تارکینِ وطن سے نمٹنے کے لیے یورپی یونین کی نئی 5 سال کی حکمتِ عملی کیا ہے؟
جمعرات 29 جنوری 2026 17:32
یورپی حکومتیں تارکین وطن کے حوالے سے عوام کی بڑھتی ہوئی ناراضی کے باعث سخت موقف اپنانے کے دباؤ میں ہیں۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
یورپی یونین نے جمعرات کو اپنے ویزا نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات اور ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے کے منصوبے پیش کیے، جو تارکین وطن کے حوالے سے پانچ سالہ حکمتِ عملی کا حصہ ہیں اور اس حساس مسئلے پر سخت موقف کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپی یونین کے سرحدی ادارے نے کہا ہے کہ 27 رکنی بلاک میں سنہ 2025 کے دوران غیرقانونی آمد میں ایک چوتھائی سے زائد کمی آئی ہے، تاہم اس کے باوجود کارروائی کے لیے سیاسی دباؤ بدستور برقرار ہے۔
یورپی یونین کے کمشنر برائے نقل مکانی میگنس برونر نے کہا کہ ’ترجیح بالکل واضح ہے: غیرقانونی تارکین وطن کی آمد کی تعداد کم کرنا اور اسے کم ہی رکھنا۔‘
جمعرات کو پیش کی گئی حکمتِ عملی میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بلاک کی ترجیحات میں اسائلم کے حصول میں ناکام ہونے والے پناہ گزینوں کی ملک بدری کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
برونر کا کہنا تھا کہ ’غلط استعمال نقل مکانی کے تصور کو بدنام کرتا ہے، یہ عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے اور بالآخر تحفظ فراہم کرنے کی ہماری صلاحیت کو کمزور کرتا ہے، جبکہ باصلاحیت افراد کو راغب کرنے کی ہماری کوششوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔‘
یورپی پارلیمان اس وقت یورپی کمیشن کی جانب سے پیش کیے گئے ایک قانونی مسودے کا جائزہ لے رہی ہے، جس کے تحت یورپی یونین کی سرحدوں سے باہر ’ریٹرن ہبز‘ قائم کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بننے والی اس تجویز میں ان تارکین وطن کے لیے سخت سزاؤں کا تصور بھی شامل ہے جو یورپی علاقے کو چھوڑنے سے انکار کریں، جن میں طویل عرصے تک حراست بھی شامل ہے۔
یورپی حکومتیں تارکین وطن کے حوالے سے عوام کی بڑھتی ہوئی ناراضی کے باعث سخت موقف اپنانے کے دباؤ میں ہیں، جس نے پورے بلاک میں دائیں بازو کی جانب جھکاؤ کو تقویت دی ہے۔
’خامیاں‘ پر مبنی حکمتِ عملی
حکمتِ عملی میں نقل مکانی کے حوالے سے ’جارحانہ سفارت کاری‘ کو مضبوط بنانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاکہ تیسرے ممالک کو اس بات پر آمادہ کیا جا سکے کہ وہ تارکین وطن کو یورپ پہنچنے سے روکنے میں مدد دیں اور ایسے اپنے شہریوں کو واپس قبول کریں جنہیں قیام کا حق حاصل نہیں۔
برسلز نے حال ہی میں شمالی افریقی ممالک، جن میں تیونس، موریطانیہ، مصر اور مراکش شامل ہیں، کے ساتھ معاہدے کیے ہیں یا ان پر مذاکرات جاری ہیں، جن کے تحت امداد اور سرمایہ کاری کے بدلے تارکین وطن کے بہاؤ کو قابو میں رکھنے میں تعاون حاصل کیا جاتا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یورپی یونین کے اس موقف کو ’خامیوں‘ پر مبنی قرار دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کی پالیسی تجزیہ کار اولیویا سنڈبرگ ڈیئز نے کہا کہ ’یہ حکمتِ عملی صرف نقل مکانی کے انتظام کے لیے تیسرے ممالک پر انحصار کو بڑھاتی ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں ہونے والی کسی بھی حقوق کی خلاف ورزی میں یورپی یونین کو شریک بنا دیتی ہے۔‘
برسلز نے ایک بالکل نئی ویزا حکمتِ عملی بھی پیش کی ہے، جس کا مقصد مخصوص ممالک کے شہریوں کو یورپی یونین تک رسائی دینے یا محدود کرنے کو سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہے، تاکہ اپنے پالیسی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
کمیشن سے وابستہ ایک سورس نے کہا کہ ’یہ ہمارے ہاتھ میں موجود طاقتور ترین اوزاروں میں سے ایک ہے۔‘
خصوصی طور پر یورپی یونین ان ممالک پر پابندیاں عائد کرنا چاہتی ہے جو اپنے شہریوں کو واپس لینے سے انکار کرتے ہیں، جس کے تحت ویزوں کے اجرا کو محدود کیا جائے گا، جبکہ ہنر مند کارکنوں کو راغب کرنے کے لیے طریقہ کار میں نرمی کی جائے گی۔
