نیٹو نے افغانستان میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

رواں برس ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے۔
نیٹو کے مطابق افغانستان میں امریکی فوج کے دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں اور اس طرح رواں برس ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد نو ہو گئی ہے۔
یہ ہلاکتیں امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کے افغانستان کے غیر اعلانیہ دورے کے 24 گھنٹے بعد سامنے آئی ہیں۔ اس دورے کے دوران مائیک پومپیو نے امید ظاہر کی تھی کہ یکم ستمبر تک طالبان کے ساتھ معاہدہ ہو سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیٹو کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی محکمہ دفاع کی پالیسی کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام ان کے رشتہ داروں کو اطلاع پہنچانے تک 24 گھنٹے کے لیے خفیہ رکھے جائیں گے۔‘

افغانستان پر حملے کے بعد سے اب تک 2300 امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ 20, 400زخمی ہو چکے ہیں 

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے انہوں نے افغان صوبے وردک میں ایک جھڑپ کے دوران دو امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے، تاہم اس حوالے سے نیٹو کی جانب سے کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے کہ امریکی  فوجی طالبان کے اسی حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ یہ ہلاکتیں ایسے موقع پر ہوئی ہیں کہ جب افغانستان میں جنگ بندی کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور اس کا اگلا دور 29 جون کودوحہ میں ہونے جا رہا ہے۔
امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ اس حملے سے جنگ زدہ افغانستان میں تشدد کو روکنے کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ سے کم ہو کر 14,000 رہ گئی ہے جن میں زیادہ تر افغان فوج کی تربیت کے لیے تعنیات کیے گئے ہیں۔
2001 میں امریکہ کے افغانستان پر حملے کے بعد سے اب تک 2300 امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ 20,400 زخمی ہوئے ہیں۔

شیئر: