’نیا بنگلہ دیش‘: بغاوت کے بعد پہلا الیکشن، بنگلہ دیش کی سیاست نیا رخ اختیار کرنے کو تیار
’نیا بنگلہ دیش‘: بغاوت کے بعد پہلا الیکشن، بنگلہ دیش کی سیاست نیا رخ اختیار کرنے کو تیار
جمعرات 22 جنوری 2026 10:34
بنگلہ دیش میں آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات کے لیے باضابطہ انتخابی مہم جمعرات کو شروع ہو گئی ہے۔
یہ انتخابات 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد پہلی مرتبہ ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی طویل آمرانہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا تھا۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انتخابی مہم کے آغاز پر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے مرکزی امیدوار اور مقبول رہنما طارق رحمان کے ہزاروں حامیوں نے شمالی شہر سلہٹ کی سڑکوں پر ریلی نکالی۔ پارٹی جھنڈے تھامے شرکا طارق رحمان کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔
ریلی میں شامل کارکنان طارق رحمان کی تصاویر اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔ طارق رحمان دسمبر میں 17 سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئے تھے اور وہ وزیر اعظم کے منصب کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ ریلی کے شرکا نعرے لگا رہے تھے: ’کیا ہمارے پاس لیڈر ہے؟ ہاں، ہمارے پاس لیڈر ہے۔‘
دوسری جانب ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت، جماعت اسلامی بھی دن کے اختتام پر دارالحکومت ڈھاکہ میں اپنی انتخابی مہم کا آغاز کرے گی۔
سترہ کروڑ آبادی والے اس جنوبی ایشیائی ملک میں 12 فروری کو عام انتخابات ہوں گے جن میں 350 ارکان پارلیمنٹ کا انتخاب کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ انتخابات شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے بعد نئی قیادت کے ظہور کا سبب بن سکتے ہیں اور ملکی سیاست کے ساتھ ساتھ علاقائی تعلقات پر بھی اثر انداز ہوں گے۔
یہ انتخابی عمل ایک غیر یقینی سکیورٹی صورتحال میں ہو رہا ہے جہاں گزشتہ ماہ حکومت مخالف احتجاج میں شامل ایک طالب علم رہنما کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے پھیلاؤ کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
یورپی یونین کے انتخابی مبصرین کے مطابق یہ ووٹنگ 2026 کا ’سب سے بڑا جمہوری عمل‘ ہو گا۔
محمد یونس انتخابات کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
’پورا نہ ہونے والے وعدے‘
60 سالہ طارق رحمان بنگلہ دیش میں طارق ضیا کے نام سے زیادہ جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی والدہ اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد بی این پی کی قیادت سنبھالی ہے۔ خالدہ ضیا دسمبر میں 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔
بی این پی کے ایک سرگرم حامی 40 سالہ ہارون الرشید نے اے ایف پی کو بتایا: ’وہ اپنے والدین کے سیاسی ورثے کو آگے بڑھائیں گے۔‘
انہوں نے خالدہ ضیا اور ان کے شوہر، سابق صدر ضیا الرحمان کا حوالہ دیا جنہیں 1981 میں قتل کر دیا گیا تھا۔
دنیا کی بڑی مسلم آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل بنگلہ دیش میں روایتی طور پر سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم کا آغاز سلہٹ سے کرتی ہیں جہاں صدیوں پرانا شاہ جلال کا مزار واقع ہے۔
بدھ کی شب طارق رحمان کے مزار پر حاضری کے موقع پر حامیوں نے سڑکوں کے کنارے قطاریں بنا لیں اور ان کی انتخابی بس کے گزرنے پر نعرے لگائے۔
طارق رحمان صدارت کے مضبوط امیدوار ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
دوسری جانب جماعت اسلامی دارالحکومت ڈھاکہ میں اپنے سربراہ شفیق الرحمان کے حلقے سے مہم کا آغاز کرے گی۔
اخوان المسلمون سے نظریاتی قربت رکھنے والی یہ جماعت کئی برس کی پابندیوں اور کریک ڈاؤن کے بعد دوبارہ عملی سیاست میں واپسی کی کوشش کر رہی ہے۔
شیخ حسینہ کے انڈیا فرار ہونے کے بعد کئی اہم مذہبی رہنماؤں کو جیلوں سے رہا کیا گیا جبکہ مذہبی جماعتیں پہلے سے زیادہ متحرک نظر آ رہی ہیں۔
طلبہ رہنماؤں کی قائم کردہ نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی)، جس نے حکومت مخالف تحریک کی قیادت کی اور جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کیا ہے، وہ بھی ڈھاکہ میں اپنی انتخابی ریلی منعقد کرے گی۔
26 سالہ انجینئر راقب الحسن شاون بی این پی کی ریلی کو ایک طرف کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے، انہوں نے کہا: ’میں نے ابھی ووٹ دینے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ہم پہلے بھی وعدے سنتے رہے ہیں، لیکن وہ کبھی پورے نہیں ہوئے۔‘
جماعت اسلامی بنگلہ دیش بھی انتخابی مہم کی بھرپور تیاری کر رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
’نیا بنگلہ دیش‘
نوبیل امن انعام یافتہ 85 سالہ محمد یونس اگست 2024 میں مظاہرین کی درخواست پر جلاوطنی سے واپس آئے تھے اور وہ عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر بنے۔ انتخابات کے بعد وہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔
محمد یونس کا کہنا ہے کہ انہیں ایک ’مکمل طور پر تباہ شدہ‘ سیاسی نظام ورثے میں ملا جس کی اصلاح کے لیے انہوں نے ایک اصلاحاتی منشور پیش کیا ہے۔ ان اصلاحات پر ریفرنڈم بھی عام انتخابات کے ساتھ ہی کرایا جائے گا۔
19 جنوری کو قوم سے خطاب میں محمد یونس نے کہا تھا کہ ’اگر آپ ’ہاں‘ میں ووٹ دیں گے تو نئے بنگلہ دیش کی تعمیر کا دروازہ کھل جائے گا۔‘
اس ماہ کے آغاز میں انہوں نے سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے سیلاب پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’سوشل میڈیا جعلی خبروں، افواہوں اور قیاس آرائیوں سے بھر دیا گیا ہے۔‘
انہوں نے اس کا الزام ’غیر ملکی میڈیا اور مقامی ذرائع‘ دونوں پر عائد کیا۔
ادھر ہمسایہ ملک انڈیا کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں جہاں شیخ حسینہ مظاہرین کے صدارتی محل پر دھاوا بولنے کے بعد اپنے پرانے اتحادی نئی دہلی فرار ہو گئی تھیں۔
78 سالہ شیخ حسینہ کو نومبر میں مظاہرین کے خلاف مہلک کریک ڈاؤن کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم پر غیر حاضری میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ وہ تاحال انڈیا میں روپوش ہیں۔