Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آبنائے ہرمز کی بندش، پاکستان کی سعودی عرب سے بحیرہ احمر کی بندرگاہ کے ذریعے تیل کی ترسیل کی درخواست

بیان کے مطابق ’سعودی ذرائع نے یانبع بندرگاہ کے ذریعے سپلائی کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی‘ (فوٹو: حکومت پاکستان)
پاکستان نے سعودی عرب سے درخواست کی ہے کہ وہ بحیرۂ احمرکی یانبُع بندرگاہ کے ذریعے خام تیل کی سپلائی کو یقینی بنانے میں مدد کرے کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے ملک میں توانائی کی رسد متاثر ہو سکتی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ درخواست ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ایران اور عمان کے درمیان اس اہم گزرگاہ کو خلیج میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔
اس بندش سے دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں سے ایک پر ٹینکروں کی نقل و حرکت کو شدید متاثر کیا ہے۔
عالمی سطح پر تیل کی کُل ترسیل کا لگ بھگ پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے جس میں سعودی عرب، عراق، کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر کی برآمدات شامل ہیں۔
پاکستان کا زیادہ تر انحصار مشرقِ وسطیٰ کے خام تیل پر ہے اور اس کی زیادہ تر توانائی درآمدات اسی راستے سے گزرتی ہیں،، اس لیے وہاں کسی بھی تعطل سے ملک میں ایندھن کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کے ساتھ اسلام آباد میں ملاقات کے دوران وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پاکستان کی توانائی کی سپلائی چین برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا۔
سعودی عرب نے عندیہ دیا کہ بحیرۂ احمر میں واقع یانبع بندرگاہ کے ذریعے سپلائی کا بندوبست کیا جا سکتا ہے، جو خلیج کی بحری راہداریوں کی بندش کی صورت میں ایک مؤثر متبادل ثابت ہوگا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی ذرائع نے بحیرۂ احمر کی یانبع بندرگاہ کے ذریعے سپلائی کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی ہے، جو توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
’پاکستان روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے، کیونکہ پاکستان کی زیادہ تر توانائی کی رسد آبنائے ہرمز کے راستے ملک میں پہنچتی ہے۔‘
سعودی سفیر نے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’مملکت صورتحال سے آگاہ ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پاکستان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔‘
سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طویل عرصے سے اقتصادی اور سٹریٹجک تعلقات ہیں، اور ریاض اسلام آباد کے اہم توانائی سپلائرز میں سے ایک ہے۔

 

شیئر: