’بھگت سنگھ قتل کے مقدمے میں نامزد ہی نہیں تھے‘

بھگت سنگھ کو 23 مارچ 1931 کو لاہور میں پھانسی دی گئی
پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر لاہور کی پولیس نے مقامی عدالت میں وہ ایف آئی آر پیش کر دی ہے جو 1928 میں ایک انگریز افسر جوہن سانڈرز کے قتل پر درج کئی گئی تھی اور اسی مقدمے کی بنیاد پر تحریک آزادی کے ہیرو بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو سزائے موت دی گئی۔
ایف آئی آر بھگت سنگھ میموریل فاونڈیشن کی درخواست پر جاری کیے گئے ایک عدالتی حکم پر پیش کی گئی۔ اردو میں لکھی گئی ایف آئی آر دو نامعلوم حملہ آوروں سے متعلق ہے جس میں ایک پولیس اہلکار مدعی ہے۔
ایف آئی آر 17 دسمبر 1928 کو شام سات بجے لاہور کے تھانہ انارکلی میں درج کی گئی۔ ایف آئی آر میں بھگت سنگھ، راج گرو یا سکھ دیو نامزد ملزمان نہیں ہیں۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مقدمے کے مدعی پولیس اہلکار نے صرف ایک حملہ آور کا خاکہ کچھ ایسے بتایا۔ ’آدمی جس کا میں نے پیچھا کیا تقریباً پانچ فٹ پانچ انچ ہے درمیانہ قد اوسطا ہندو چہرہ والا چھوٹی بھوری مونچھیں، پتلا اور مضبوط جسم والا سفید پاجامہ اور سیاہی میل کرتا پہنا ہوا تھا۔ ملزم چھوٹی سی سیاہ رنگ کی کرسٹی قسم کی ہیٹ پہنے ہوئے تھا۔‘

بھگت سنگھ کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر کا عکس 

ایف آئی آر کا منظر عام پر لایا جانا اس مقدمے کی کڑی ہے جو لاہور ہائی کورٹ میں بھگت سنگھ میموریل فاونڈیشن کی جانب سے دائر کیا گیا ہے۔ اس مقدمے میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے بھگت سنگھ اور ان کے دوستوں کے خلاف برطانوی راج میں چلایا گیا مقدمہ بدنیتی پر مبنی اور قانونی طور پر انتہائی کمزور تھا چونکہ اب عدالتیں آزاد ہیں لہذا مقدمے کو دوبارہ پڑھا جائے اور دستیاب شواہد کی بنا پر انہیں بے گناہ قرار دیا جائے۔
چیئرمین بھگت سنگھ میموریل فاونڈیشن ایڈووکیٹ امتیاز قریشی نے ’اردو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا مقدمہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے. اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لئے انہیں اس ایف آئی آر کی ضرورت تھی۔ ’میں نے سانڈرز کے قتل کی ایف آئی آر نکلوانے کی بڑی کوشش کی لیکن پولیس ریکارڈ ڈھونڈنا نہیں چاہتی تھی پھر میں نے سیشن عدالت سے رجوع کیا تو بالآخر پولیس نے ایف آئی آر پیش کر دی‘
امتیاز قریشی کا کہنا تھا کہ 90 سال بعد ہم اس ایف آئی آر کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوئے ہیں جو بھگت سنگھ اور ساتھیوں کی سزائے موت کا باعث بنی۔ ’میرا خدشہ درست تھا ایف آئی آر نامعلوم دو افراد کے خلاف ہے جبکہ مقدمے میں تین افراد کو پھانسی دی گئی۔ پراسیکیوشن کی کہانی میں اتنے جھول ہیں کہ کوئی بھی آزاد عدالت اس ہر یقین نہیں کر سکتی اور یہی اس وقت ہمارا مقدمہ ہے‘
امتیاز قریشی نے بتایا کہ ایف آئی آر اردو میں ہاتھ سے لکھی گئی تھی لیکن اب پولیس نے کمپیوٹرائزڈ خطاطی سے اس کی ایک کاپی بنائی ہے۔ اب اس ایف آئی آر کو لاہور ہائی کورٹ میں جاری مقدمے کا حصہ بنا دیا گیا۔ امتیاز قریشی کا کہنا تھا کہ اس وقت مقدمے میں چار سو پچاس گواہان کو سنا ہی نہیں گیا اور نہ ہی پراسیکیوشن کے گواہان پر جرح کرنے دی گئی۔

شیئر: