Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گرین لینڈ پر ٹرمپ کے یوٹرن کے باوجود یورپی رہنما امریکہ سے تعلقات کا ازسرِنو جائزہ لیں گے

دفاعی لحاظ سے یورپی یونین کئی دہائیوں سے امریکہ پر انحصار کرتی آئی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
یورپی یونین کے رہنما آج (جمعرات کو) ایک ہنگامی سربراہی اجلاس میں امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات پر ازسرنو غور کریں گے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈنمارک کی نیم خودمختار علاقے ’گرین لینڈ‘ کو حاصل کرنے کے لیے ٹیرف کی دھمکی اور ممکنہ فوجی کارروائی کے بیان کے بعد کیا گیا ہے جس نے ٹرانس اٹلانٹک شراکت داری پر اعتماد کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو اپنے اس سخت موقف سے اچانک پیچھے ہٹ گئے جس میں انہوں نے آٹھ یورپی ممالک پر محصولات لگانے کی دھمکی دی تھی اور گرین لینڈ پر قبضے کے لیے طاقت کے استعمال کو مسترد کر دیا تھا تاہم یورپی دارالحکومتوں میں بے چینی اب بھی برقرار ہے۔
جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے گرین لینڈ کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوٹرن کا خیرمقدم کیا ہے اور یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ دہائیوں پرانی شراکت داری کو ختم کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیں۔
تاہم یورپی یونین کی حکومتیں ایک ایسے صدر کے مزاج پر بھروسہ کرنے میں محتاط ہیں جنہیں اب یورپ میں ایک ’بدمزاج اور دھونس جمانے والے‘ لیڈر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اب یورپی رہنماؤں کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ اور مستقبل میں آنے والی حکومتوں کے ساتھ نمٹنے کے لیے ایک طویل مدتی اور آزادانہ حکمت عملی کیسے تیار کی جائے۔
ایک یورپی سفارت کار نے صورتحال کی سنگینی بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹرمپ نے حد عبور کر لی ہے اور وہ دوبارہ بھی ایسا کر سکتے ہیں، اس لیے اب حالات پہلے جیسے نہیں رہ سکتے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یورپی یونین کو اب بہت سے شعبوں میں امریکہ پر اپنے شدید انحصار کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔‘
سفارت کار کے مطابق ’اصل چیلنج یہ ہے کہ ٹرمپ کو قریب رکھتے ہوئے خود کو امریکہ سے آزاد کرنے کے عمل پر کام شروع کیا جائے جو کہ ایک طویل اور پیچیدہ مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔‘
دفاعی لحاظ سے یورپی یونین کئی دہائیوں سے نیٹو اتحاد کے تحت امریکہ پر انحصار کرتی آئی ہے۔ اس وقت یورپ کے پاس وہ انٹیلی جنس نظام، ٹرانسپورٹ، میزائل ڈیفنس اور پیداواری صلاحیتیں موجود نہیں جو کسی ممکنہ روسی حملے کی صورت میں اسے تنہا دفاع کے قابل بنا سکیں۔

یورپی یونین پہلے ہی امریکی درآمدات پر 93 ارب یورو کے جوابی محصولات لگانے پر غور کر رہی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

یہی وہ کمزوری ہے جو امریکہ کو یورپ پر دباؤ ڈالنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ یورپ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بھی ہے جس کی وجہ سے یورپی یونین ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں اور ٹیرف کے خطرات کے سامنے کمزور پڑ جاتی ہے۔
ایک اور یورپی سفارت کار نے سوال اٹھایا کہ ’اگر ٹرمپ آج ٹیرف نہ لگانے کا کہہ رہے ہیں تو کیا اس کی ضمانت ہے کہ وہ کل اپنا ذہن نہیں بدلیں گے؟‘
انہوں نے کہا کہ ہمیں اب اپنی ’ریڈ لائنز‘ یعنی آخری حدوں کا تعین کرنا ہو گا اور یہ طے کرنا ہو گا کہ بحر اوقیانوس کے پار سے آنے والی اس دھونس کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔
یورپی یونین پہلے ہی امریکی درآمدات پر 93 ارب یورو کے جوابی ٹیرف لگانے پر غور کر رہی تھی، اگرچہ وہ جانتے ہیں کہ اس اقدام سے خود یورپ کی معیشت کو بھی نقصان پہنچے گا۔

سفارت کاروں کا اصرار ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کا طویل مدتی مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقعے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کے درمیان گرین لینڈ کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پانے کی خبریں سامنے آئی ہیں تاہم اس کی تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔
مارک روٹے نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’اس فریم ورک معاہدے کے تحت مغربی اتحادیوں کو آرکٹک ریجن میں اپنی موجودگی بڑھانا ہو گی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ڈنمارک، گرین لینڈ اور امریکہ کے درمیان مخصوص معاملات پر بات چیت جاری رہے گی۔
برسلز میں ہونے والے ہنگامی مذاکرات اگرچہ اب اتنے ہنگامہ خیز نہیں ہوں گے جتنا کہ چند روز قبل محسوس ہو رہا تھا لیکن سفارت کاروں کا اصرار ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کا طویل مدتی مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے۔
یورپی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ اگرچہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ یکجہتی ظاہر کرنے اور تناؤ کم کرنے کی حکمت عملی کارگر رہی ہے لیکن گزشتہ ایک ہفتے کے تجربات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یورپ کو اب اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنی اندرونی مارکیٹ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

شیئر: