انڈیا میں نیا تنازع: ’اگر مسلمان گٹر میں رہ کر جینا چاہتے ہیں تو رہیں‘

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کانگریس پارٹی کو زیر کرنے کا کوئی موقع نہیں گنواتے۔ گذشتہ دنوں پارلیمنٹ میں انہوں نے صدر کے خطاب کے بعد شکریہ ادا کرتے ہوئے کانگریس کے ایک رہنما کا متنازع بیان دہرایا جس پر میڈیا اور سوشل میڈیا پر کئی روزسے بحث جاری ہے۔
‘نریندر مودی نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ کانگریس کے ایک رہنما نے کہا تھا ’مسلمانوں کی فلاح و بہبود کی ذمہ دار کانگریس نہیں ہے، اگر وہ گٹر میں رہ کر جینا چاہتے ہیں تو رہیں۔‘
وزیراعظم مودی کے اس بیان پر ایوان میں جب شور ابھرا تو انہوں نے کہا کہ وہ یوٹیوب لنک بھیج دیں گے اور خود دیکھ لیں کہ کس نے کہا تھا۔
ان کے اس بیان کے بعد لوگوں نے تلاش شروع کر دی جس کے بعد مسلمان رہنما عارف محمد خان سرخیوں میں آئے جو کبھی کانگریس میں تھے بعد میں جنتا دل اور بہوجن سماج پارٹی میں بھی رہے لیکن آخر میں بی جے پی میں شامل ہو گئے۔

عارف محمد خان کے  بیان کے بعد مسلمانوں سے متعلق کانگریس کے نظریے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ بات شاہ بانو مقدمے کے حوالے سے کہی گئی تھی اور شاہ بانو مقدمہ انڈیا میں بڑے تنازع کا باعث بنا تھا جس میں انڈیا کی عدالت عظمیٰ نے طلاق کے بعد گزر بسر کے خرچ کی ذمہ داری شوہر پر ڈالی تھی لیکن راجیو گاندھی کی قیادت والی کانگریس پارٹی نے اس کے خلاف اپنا موقف اختیارکیا تھا جس کی مخالفت کرتے ہوئے عارف محمد خان نے نائب وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
عارف محمد خان سے جب میڈیا نے اس کی حقیقت دریافت کی تو انہوں نے خبررساں ادارے اے این آئی کو بتایا ’میں استعفیٰ دینے کے بعد اپنے گھر سے روپوش ہو گیا تاکہ مجھ پر استعفیٰ واپس لینے کے لیے دباؤ نہ ڈالا جائے۔ اگلے دن پارلیمنٹ میں میری ملاقات ارون نہرو سے ہوئی جنہوں نے کہا کہ میں نے جو کیا وہ اصولی طور پر ٹھیک ہے لیکن اس سے پارٹی کی مشکلات بہت بڑھ جائيں گی۔ اس وقت نرسمہا راؤ (جو بعد میں وزیر اعظم بنے اور جن کے زمانے میں بابری مسجد منہدم ہوئی) نے کہا کہ تم بہت ضدی ہو، اب تو شاہ بانو نے بھی اپنا موقف بدل لیا ہے۔‘
وزیراعظم نریندر مودی نے عارف محمد خان کے جس انٹرویو کا ذکر کیا تھا اس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا ’نرسمہا راؤ جی نے خود مجھ سے کہا کہ مسلمان ہمارے ووٹرز ہیں، ہم انہیں کیوں ناراض کریں، کانگرس پارٹی اصلاح سماج کا کام نہیں کر رہی ہے۔ ہمارا کردار مصلح کا نہیں ہے، ہم سیاست میں ہیں، اگر یہ گٹر میں پڑے رہنا چاہتے ہیں تو رہنے دو۔‘

 نئی پارلیمنٹ میں ایک ہی بار میں تین بار طلاق، طلاق، طلاق کہنے پر بحث جاری ہے۔

عارف محمد خان کے اس بیان کے بعد جہاں ٹوئٹر پر ان کے موقف کی تعریف ہو رہی ہے وہیں مسلمانوں سے متعلق کانگریس کے نظریے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن یہ کوئی نہیں پوچھ رہا ہے کہ جب کانگریس مسلمانوں کے ساتھ اس قسم کا تعلق روا رکھتی ہے تو پھر اس پر مسلمانوں کے اپیزمنٹ کا الزام کیونکر لگایا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ نئی پارلیمنٹ میں جن اولین بلز پر بحث ہو رہی ہے ان میں ایک ہی بار میں تین بار طلاق، طلاق، طلاق کہنے پر بحث جاری ہے اور ایک بل پیش کیا جا رہا جس میں اسے غیر قانونی قرار دیا جانا ہے اور اس کے لیے تین سال قید کی سزا کی تجویز ہے۔ بہت سی جماعتیں اس کی شدت سے مخالفت کر رہی ہیں جن میں اسدالدین اویسی کی پارٹی مجلس اتحاد المسلمین کے ساتھ کانگریس بھی شامل ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ بل تفریقی ہے جبکہ عارف محمد خان جیسے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے خواتین با اختیار بنیں گی لیکن مسلمانوں کی بڑی تعداد کو خطرہ ہے کہ اس سے شادی کے انسٹی ٹیوشن کو نقصان پہنچے گا اور مسلمان نوجوان سزا کے ڈر سے شادی سے گریز کریں گے اور سماج کا توازن اور ماحول بگڑے گا۔
سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بل سے صرف شادی کے انسٹی ٹیوشن کی حوصلہ شکنی ہوگی اور لو ان ریلیشن کو بڑھاوا ملے گا۔
انھوں نے پالیمنٹ میں کہا کہ یہ مسلمانوں کا اندرونی معاملہ ہے اور اس کے متعلق ان کو قرآن کے علاوہ کوئی فیصلہ منظور نہیں ہو گا۔

شیئر: