نیوم سٹی: دنیا کا پہلا شہر جو تین ملکوں پر پھیلا ہوا ہے

ماہرین کے مطابق 2030 تک سعودی قومی پیداوار میں نیوم کا حصہ 100ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔
سعودی عرب کے شمال مشرق میں خلیج نیوم ہوائی اڈے کا افتتاح کردیا گیا اور آئندہ اتوار سے کمرشل پروازیں شروع ہوجائیں گی۔
ابتدائی مرحلے میں خلیج نیوم ایئرپورٹ سے سرمایہ کار اور نیوم سٹی کے کارکن سفر کریں گے۔
  یہ سعودی عرب کا 28واں انٹرنیشنل ایئر پورٹ ہے۔ مشرق وسطیٰ کا جدید اور اہم ترین ہوائی اڈہ ہوگا۔ ایئرپورٹ 3643مربع میٹر کے رقبے پر تعمیر کیا گیا ہے۔ طیاروں کے لیے  چھ پارکنگ بنائی گئی ہیں جبکہ رن وے 3757میٹر طویل ہے۔

نیوم کمرشل ایئرپورٹ تبوک میں بنایا گیا ہے۔ یہ ضباءکمشنری اور بندرگاہ سے 75کلو میٹر دور ہے۔ 

امیگریشن کے چار جبکہ مسافروں کے رجسٹریشن کیلئے چھ کاﺅنٹر بنائے گئے ہیں۔
 واضح رہے کہ نیوم کمرشل ایئرپورٹ تبوک میں بنایا گیا ہے۔ یہ ضباءکمشنری اور بندرگاہ سے 75کلو میٹر دور ہے۔ نیوم سٹی میں مزید چارایئرپورٹ قائم کرنے کا منصوبہ ہے اور خلیج نیوم ائیر پورٹ ان میں سے ایک ہے۔

نیوم سٹی منصوبہ کیا ہے ؟

نیوم سٹی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کو مدنظر رکھ کر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کا اعلان 24 اکتوبر 2017 میں کیا گیا تھا۔ اس کا کل رقبہ 26 ہزار 500 مربع کلومیٹر ہو گا۔ اس میں 468 کلومیٹر بحیرہ احمر اور خلیج عقبہ کا ساحلی علاقہ شامل ہے۔
 نیوم سٹی تین براعظموں کو ایک دوسرے سے جوڑے گا۔ اس میں سعودی عرب کے علاوہ اردن اور مصر کے علاقے شامل ہوں گے۔
نیوم خصوصی سرمایہ کاری کے نوشعبوں کا احاطہ کرے گا۔ ان میں توانائی، پانی، ٹرانسپورٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، خوراک، سائنس،میڈیا، تفریح اور معیشت کے دیگر شعبے شامل ہیں۔ مستقبل میں سعودی عرب کی 10 فیصد عالمی تجارت نیوم کے راستے ہی ہوگی۔

نیوم سٹی پروجیکٹ کا ایک حصہ خلیج نیوم ہے اور سب سے پہلے اسے بسایا جارہا ہے اوراس کا پہلا مرحلہ 2020میں مکمل ہوجائے گا۔

نیوم سٹی پروجیکٹ کا ایک حصہ خلیج نیوم ہے۔ سب سے پہلے خلیج نیوم کو بسایا جارہا ہے اوراس کا پہلا مرحلہ 2020میں مکمل ہوجائے گا۔ یہ چار نکاتی منصوبہ ہے جہاں مخصوص طرز معاشرت کا تجربہ ہوگا۔ خاندان کے تمام افراد مثالی اور معیاری زندگی گزاریں گے۔ اقتصادی اہداف حاصل کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
 نیوم شہر کے حوالے سے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ نیوم شہر اور دیگر شہروں میں وہی فرق ہے جو ایک روایتی قسم کے موبائل اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ موبائل میں ہوتا ہے۔

نیوم میں500ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی؟

 نیوم دنیا کا پہلا شہر ہے جو کہ تین ممالک، سعودی عرب، اردن اور مصر میں پھیلا ہوا ہے۔ یہاں سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی مدد سے نصف ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔ نیوم منصوبے کی بدولت سعودی عرب کو اقتصادی ترقی کے چھ اہم مواقع حاصل ہونگے اور 70ارب ڈالر تک کی آمدنی ہوگی۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نیوم سٹی پراجکٹ کے چیف ایگزیکٹو کلوز کلین فلڈ کے ہمراہ۔ تصویر: اے ایف پی

سعودی سرمایہ کاروں کو ایسے شعبوں میں سرمایہ لگانے کے مواقع میسر ہونگے جو اب تک نہیں تھے۔ سعودی شہری بیرون ملک کے بجائے سیاحت کیلئے نیوم جانا پسند کریں گے۔ نیوم میں فی کس آمدنی کی شرح دنیا کے ہر ملک سے بڑھ کر ہوگی۔
ماہرین کے مطابق 2030 تک سعودی قومی پیداوار میں نیوم کا حصہ 100ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ اس کا پہلا حصہ 2025 میں مکمل ہوگا۔

شیئر: