نون لیگ اور پیپلز پارٹی میں اعتماد کا فقدان؟

دونوں جماعتوں میں باہمی ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ میثاق جمہوریت کی توسیع اور تجدید کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان 2006 سے شروع ہونے والے مفاہمانہ رومانس کا دوسرا دور شروع ہو چکا ہے اور اب کی بار قیادت نواز شریف اور بینظیربھٹو نہیں کر رہے بلکہ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کر رہے ہیں۔ دونوں جماعتیں جہاں باہمی ملاقاتیں کر رہی ہیں وہیں متحدہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے حکومت مخالف تحریک چلانے اور میثاق جمہوریت کی توسیع اور تجدید کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔

مسئلہ کیا ہے؟

بلاول بھٹو اور مریم نواز کی دوسری ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا  تھا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں اعتماد کی کمی ہے جس کا ایک پس منظر ہے کہ ماضی میں دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو ’دھوکے‘ دیے ہیں۔ اب بھی اعتماد کا فقدان ہے کہ اگر حکومت کے خلاف تحریک میں جائیں تو کوئی ایک ڈیل نہ کر لے۔
اب جب یہ ملاقات ہو چکی ہے اور اپوزیشن جماعتیں اے پی سی کی طرف بڑھ رہی اور مریم نواز بھی کشتیاں جلا کر میدان عمل میں اترنے کا اعلان کر چکی ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دونوں جانشین باہمی بداعتمادی کو کم یا ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور مستقبل میں دونوں جماعتیں کوئی ڈیل تو نہیں کریں گی؟؟

بلاول مریم کتنے کامیاب؟

تجزیہ کار مظہر عباس اب کہتے ہیں کہ دونوں جماعتوں کے درمیان بد اعتمادی اگرچہ ختم نہیں ہوئی لیکن مریم اور بلاول کے درمیان کچھ باتوں پر اتفاق ضرور ہوا ہے جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ بلاول اور مریم نے ماضی کی تلخیاں بھلا کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ماضی کی تلخیاں ہی دونوں جماعتوں کے درمیان خدشات کا باعث بن رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جن باتوں پر مریم اور بلاول میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے انھی باتوں پر ان کے بڑوں کے درمیان اتفاق نہیں ہے۔ مریم اور بلاول جارحانہ سیاست کرنا چاہتے ہیں لیکن آصف زرداری ہچکچاہٹ کا شکار ہیں تو نواز شریف مولانا فضل الرحمان کو ہر طرح کے تعاون کا پیغام بھیج چکے ہیں جبکہ شہباز شریف اور ان کے قریبی ساتھیوں کی سوچ بھی مختلف ہے۔
 

   تدونوں جماعتیں جہاں باہمی ملاقاتیں کر رہی ہیں وہیں حکومت مخالف تحریک چلانے اور میثاق جمہوریت کی توسیع اور تجدید کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ تصویر: روئٹرز۔

تجزیہ کار عارف نظامی نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز دونوں اپنے والدین کی سیاست کے ہاتھوں یرغمال ہیں اس لیے وہ دونوں چاہتے ہوئے بھی اپنی پارٹیوں کے درمیان بد اعتمادی کو ختم نہیں کر سکتے کیونکہ ابھی بھی خدشہ ہے کہ کسی مسئلے پر نواز شریف اور زرداری ایک دوسرے کا ساتھ نہ دیں۔
انھوں نے کہا کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو ابھی اتنے خود مختار نہیں ہوئے کہ ان کے فیصلوں کو پارٹی کے فیصلے مان لیے جائیں۔
تجزیہ کار ارشاد عارف نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز اس بد اعتمادی کو ختم نہیں کر سکتے بلکہ اس وقت بھی دونوں ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے ہیں اور ایک دوسرے کا کندھا استعمال کرکے حکومت اور فوج کیساتھ معاملات بہتر کرکے ریلیف لینا چاہتے ہیں۔

ڈیل کون کرے گا؟

ارشاد عارف نے کہا کہ سندھ میں حکومت ہونے کی وجہ سے پیپلز پارٹی حکومت کیساتھ بارگین کی بہتر پوزیشن میں ہے لیکن عالمی سطح پر بالخصوص چین، ترکی، قطر اور سعودی عرب کیساتھ شریف خاندان کے تعلقات بھی خاصے مستحکم ہیں اور انھیں ماضی میں کبھی بھی کرپٹ خاندان نہیں سمجھا گیا اور ان ممالک میں پیپلز پارٹی کے بارے میں تاثر اچھا نہیں ہے۔
ارشاد عارف نے کہا کہ اس وقت ملک کو معاشی مسئلہ درپیش ہے اور جب مشرف نے نواز شریف کو سعودی عرب بھیجا تھا اس وقت بھی معیشت ہی ان کی کمزوری بنی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ملک بھر کے تاجر ، صنعت کار اور سرمایہ کار شریف حکومت سے فائدہ لیتے رہیں اس لیے وہ موجودہ حکومت سے تعاون بھی نہیں کر رہے اس لیے ممکن ہے کہ کسی موقع پر کسی ایک جماعت یا دونوں کو ڈیل یا ڈھیل مل جائے۔
تجزیہ کار عارف نظامی نے کہا کہ ان کی اطلاع کے مطابق قطر کے امیر نے بھی نواز شریف کو این آر او دینے کی بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ عمران خان این آر او نہ دینے کی بات کرتے ہیں لیکن وہ بہت سےمعاملات میں یو ٹرن لے چکے ہیں تو اس معاملے پر یو ٹرن بھی خارج از امکان نہیں۔
اس حوالے سے تجزیہ کار مظہر عباس مختلف رائے رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نواز شریف نے این آر او یا ڈیل کا آپشن ہی مسترد کر دیا ہے اس لیے انھیں نہیں لگتا کہ مستقبل قریب میں ایسا کچھ ہونے جا رہا ہے۔
 

شیئر: