Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آسٹریلیا: 13 سالہ لڑکا ماں اور بہن بھائیوں کو بچانے کے لیے چار گھنٹے تک سمندر میں تیرتا رہا

آسٹریلیا کی ریاست مغربی آسٹریلیا میں ایک 13 سالہ لڑکے نے غیرمعمولی حوصلے اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرد اور طوفانی سمندر میں گھنٹوں تیر کر اپنی ماں اور دو کم عمر بہن بھائیوں کی جان بچا لی۔
امریکی نیوز ایجنسی ایسوس ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق یہ واقعہ جمعے کی صبح پیش آیا جب پرتھ سے تعلق رکھنے والا یہ خاندان سمندر میں پیڈل بورڈز کے ذریعے تفریح میں مصروف تھا۔
پولیس کے مطابق اچانک تیز ہواؤں اور خراب سمندری حالات کے باعث خاندان کے افراد ساحل سے دور بہتے چلے گئے۔ اس موقعے پر 13 سالہ آسٹن ایپل بی نے اپنی ماں جوآن ایپل بی اور اپنے دو بہن بھائیوں، 12 سالہ بو اور 8 سالہ گریس کو بچانے کے لیے غیرمعمولی فیصلہ کیا۔
آسٹن نے قریباً چار گھنٹے تک سرد اور اونچی لہروں والے سمندر میں تیرتے ہوئے قریب چار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تاکہ ساحل تک پہنچ کر مدد حاصل کر سکے۔
آسٹن نے بعد ازاں بتایا کہ وہ ابتدا میں ایک ربڑ بوٹ اور لائف جیکٹ کے ساتھ روانہ ہوا تھا، تاہم شدید لہروں کے باعث کشتی میں پانی بھرنے لگا، جس پر اس نے اسے چھوڑ دیا۔
بعد میں اس نے لائف جیکٹ بھی اتار دی کیونکہ وہ تیراکی میں رکاوٹ بن رہی تھی۔ آسٹن کا کہنا تھا کہ وہ مسلسل خود کو حوصلہ دیتا رہا اور صرف یہی سوچتا رہا کہ کسی طرح تیرتے رہنا ہے۔
شام چھ بجے کے قریب آسٹن نے ساحل پر پہنچ کر حکام کو اطلاع دی جس کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ قریباً ساڑھے آٹھ بجے ایک ہیلی کاپٹر نے سمندر میں بہتے ہوئے ماں اور بچوں کو تلاش کر لیا۔ اس وقت تک یہ خاندان کوئنڈالپ کے ساحل سے لگ بھگ 14 کلومیٹر دور بہہ چکا تھا اور لگ بھگ 10 گھنٹے سمندر میں گزار چکا تھا۔

پولیس انسپکٹر نے کہا کہ اس نوجوان کے عزم اور بہادری نے اس کے خاندان کی جانیں بچا لیں (فوٹو: اے ایف پی)

ریسکیو کے وقت تینوں شدید سردی کے باعث کانپ رہے تھے، پولیس انسپکٹر جیمز بریڈلی نے آسٹن کی جرأت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوجوان کے عزم اور بہادری نے اس کے خاندان کی جانیں بچا لیں۔
آسٹن کی والدہ جوآن ایپل بی نے بتایا کہ یہ ان کے لیے زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ تھا کہ انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کو مدد کے لیے بھیجا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ شروع میں پُرامید تھیں تاہم سورج غروب ہونے کے بعد خدشات بڑھنے لگے۔
انہوں نے کہا کہ ’میرے تینوں بچے محفوظ رہے، میرے لیے یہی سب سے بڑی بات ہے۔‘

 

شیئر: