Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت، غزہ تنازع کے خاتمے کے عزم کا اظہار

بانی ممالک کے رہنماوں کی موجودگی میں چارٹر پر دستخط کیے گئے۔(فوٹو: اے ایف پی)
سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جمعرات کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر’بورڈ آف پیس‘ کے چارٹر پر دستخط کردیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت اختیار کرنے والے بانی ممالک کے رہنماوں اور نمائندوں کی موجودگی میں چارٹر پر دستخط کیے گئے۔
ایس پی اے کے مطابق بیان میں کہا گیا ’چارٹر پر دستخط غزہ تنازع  کے خاتمے کے لیے ایک عبوری ادارے کے طور پر ’پیس آف بورڈ‘ کے مشن کی سپورٹ کے عزم کا اعادہ ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 میں منظور کیا گیا تھا۔‘
وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا’ اس فیصلے سے غزہ میں پائیدار امن کی کوششوں کے لیے مملکت کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔‘
سعودی عرب ان آٹھ عرب اور مسلم ملکوں میں سے ایک ہے، جنہوں نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ وہ اس اقدام میں شامل ہوں گے جس کا مقصد جنگ سے متاثرہ فلسطینی علاقے کا استحکام اور تعمیر نو ہے۔‘

اس مشن کا مقصد مستقل جنگ بندی، غزہ کی تعمیر نو کی سپورٹ، بین الاقوامی قانون کے مطابق  فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور آزاد ریاست پر مبنی منصفانہ اور پائیدار امن کو فروغ دینا ہے۔
خیال رہے امریکہ نے ’غزہ ایگزیکٹو بورڈ‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا جو ایک وسیع تر ’بورڈ آف پیس‘ کے تحت کام کرے گا۔ یہ بورڈ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرِصدارت قائم کیا جانا ہے اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ان کے 20 نکاتی منصوبے کا حصہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈیووس میں اپنے ’بورڈ آف پیس‘ کے منشور پر دیگر بانی اراکین کے ساتھ دستخط کیے، جسے وہ بین الاقوامی تنازعات حل کرنے والا ادارہ قرار دے رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دستخط کی تقریب میں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ نے کہا ’مبارک ہو صدر ٹرمپ، منشور اب مکمل طور پر نافذ العمل ہے، اور بورڈ آف پیس اب ایک سرکاری بین الاقوامی تنظیم ہے۔‘
 تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ کو غیر فوجی علاقہ بنانے اور اسے ’خوبصورتی سے ازسرِنو تعمیر‘ کرنے کے عزم پر اتفاق موجود ہے۔
 صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے تحت حماس کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے، ورنہ فلسطینی تحریک کا خاتمہ ہو جائے گا۔
’انہیں اپنے ہتھیار چھوڑنے ہوں گے، اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو یہ ان کا انجام ہوگا۔‘

 

شیئر: