک یونٹ بھیجا تو ایک یونٹ کا بل کم۔ اس پالیسی کے تحت  لاکھوں گھروں اور کاروباری افراد نے سولر لگایا اور بجلی کی بچت سے فائدہ اٹھایا۔

پاکستان کا انرجی سیکٹر گردشی قرضے میں جکڑا ہوا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

تاہم اب نئی پالیسی نے اسے ختم کر دیا ہے۔ اب نیٹ بلنگ کا قانون لاگو ہے جس کے تحت  گرڈ سے لی گئی بجلی پورے ٹیرف پر، جبکہ سولر سے گرڈ میں بھیجی گئی بجلی صرف 11 سے 13 روپے فی یونٹ پر خریدی جائے گی۔ پرانے صارفین کے لیے ابتدا میں ریٹرو ایکٹو تبدیلی کا منصوبہ تھا لیکن عوامی احتجاج اور وزیر اعظم شہباز شریف کی مداخلت کے بعد پرانے کنٹریکٹس والوں کو استثنیٰ مل گیا۔ نئے صارفین پر یہ لاگو ہے۔
 ایک اور صورت حال جو کہ اس حوصلہ شکنی کی طرف اشارہ کرتی ہے وہ ہے گرین میٹرز کی قلت۔ گزشتہ برس سے گرین میٹرز (بائی ڈائریکشنل میٹرز) کی مارکیٹ میں کمی کا سامنا ہے۔ یاسر صدیقی کہتے ہیں کہ ’لاکھوں درخواستوں کے باوجود میٹر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے تنصیبات میں مہینوں کی تاخیر ہوئی۔ بلکہ اب موجودہ گرین میٹرز کو مہنگے اے ایم آر میٹرز جن کی قیمت 52 ہزار روپے ہے  سے تبدیل کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ یہ بھی ایک اور اضافی بوجھ ہے جو صافین پر ڈالا گیا ہے۔‘
خیال رہے کہ گزشتہ بجٹ میں حکومت نے درآمد شدہ سولر پینلز پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی تھی۔ اس سے پہلے سولر آلات پر ٹیکس چھوٹ تھی جو 2024 تک جاری رہی۔ پارلیمانی کمیٹیوں نے شدید مخالفت کی۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹیوں نے کہا کہ یہ مڈل کلاس اور ماحولیاتی تحریک پر حملہ ہے۔ جس کے بعد ٹیکس 18 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دیا گیا۔ اس اقدام کو بھی حکومت کی مجموعی پالیسی تبدیلی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
محمد فرخ جو کہ سولر بجلی کے کاروبار سے وابستہ ہیں کہتے ہیں کہ ’یہ ٹیکس اب بھی ہے۔ پینلز کی قیمت میں 10-12 فیصد اضافہ ہوا۔ جبکہ عالمی مارکیٹ میں پینلز سستے ہو رہے تھے، پاکستان میں مہنگے ہو گئے۔  حکومت نے ہمیں کہا کہ یہ ٹیک درآمد پر لگایا ہے کہ مقامی صنعت کو فروغ دینا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مقامی مینوفیکچرنگ ابھی نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن عام صار پر  سولر سسٹم کی مجموعی لاگت بڑھ گئی ہے۔‘
حکومت کا مسئلہ کیا ہے؟
انرجی سیکٹر ماہرین کہتے ہیں کہ یہ تمام اقدامات بلاوجہ نہیں۔ یاسر صدیقی کہتے ہیں کہ ’اصل مسئلے کی جڑ  پاکستان کا پاور سیکٹر سرکلر ڈیٹ کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ آزاد بجلی پیدا کرنے والے (آئی پی پیز) کے ساتھ کیے گئے ٹیک اینڈ پے معاہدے۔ آئی پی پیز کو چاہے بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، کیپیسٹی پیمنٹس ادا کرنے پڑتے ہیں۔ تو حکومت اب ان کو بیلنس کرنے کے لیے سولر کو تختہ مشق منا رہی ہے۔ لیکن یہ دیرپا حل نہیں ہے۔‘

پاکستان میں گھریلو صارفین کے لیے گزشتہ برسوں میں بجلی کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

خیال ہے کہ سولر بوم نے گرڈ کی طلب کم کر دی۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق  2024-25 میں تقریباً 6 گیگا واٹ نیٹ میٹرڈ سولر شامل ہوا۔ گرڈ سے بجلی کی خرید کم ہوئی لیکن آئی پی پیز کو ادائیگیاں جاری رہیں۔ باقی صارفین (جو سولر نہیں لگا سکتے) پر بوجھ بڑھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کراس سبسڈی پیدا کر رہا تھا۔ امیر اور مڈل کلاس سولر لگا کر بل بچا رہے تھے، غریب اور نان سولر صارفین مہنگی بجلی خرید رہے تھے۔
نیپرا کا تخمینہ ہے کہ اگر نیٹ میٹرنگ جاری رہتا تو نان سولر صارفین پر 3-4 روپے فی یونٹ اضافی بوجھ پڑتا۔ اس لیے پالیسی تبدیل کی گئی تاکہ سولر خود استعمال پر ہو، اس کی ایکسپورٹ کو روکا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بجائے حوصلہ شکنی کے، گرڈ کو سولر کے لیے تیار کیا جائے۔ سولر سٹوریج (بیٹری) پر سبسڈی دی جائے۔ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو نجکاری یا اصلاح کی جائے۔ سولر اب بھی فائدہ مند ہے لیکن صرف خود استعمال کے لیے۔ ہائبرڈ سسٹم، بیٹری سٹوریج اور آف گرڈ آپشنز بڑھ رہے ہیں۔ حکومت اگر سولر کو فروغ دینا چاہتی ہے تو ٹرانسفارمر اپ گریڈیشن، نیٹ بلنگ میں بہتر ریٹس دے۔

شیئر: