یورپی یونین کے رہنما آج (جمعرات کو) ایک ہنگامی سربراہی اجلاس میں امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات پر ازسرنو غور کریں گے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈنمارک کی نیم خودمختار علاقے ’گرین لینڈ‘ کو حاصل کرنے کے لیے ٹیرف کی دھمکی اور ممکنہ فوجی کارروائی کے بیان کے بعد کیا گیا ہے جس نے ٹرانس اٹلانٹک شراکت داری پر اعتماد کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو اپنے اس سخت موقف سے اچانک پیچھے ہٹ گئے جس میں انہوں نے آٹھ یورپی ممالک پر محصولات لگانے کی دھمکی دی تھی اور گرین لینڈ پر قبضے کے لیے طاقت کے استعمال کو مسترد کر دیا تھا تاہم یورپی دارالحکومتوں میں بے چینی اب بھی برقرار ہے۔
مزید پڑھیں
-
ایران اب مشرقِ وسطیٰ کا ’غنڈا‘ نہیں رہا: ٹرمپ کا ڈیووس میں خطابNode ID: 899740
جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے گرین لینڈ کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوٹرن کا خیرمقدم کیا ہے اور یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ دہائیوں پرانی شراکت داری کو ختم کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیں۔
تاہم یورپی یونین کی حکومتیں ایک ایسے صدر کے مزاج پر بھروسہ کرنے میں محتاط ہیں جنہیں اب یورپ میں ایک ’بدمزاج اور دھونس جمانے والے‘ لیڈر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اب یورپی رہنماؤں کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ اور مستقبل میں آنے والی حکومتوں کے ساتھ نمٹنے کے لیے ایک طویل مدتی اور آزادانہ حکمت عملی کیسے تیار کی جائے۔
ایک یورپی سفارت کار نے صورتحال کی سنگینی بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹرمپ نے حد عبور کر لی ہے اور وہ دوبارہ بھی ایسا کر سکتے ہیں، اس لیے اب حالات پہلے جیسے نہیں رہ سکتے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یورپی یونین کو اب بہت سے شعبوں میں امریکہ پر اپنے شدید انحصار کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔‘
سفارت کار کے مطابق ’اصل چیلنج یہ ہے کہ ٹرمپ کو قریب رکھتے ہوئے خود کو امریکہ سے آزاد کرنے کے عمل پر کام شروع کیا جائے جو کہ ایک طویل اور پیچیدہ مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔‘
دفاعی لحاظ سے یورپی یونین کئی دہائیوں سے نیٹو اتحاد کے تحت امریکہ پر انحصار کرتی آئی ہے۔ اس وقت یورپ کے پاس وہ انٹیلی جنس نظام، ٹرانسپورٹ، میزائل ڈیفنس اور پیداواری صلاحیتیں موجود نہیں جو کسی ممکنہ روسی حملے کی صورت میں اسے تنہا دفاع کے قابل بنا سکیں۔

یہی وہ کمزوری ہے جو امریکہ کو یورپ پر دباؤ ڈالنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ یورپ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بھی ہے جس کی وجہ سے یورپی یونین ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں اور ٹیرف کے خطرات کے سامنے کمزور پڑ جاتی ہے۔
ایک اور یورپی سفارت کار نے سوال اٹھایا کہ ’اگر ٹرمپ آج ٹیرف نہ لگانے کا کہہ رہے ہیں تو کیا اس کی ضمانت ہے کہ وہ کل اپنا ذہن نہیں بدلیں گے؟‘
انہوں نے کہا کہ ہمیں اب اپنی ’ریڈ لائنز‘ یعنی آخری حدوں کا تعین کرنا ہو گا اور یہ طے کرنا ہو گا کہ بحر اوقیانوس کے پار سے آنے والی اس دھونس کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔
یورپی یونین پہلے ہی امریکی درآمدات پر 93 ارب یورو کے جوابی ٹیرف لگانے پر غور کر رہی تھی، اگرچہ وہ جانتے ہیں کہ اس اقدام سے خود یورپ کی معیشت کو بھی نقصان پہنچے گا۔












