پاک افغان کشیدگی: چین کی ثالثی میں جنگ بندی اور تحمل کی اپیل، بیجنگ کے خصوصی مندوب کا دونوں ممالک کا ہنگامی دورہ
پاک افغان کشیدگی: چین کی ثالثی میں جنگ بندی اور تحمل کی اپیل، بیجنگ کے خصوصی مندوب کا دونوں ممالک کا ہنگامی دورہ
پیر 16 مارچ 2026 15:33
وانگ ای نے واضح کیا کہ ’طاقت کا استعمال صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دے گا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ثابت ہو گا۔‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
چین نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اس کے خصوصی مندوب نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ مہلک سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک میں ایک ہفتہ گزارا ہے تاکہ کشیدگی کو کم کرنے اور فوری جنگ بندی کے لیے ثالثی کی جا سکے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی لڑائی کے بعد سے مسلسل تناؤ کا شکار ہیں جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دولتِ اسلامیہ (داعش) کے خراسان چیپٹر کے عسکریت پسندوں کو پناہ دے رہے ہیں جو پاکستان میں خونریز حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں، تاہم افغان حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
اگرچہ پاکستان خطے میں چین کا قریب ترین شراکت دار ہے لیکن بیجنگ خود کو افغانستان کا ایک ’دوست پڑوسی‘ بھی قرار دیتا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے معمول کی بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ چین اپنے چینلز کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تنازع کو حل کرنے کے لیے مستقل ثالثی کر رہا ہے۔
بیجنگ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق افغان امور کے خصوصی مندوب یو شیاؤ ینگ نے سات سے 14 مارچ کے دوران دونوں ممالک کے دورے کیے۔
کابل میں انہوں نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی اور وزیر تجارت سے ملاقاتیں کیں جبکہ پاکستان میں سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سمیت اعلیٰ حکام سے تبادلہ خیال کیا۔
چین کے افغان امور کے خصوصی مندوب یو شیاؤ ینگ نے سات سے 14 مارچ کے دوران دونوں ممالک کے دورے کیے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
چینی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’مندوب نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ پرامن رہیں، تحمل کا مظاہرہ کریں اور فوری طور پر مخاصمت ختم کر کے مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات حل کریں۔ اس سفارتی کوشش کے تسلسل میں چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے بھی جمعہ کو افغان ہم منصب امیر خان متقی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں انہوں نے مفاہمت کے لیے اپنی فعال کوششیں جاری رکھنے کا وعدہ کیا۔‘
وانگ ای نے واضح کیا کہ ’طاقت کا استعمال صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دے گا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ثابت ہو گا۔‘ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بھی چینی مندوب کے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مشاورت میں افغانستان سمیت علاقائی امن کے معاملات زیرِ غور آئے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ تنازع رواں برس 26 فروری کو اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب پاکستان کی جانب سے کی گئی فضائی کارروائیوں کے جواب میں افغانستان نے سرحدی کارروائی شروع کی۔
اس کے بعد پاکستان نے طالبان حکام کے خلاف ’اعلانِ جنگ‘ کرتے ہوئے اگلے ہی روز کابل پر بمباری کی تھی۔
چین نے اپنے ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ منصوبے کے تحت پاکستان میں نقل و حمل، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے جبکہ گزشتہ برس مئی میں انڈیا کے ساتھ مختصر تنازع کے دوران پاکستان نے چین ساختہ جنگی طیارے اور فوجی ساز و سامان بھی استعمال کیا تھا۔
تاہم سنہ 2021 میں کابل میں طالبان کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد بیجنگ ان کے لیے بھی ایک اہم ترین شراکت دار بن کر ابھرا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ اس وقت خطے میں ایک متوازن ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔