ایران کو بتایا کہ اسلام آباد، ریاض کے درمیان ’سٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ‘ ہے: اسحاق ڈار
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان ایک ’سٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ‘ موجود ہے اور اس حوالے سے (پاکستان نے) ایران کو حالیہ جنگ شروع ہوتے ہی یاد دہانی کروا دی تھی۔‘
منگل کو سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ’ہم سعودی عرب کے ساتھ ایک سٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ کر چکے ہیں جس کا ساری دنیا کو پتہ ہے۔ میں نے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے بھائیوں کو، جو لیڈرشپ میں ہیں ایران میں انہیں آگاہ کیا کہ برائے مہربانی اس (معاہدے) کو ذہن میں رکھیں۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی ذمہ داری کو نبھایا ہے اور آگے بھی نبھائے گا۔ ہم نے بیک ڈور میں رہتے ہوئے بہت سفارتی کوششیں کی ہیں تاکہ معاملہ سُلجھ جائے۔
’پوری کوشش ہے کہ آواز اُٹھائی جائے اور انہیں آمادہ کیا جائے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت سفار کاری اور مذاکرات کی طرف آیا جائے۔‘
منگل کو اسحاق ڈار اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ خلیجی ممالک سے 35 ہزار پاکستانیوں کے انخلاء کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جونہی حملہ ہوا، انہوں نے فوری طور پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا اور گزشتہ تین دنوں میں فلسطین، ایران، سعودی عرب، بنگلہ دیش، مالدیپ، عمان، متحدہ عرب امارات، عراق، بحرین اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے بات چیت کی۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف نے بھی مختلف سربراہانِ مملکت سے رابطے کیے تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے۔‘
’ایران کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور ردعمل سے گریز کرے تاکہ جنگ کا دائرہ وسیع نہ ہو۔‘
اس سے قبل اسحاق ڈار نے ایوان بالا (سینٹ) میں اپنے خطاب میں کہا کہ ہم فرض سمجھ کر ایران جنگ رکوانے کی سفارتی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی عوام کو بھی اس بات کو سمجھنا چاہیے۔ اپنے ملک میں حالات خراب کرنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ آپ کی حکومت ایران جنگ رکوانے کی ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے۔‘
