گبر کے نام سے مشہور صوابی کے ایس ایچ او کا تبادلہ کیوں ہوا؟
گبر کے نام سے مشہور صوابی کے ایس ایچ او کا تبادلہ کیوں ہوا؟
بدھ 4 فروری 2026 17:36
فیاض احمد، اردو نیوز۔ پشاور
عبدالعلی عرف گبر کا کہنا تھا کہ ’خواتین کو بازاروں میں تنہا نہ جانے دیا کریں‘ (فائل فوٹو: خیبر پختونخوا پولیس)
محکۂ پولیس خیبر پختونخوا کے ایک افسر کے بیان نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ضلع صوابی سٹی کے ایس ایچ او عبدالعلی عُرف گبر نے کھلی کچہری کے دوران جرائم پیشہ افراد کو متنبہ کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین سے متعلق ایسا بیان دیا جس پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
انہوں نے شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’خواتین کو بازاروں میں تنہا نہ جانے دیا کریں۔ کسی خاتون کو اگر گھر سے باہر جانا ہے تو گھر کے کسی مرد کے ساتھ جائے۔‘
پولیس افسر عبدالعلی نے کھلی کچہری میں کہا کہ ’فتنوں کے اس دور میں خواتین بازاروں کا کم رُخ کریں۔ گھر کے مرد یا نوجوان اپنی خواتین کے ساتھ بازار آیا کریں یا اُن کے لیے خود خریداری کیا کریں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’شادیوں کی تقاریب میں موسیقی اور آتش بازی پر پابندی ہوگی اور اگر کسی نے خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘
تھانہ صوابی سٹی کے ایس ایچ او عبدالعلی کے بیان پر سب سے پہلے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اپنا ردِعمل ظاہر کیا اور کہا کہ ’کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خواتین کے بارے میں ایسی رائے دے۔ ہر کسی کی اپنی زندگی ہے اور یہ پولیسنگ نہیں بلکہ اختیارات کا غلط استعمال ہے۔‘
’کسی پولیس افسر نے اگر شہریوں کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی کرنے کی کوشش کی یا ان کے نجی معاملات کے حوالے سے رائے دی تو ایسے افسروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔‘
گورنر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’خواتین کی عزت و تکریم سب پر لازم ہے۔‘ انہوں نے پولیس حکام کو اس معاملے کا نوٹس لے کر فوری کارروائی کرنے کی ہدایت بھی کی۔ ایس ایچ او کے تبادلے پر عوام کا احتجاج
کھلی کچہری میں عبدالعلی کے بیان کے چند روز بعد انہیں لائن حاضر کردیا گیا جبکہ اُن کی جگہ پولیس سٹیشن سٹی صوابی میں نیا ایس ایچ او تعینات کر دیا گیا۔
شاندانہ گلزار نے عبدالعلی پر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرنے کا الزام عائد کیا تھا (فائل فوٹو: قومی اسمبلی)
پولیس حکام کے مطابق عبدالعلی کے تبادلے کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اُن کی ٹرانسفر معمول کی کارروائی ہے اور صرف عبدالعلی نہیں بلکہ دیگر تھانوں کے ایس ایچ اوز کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔
دوسری جانب صوابی خاص کے ایس ایچ او عبدالعلی عُرف گبر کی تبدیلی کے خلاف مانیری اور صوابی خاص کے عوام نے امن چوک میں بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ’ایک ایمان دار اور فرض شناس افسر کو اُن کے بیان کے محض ایک ہفتے بعد تبدیل کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔‘
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ’امن قائم رکھنے والے پولیس افسر کو ہٹانا عوامی مفاد کے خلاف ہے، اس فیصلے پر فوری نظرِثانی کی جائے اور ایس ایچ او عبدالعلی کو بحال کیا جائے۔‘
مظاہرین نے کئی گھنٹوں تک شاہراہ کو بند کرنے کے بعد پولیس افسروں کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد اپنا احتجاج ختم کر دیا۔ ایس ایچ او گبر کے نام سے کیوں مشہور ہیں؟
پشاور سے تعلق رکھنے والے سب انسپکٹر عبدالعلی خان کو اُن کے منفرد سٹائل کی وجہ سے لوگوں نے گبر کی عُرفیت دے رکھی ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے پولیس حکام کو عبدالعلی کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے (فائل فوٹو: اے پی پی)
اُن کے ایک ہاتھ میں چادر اور دوسرے ہاتھ میں تسبیح ہوتی ہے، لمبے بالوں کے ساتھ دبنگ انداز میں اُن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہی ہیں۔
ایس ایچ او عبدالعلی کے کام کرنے کا انداز بھی مختلف ہے۔ وہ کھلی کچہریوں میں شریعت کی بات کرکے جوابازوں اور نشے کے عادی افراد کو سخت کارروائی کی تنبیہہ کرتے ہیں۔
پولیس افسران عبدالعلی جیسے ایس ایچ او کو جرائم پیشہ افراد کے لیے موزوں افسر سمجھتے ہیں۔
واضح رہے کہ عبدالعلی عُرف گبر پر اس سے قبل بھی اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگا کر ان کا پشاور بڈھ بیر تھانے سے تبادلہ کیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی کی ایم این اے شاندانہ گلزار نے پریس کانفرنس کر کے عبدالعلی پر اختیارات سے تجاوز کر کے چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرنے کا سنگین الزام عائد کیا تھا۔