ورلڈ کپ: ’لیکن ٹیم کو کچھ نہ کہیں! بوائز پریشر میں تھے‘

’سنی دیول کا ڈایئلاگ ہے نا ’ تاریخ پر تاریخ‘، وہی اس کرکٹ ٹیم پر سجتا ہے۔‘ فوٹو: ٹوئٹر
مجھے آج تک 1999 کے ورلڈ کپ کی ہاریاد ہے۔ 132 پر پوری پاکستانی ٹیم ڈھیر ہو گئی۔ بولنگ میں ہمارے کھلاڑیوں نے پھر بھی کوشش کی کہ شاید کچھ ہو جائے لیکن کوئی معجزہ نہ ہو سکا۔ بہت تکلیف ہوئی تھی مجھے۔ بہت بولی تھی میں ٹیم کو۔ لیکن سب نے کہا، ’ٹیم کو کچھ نہ کہو ماہو، بوائز پریشر میں تھے۔‘ یہ جملہ اور اس کی گونج اب تک میرے کانوں میں ہے کیونکہ تب سے لے کر اب تک، ہماری ٹیم کی پرفارمنس ہی اتنی بیزار رہی ہے۔ موہالی میں بھارت کے خلاف جو ہوا اس کے بعد بھی لوگوں نے کہا ’ٹیم کو کچھ مت کہو۔‘ اور اب بھی بھارت کے خلاف بیٹنگ ڈھیر ہونے پر ہر کوئی اپنے پسندیدہ کھلاڑی کے حق میں بولنے لگا اور کہتا رہا ’ٹیم کو کچھ مت کہو۔‘ اب میں ٹیم کو تو کچھ کہہ نہیں سکتی، تو مجھے اپنے ماں باپ سے ہی شکایت ہو گئی کہ مجھے اس دن کے لیے پیدا کیا تھا؟
وہ جیسے سنی دیول کا ڈائیلاگ ہے نا ’ تاریخ پر تاریخ‘، وہی اس کرکٹ ٹیم پر سجتا ہے۔ ’ہار پر ہار‘، ہم اتنا ہارے ہیں پچھلے دو تین ماہ میں کہ اب میں نے یسو، پنجو، ہار، کبوتر ڈولی میں ہار کو پاکستان کے نام سے بدل دیا ہے۔ یسو، پنجو، پاکستان، کبوتراورڈولی!

’کمنٹیٹر سے لے کر شائقین تک، سب کا ایک ہی سوال تھا: سرفراز کون سا پراٹھہ کھا کر آئے ہیں جو اتنی نیند میں ہیں‘ فوٹو: آئی سی سی

کہنے کو بہت کچھ ہے پر میں آج خصوصاً سرفراز، جن کی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں ہے اور آج یہ ثابت ہو گیا، کے بارے میں بات کروں گی۔ بارش سے میچ رکا اور دوبارہ شروع ہوا۔ سرفراز سٹمپ سنبھالنے کے لیے آئے۔ اور تھوڑی دیر بعد وہ وکٹوں کے پیچھے جماہیاں لیتے نظر آئے۔ صرف ایک بار نہیں، دو بار۔ کمنٹیٹر سے لے کر شائقین تک، سب کا ایک ہی سوال تھا: سرفراز کون سا پراٹھہ کھا کر آئے ہیں جو اتنی نیند؟ سرفراز احمد کی جماہی سے مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ میں کیوں کرکٹ پر ضائع ہو رہی ہوں جب میرا کپتان ہی اتنا بیزار اور بور ہو رہا ہے؟ لیکن ٹیم کو کچھ نہ کہنا۔
حسن علی کو اتنی پھینٹی پڑی، لیکن سرفراز بار بار اس سے بال کرواتے رہے۔ وہ کہتے ہیں نا ’پیڑے کوڑے ونگر پھس جانا۔‘ وہ والا حال تھا۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ حسن علی کی صحیح بال کرانے میں دلچسپی نہیں ہے اور وہ مسلسل یہی سوچ رہے ہیں کہ اگر وکٹ گری تو میں خوشی کس سٹائل میں مناؤں گا، لیکن سرفراز بھی حسن سے بال کروائی جا رہے ہیں۔ لیکن نہیں ٹیم کو کچھ نہیں کہنا۔
پھر آج سرفراز اچانک اوپر آ کر بیٹنگ کرنے لگے۔ ہم جو دو مہینے سے گلا پھاڑ رہے تھے کہ اوپر آ کر بیٹنگ کریں، وہ آج کے انتہائی اہم میچ میں اچانک اوپر آ گئے۔ اور آئے بھی ہیلمنٹ کے بغیر۔ میں سمجھی آج 500 سکور کہیں نہیں گیا، کپتان کا موڈ غصے والا ہے۔ تھوڑی ہی دیر بعد سرفراز واپس پویلین میں تھے۔ انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ جہاں مرضی کھلا لو، میں نہیں کھیلتا۔ لیکن ٹیم کو کچھ نہ کہنا۔

’خدارا ایک بات مان جائیے، سرفراز کی واقعی اس ٹیم میں کوئی جگہ نہیں۔‘ فوٹو: ٹوئٹر

شعیب ملک جن کو میں دامادِ ہند بھی کہتی ہوں، کیا آدمی ہیں۔ انگلینڈ میں 25 کی ایورج ہونے کے باوجود ٹیم میں ہیں۔ 2023 کے ورلڈ کپ میں بھی ہوں گے۔ شعیب ملک ایک گورنمنٹ ملازم کی پنشن کی طرح ہیں۔ نوکری اور ضرورت ختم ہونے کے باوجود پینشن آئی جا رہی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس پنشن میں ہمیں صرف ٹینشن ہی مل رہی ہے۔ آج جس طرح ملک آؤٹ ہوئے، ہم سے زیادہ وہ خود چونکے کہ ’یا اللہ میں اس قدر برا پلیئر بن چکا ہوں؟‘ لیکن پھر وہی بات، ٹیم کو کچھ نہیں کہنا۔
امام نے آج اپنی ایورج کا مزید بیڑا غرق کیا۔ بابر اعظم بھی میری سمجھ سے باہر تھے۔ فخر زمان نے اپنا کفر توڑا اور کھیل ہی رہے تھے کے اچانک یاد آیا ’اوہ میں کیوں کھیل رہا ہوں۔‘ حفیظ کو اپنا ماضی یاد آ گیا کے میرے سے تو بیٹ ہی نہیں اٹھتا تھا، یہ کیا کر رہا ہوں میں۔ ملک نے مرغیوں کے فارم پر ایک اور انڈا شامل کیا۔
اتنی ذلالت ہوئی کہ کائنات بھی نہ سہہ سکی اور بارش شروع ہو گئی۔ اب وہ بارش ہے کہ کائنات کے آنسو جو اس بات پر بہائے کہ اتنا مٹیریل اس ٹیم کو بنانے میں لگ گیا!

’اتنی ذلالت ہوئی کہ کائنات بھی نہ سہہ سکی اور بارش شروع ہو گئی۔‘ فوٹو: ٹوئٹر

میں سرفراز کو کچھ کہوں تو فوراً ان کے دفاع میں لوگ آ جاتے ہیں، ’سرفراز کو کچھ نہیں کہنا‘ کیونکہ کوئی اور ہے نہیں ہمارے پاس۔ ’مجھے اس جملے سے نفرت ہو گئی ہے۔ یہ کس قسم کی منطق ہے؟ آپ کے پاس کوئی اور کیوں نہیں ہے؟ کبھی یہ سوال پوچھا؟ آپ کے پاس اس لیے کوئی اور نہیں ہے کیونکہ آپ کے کوچ میں قابلیت نہیں ہے کہ کھلاڑیوں کو نکھارسکیں۔ اظہر محمود کو کچھ کہو تو وہ فوراً ’مجھے نہ کچھ کہیں‘ شروع ہو جاتے ہیں۔ مکی آرتھر کو کچھ کہو تو ’کوئی اور کوچ نہیں ہمارے پاس‘۔ کیوں نہیں ہے کوئی اور کوچ؟ کبھی پوچھا ہے یہ سوال؟ کیونکہ ہم پیسے ہی نہیں دینا چاہتے اس ٹیم کو بہتر کرنے کے لیے۔ لیکن نہیں مہوش، نہ ہی ٹیم کو کچھ کہنا ہے نہ ہی کوچ کو۔
 اس ملک میں واقعی کوئی کسی کو اب کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ اس لائق ہی نہیں چھوڑا ہمیں۔ اب پاکستان کو ورلڈ کپ سے باہر ہی سمجھیں۔ لیکن خدارا ایک بات مان جائیے، سرفراز کی واقعی اس ٹیم میں کوئی جگہ نہیں۔۔۔۔ اب میں 92 کا فائنل ورلڈ کپ دیکھوں گی اور عمران خان سے کہوں گی:
 وے کج ایسا کر ڈھولا
 تو بولیں ورلڈ کپ، تے ٹرافی سانوں مل جاوے

شیئر: