بہن کا جنازہ چھوڑ کر ڈوبتی خواتین کو بچانے والا کارکن

خیبر پختونخوا ریسکیو 1122 کے غوطہ خوروں کی فائل فوٹو
گھر میں بہن کا جنازہ چھوڑ کر صوابی کے ڈیم میں ڈوب جانے والی تین بہنوں کو بچانے کی کوشش کرنے والے سرکاری امدادی اہلکار کو سوشل میڈیا پر خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا ریسیکیو 1122 کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ ظاہر شاہ نامی تیراک صوابی کے کندل ڈیم میں ڈوب جانے والی تین بہنوں کی تلاش کے لیے جاری آپریشن میں شامل تھے۔ اس دوران انہیں اطلاع ملی کہ ان کی ہمشیرہ انتقال کر گئی ہیں جن کا جنازہ ہونا ہے لیکن ظاہر شاہ نے اپنے فرائض کی ادائیگی ادھوری چھوڑ کر واپس جانے سے انکار کر دیا۔
پیغام میں ظاہر شاہ کے جذبہ کو سراہتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’شاید اس سے کسی کو فرق نہ پڑے لیکن دنیا کے لیے مثال ہے‘۔
 

ریسیکیو 1122 کے پیغام کے بعد ایک صارف نے توجہ دلائی کہ شاید وہ چھٹی نہ ملنے کی وجہ سے نہیں جا سکے ہوں گے تاہم صوبائی ادارے کی جانب سے وضاحت کی گئی کہ ظاہر شاہ کو چھٹی دے دی گئی تھی لیکن وہ اپنا کام ادھورا چھوڑ کر واپس جانے پر آمادہ نہ ہوئے۔
خبر سامنے آنے کے بعد ظاہر شاہ کے فیصلے کو سراہنے والوں نے انہیں قابل تقلید مثال قرار دیا۔ ٹوئٹر صارفین تین ڈوبتی بہنوں کو بچانے کو اپنی بہن کے جنازے پر ترجیح دینے پر ظاہر شاہ کی ہمت اور حوصلے کو سراہتے رہے۔
وقار عزیز نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’یہ لوگ ہمارے ہیرو ہیں۔ یہ نہ حکومت اور نہ ہمیں نظر آتے ہیں۔ سلیوٹ ہے ظاہر شاہ‘۔
قائمخانی نامی صارف نے ظاہر شاہ کو کمٹمنٹ پورا کرنے والا فرد قرار دیتے ہوئے شعر لکھا کہ ’وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا، ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی۔‘
 

ظاہر شاہ کے جذبہ کی تعریف کرنے والوں میں بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی شامل رہے۔
سعودی عرب میں مقیم جہاں زیب نامی اسسٹنٹ پروفیسر نے ظاہر شاہ کی ہمشیرہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے لکھا کہ ’جو لوگ اس طرح کا دل، تربیت اور ہدایت رکھتے ہیں وہ اپنا کام تعریف سننے کے لیے نہیں کرتے‘۔
ظاہر شاہ کی تصویر پر تبصرہ کرنے والوں میں سے بعض صارفین نے امدادی کارکنوں کو دستیاب حفاظتی سہولتوں کی کمی پر نکتہ چینی بھی کی۔
مدیحہ سید نامی صارف کا کہنا تھا کہ آکٹوپس سمیت دیگر حفاظتی آلات کہاں ہیں؟ ’یوں محسوس ہوتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ان کے پاس آکسیجن کی فراہمی کا متبادل ذریعہ نہیں ہے۔‘
 

ظاہر شاہ کی جانب سے ذاتی دکھ پر ’کال آف ڈیوٹی‘ کو ترجیح دینے کو سراہنے والے صارفین پرامید ہیں کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی ایسے کارکنوں کی وجہ سے بہتر ہو سکتی ہے۔

شیئر:

متعلقہ خبریں