Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے والے خوشحال خان کاکڑ کون ہیں؟

خوشحال خان کاکڑ سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ کے بیٹے ہیں (فوٹو: پشتونخوا نیپ)
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی (پشتونخوا نیپ) کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے منگل کو قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔
32 سالہ خوشحال خان کاکڑ سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ کے بیٹے ہیں اور وہ پہلی دفعہ قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔
ان کی یہ کامیابی تقریباً دو سال پر محیط عدالتی اور قانونی جنگ کے بعد ممکن ہوئی۔
27 فروری کو جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بلوچستان سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 251 پر جمعیت علمائے اسلام کے مولانا سمیع الدین کی کامیابی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے خوشحال خان کاکڑ کو کامیاب قرار دیا۔
عدالت میں ان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ فارم 45 اور فارم 48 کے درمیان تضاد کا ہے۔ ان کے مطابق دس پولنگ سٹیشنز پر فارم 45 کے نتائج کے برعکس ہر سٹیشن پر تقریباً 100 ووٹ کم دکھائے گئے جبکہ مخالف امیدوار کے ووٹوں میں اضافہ کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے خوشحال کاکڑ کے پیش کردہ فارم 45 کو درست تسلیم کیا۔
یاد رہے کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات میں ژوب، قلعہ سیف اللہ اور شیرانی پر مشتمل اس نشست پر جمعیت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے مولوی سمیع الدین کو کامیاب قرار دیا گیا تھا جس کے خلاف خوشحال کاکڑ نے نتائج کو چیلنج کیا۔
الیکشن ٹربیونل نے 22 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ گنتی کا حکم دیا  جس میں 3 جون 2025 کو خوشحال کاکڑ کو 4439 ووٹوں کی برتری حاصل ہوئی۔ تاہم ٹربیونل نے دوبارہ انتخاب کا حکم دیا جسے خوشحال کاکڑ نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جہاں عدالت عظمیٰ نے ان کے حق میں فیصلہ سنایا۔
خوشحال خان کاکڑ کون ہیں؟
خوشحال خان کاکڑ پشتون قوم پرست جماعت پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے بانی چیئرمین ہیں۔ یہ جماعت دسمبر 2022 میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے الگ ہونے والے رہنماؤں نے قائم کی تھی۔ 2024 کے عام انتخابات ان کے لیے پہلا انتخابی معرکہ تھا اور اب وہ اپنی جماعت کے پہلے رکن قومی اسمبلی بن گئے ہیں۔
خوشحال کاکڑ نے فارمین کرسچن کالج لاہور سے بی ایس اکنامکس اور اسلام آباد سے ایکسٹرنل لاء کی ڈگری حاصل کی۔ وہ زمانہ طالب علمی میں پشتون سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے وابستہ رہے۔
وہ سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ کے بیٹے ہیں جو جون 2021 میں کوئٹہ میں اپنے گھر میں پراسرار طور پر زخمی پائے گئے اور بعد ازاں کراچی کے آغا خان اسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کے اہل خانہ اور جماعت کا دعویٰ ہے کہ انہیں ان کے سیاسی مؤقف کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔

والد کے انتقال کے بعد خوشحال خان کاکڑ نے عملی سیاست میں قدم رکھا (فوٹو: قومی اسمبلی)

ان کے والد تقریباً چار دہائیوں تک پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے وابستہ رہے اور ان کے سرکردہ رہنماؤں اور محمود خان اچکزئی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔
ان کے والد مارچ 2015 سے مارچ 2021 تک سینیٹ کے رکن رہے جہاں انہوں نے لاپتہ افراد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے حساس موضوعات پر کھل کر آواز اٹھائی۔
والد کے انتقال کے بعد خوشحال خان کاکڑ نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔ ابتدا میں محمود خان اچکزئی نے انہیں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا صوبائی سیکریٹری اطلاعات مقرر کیا، تاہم ڈیڑھ سال بعد ہی پارٹی میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے۔ پارٹی کے کئی سرکردہ رہنماؤں نے پہلے الگ دھڑا اور پھر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے نام سے باقاعدہ الگ جماعت قائم کرکے خوشحال خان کاکڑ کو اس کا سربراہ بنایا۔
2024 کے عام انتخابات میں خوشحال خان کاکڑ نے آبائی حلقے کے علاوہ پشین سے قومی اسمبلی کی نشست پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف بھی انتخاب لڑا تھا، تاہم کانٹے دار مقابلے کے بعد مولانا فضل الرحمان کامیاب قرار پائے۔ اس حلقے میں محمود خان اچکزئی نے مولانا فضل الرحمان کے حق میں حمایت کا اعلان کیا تھا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق خوشحال خان کاکڑ کی موجودہ سیاسی کامیابی کے پیچھے ان کے والد عثمان خان کاکڑ کی بعد از مرگ عوامی مقبولیت کا بھی نمایاں اثر ہے۔

ان کے سابق سیاسی قائد محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں سخت تقاریر اور بولنے کے الگ انداز کے لیے جانے جاتے ہیں (فوٹو: قومی اسمبلی)

خوشحال کاکڑ اپنے والد کی طرح پشتونوں کے حقوق بالخصوص بلوچستان میں پشتونوں کے لیے برابری یا ’جنوبی پشتونخوا‘ کے نام سے بلوچستان کے پشتون علاقوں پر مشتمل الگ صوبے کے قیام کے نعرے پر سیاست کرتے ہیں۔
اسی طرح ان کی جماعت کے منشور میں پاکستان میں پشتونوں سمیت تمام صوبوں کی زیادہ سے زیادہ خودمختاری، سیاست میں غیر سیاسی عناصر کی مداخلت کی روک تھام اور افغانستان و ہمسایہ ممالک میں مداخلت کے خاتمے جیسے مطالبات شامل ہیں
ان کے سابق سیاسی قائد محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں سخت تقاریر اور بولنے کے الگ انداز کے لیے جانے جاتے ہیں اور ان کے والد بھی کھل کر اپنے مؤقف کا اظہار کرتے تھے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اب نا تجربہ کاری اور کم عمری کے باوجود خوشحال کاکڑ سے بھی ایسی توقعات کی جارہی ہیں جس کے باعث وہ دباؤ میں رہیں گے۔

 

شیئر: