موجودہ حالات میں مشرق وسطیٰ کا سفر، کون سی باتیں ذہن میں رکھنا ضروری ہے؟
موجودہ حالات میں مشرق وسطیٰ کا سفر، کون سی باتیں ذہن میں رکھنا ضروری ہے؟
بدھ 4 مارچ 2026 11:33
جنگ کی وجہ سے ایئرلائنز کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد بننے والی صورت حال میں مشرق وسطیٰ میں فضائی سفر بری طرح متاثر ہوا ہے اور ہزاروں لوگ پھنسے ہوئے ہیں تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ صورت حال کب تک چلےگی۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ماہرین نے اس امر پر زور دیا ہے کہ آنے والے کئی دنوں بلکہ ہفتوں تک شیڈولڈ پروازوں میں مسلسل خلل پڑنے کا امکان ہے اور اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں کیونکہ خلیجی ممالک کے ہوائی اڈے یورپ، افریقہ اور ایشیا کے دیگر ممالک میں جانے والوں کو کنکٹ کرتے ہیں۔
خطے میں فضائی حدود کی بندش کے بعد بہت سی فضائی کمپنیوں نے یا تو پروازیں منسوخ کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے یا پھر طویل روٹس اختیار کرنے پر مجبور ہیں، اس کی وجہ سے آپریشن کے اخراجات بڑھتے ہیں اور ٹکٹوں کی قیمتیں بھی بڑھتی ہیں۔
ماہرین کی جانب سے مسافروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ جس حد تک ممکن ہو غیر ضروری سفر کو ملتوی کریں اور حفاظت کے حوالے سے دیے جانے والے مشوروں پر نظر رکھیں۔
فلائٹ سیفٹی فاؤنڈیشن کے صدر اور سی ای او حسن شاہدی کا کہنا ہے کہ ’یہ کسی عام تاخیر کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسے خطے کی فضائی حدود کی کہانی ہے جہاں جنگی صورت حال ہے۔‘
انہوں نے مسافروں کو فضائی سفر کے حوالے سے اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ کیریئرز، ہوائی اڈوں اور حکومت کی طرف سے جاری ہونے والی ہدایات مسلسل تبدیل ہو سکتی ہیں، اس لیے ہر کچھ دیر بعد ان کو چیک کرنا چاہیے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں مسافروں کو غیریقینی کی صورت حال کی امید رکھنی چاہیے۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے کئی ممالک میں حملے کیے ہیں۔
ایران کے حملوں کے بعد سے ہزاروں کی تعداد میں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں (فوٹو: اے پی)
ان حالات میں ماہرین پورے خطے کے مسافروں کے لیے حفاظتی رہنمائی اور خود کو اپ ڈیٹ رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔
کچھ ممالک نے سفر کے حوالے سے ہدایات اور ہنگامی انخلا کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے پیر کو تمام امریکی شہریوں پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طورپر ایران، اسرائیل، لبنان، عمان، فلسطین، اردن، کویت، عمان، شام، سعودی عرب، یو اے ای اور یمن سے کسی بھی طرح نکل جائیں جبکہ چین، اٹلی، فرانس اور جرمنی کی جانب سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے ضمن منظم طور پر متحرک ہوئے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ مسافروں کو یہ امر یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے پاس سفارت خانوں کی جانب سے آنے والی معلومات تازہ ترین ہوں جبکہ اگر ممکن ہو تو سفر کو بھی ملتوی کیا جانا بھی دانشمندی ہے۔
شاہدی کا کہنا تھا کہ ’اگر سفر اختیار ہے تو اس ملتوی کرنے پر غور کریں تاہم اگر ضروری ہو تو یہ یقینی بنائیں کہ آپ کو قابل واپسی اور قابل تبدیلی ٹکٹ ملیں۔‘
پروازوں کی منسوخی کی وجہ سے ہزاروں مسافر پھنس گئے ہیں (فوٹو: اے پی)
اس وقت بہت سی ایئرلائنز رقم کی واپسی کے حوالے سے درخواستیں وصول کر رہی ہیں اور مفت ری بکنگ کی پیشکش بھی کر رہی ہیں تاہم ایسی چیزیں مخصوص تاریخوں یا روٹس کے لیے ہیں اس لیے مسافروں کو مکمل معلومات کے لیے کیریئرز کی ویب سائٹ پر جا کر خود معلومات حاصل کرنی چاہییں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر سفر بہت ضروری ہو تو مسافروں کو قابل واپسی ٹکٹ ہی لینا چاہیے۔
مسافروں کی جانب سے ٹکٹوں کی قیمت میں اضافے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں جن کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ طلب اور رسد ہے کیونکہ حالیہ دنوں کے دوران ہزاروں کی تعداد میں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جبکہ کمپنیز کو لمبے روٹس پر بھی جانا پڑ رہا ہے۔
اسی طرح جنگ شروع ہونے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے اور اس کا اثر بھی ٹکٹ پر پڑتا ہے۔