Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستانی فضائی حدود کی بندش اور فضائی حادثہ: ایئر انڈیا کو 1 ارب 60 کروڑ ڈالر کا خسارہ

ایئر انڈیا لمیٹڈ رواں مالی سال میں اپنی تاریخ کے سب سے بڑے سالانہ خسارے کی اطلاع دینے جا رہی ہے، کیونکہ گذشتہ برس ہونے والے جان لیوا حادثے اور فضائی حدود کی بندش نے ادارے کی بحالی کی جانب ہونے والی پیش رفت کو شدید نقصان پہنچایا۔
اس معاملے سے واقف افراد نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر امریکی خبر رساں ادارے بلوم برگ کو بتایا کہ ٹاٹا گروپ اور سنگاپور ایئرلائنز لمیٹڈ کے مشترکہ منصوبے پر مشتمل یہ فضائی کمپنی 31 مارچ کو ختم ہونے والے مالی سال میں کم از کم 150 ارب انڈین روپے (تقریباً ایک ارب 60 کروڑ ڈالر) کے خسارے کی راہ پر گامزن ہے۔
ان کے مطابق انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی جھڑپ کے بعد پاکستانی فضائی حدود کی انڈین ایئرلائنز کے لیے بندش نے بھی آمدنی کو مزید متاثر کیا، جس کے باعث ایئرلائنز کو یورپ اور امریکہ کے لیے طویل اور مہنگے راستوں سے پروازیں کرنا پڑیں۔
یہ پسپائی اس لیے بھی زیادہ نمایاں ہے کہ جون میں ڈریم لائنر طیارے کے حادثے سے قبل، جس میں 240 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، ایئر انڈیا بتدریج منافع کی جانب بڑھ رہی تھی، تاہم اس سانحے نے برسوں کی محنت کو ضائع کر دیا۔ ذرائع کے مطابق ایئرلائن کے بانیوں نے اس مالی سال میں آپریشنل بریک ایون کا ہدف رکھا تھا، مگر اب منافع کا حصول ممکن نظر نہیں آتا۔
یہ خسارے انڈین ہوا بازی کے شعبے کے ایک ہنگامہ خیز سال کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں، جہاں مسافروں کی بے چینی، پروازوں میں تاخیر اور ایک حریف ایئرلائن کی جانب سے بڑے پیمانے پر پروازوں کی منسوخی نے دو کمپنیوں پر مشتمل مارکیٹ ڈھانچے کو نمایاں کر دیا ہے۔
ایئر انڈیا، ٹاٹا گروپ اور سنگاپور ایئرلائنز کے ترجمانوں نے خساروں سے متعلق تبصرے کی درخواست پر ای میل کے ذریعے کوئی جواب نہیں دیا۔

ایئر انڈیا کو تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ متوقع

ذرائع کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے پیش کیا گیا نیا پانچ سالہ منصوبہ، جس میں تیسرے سال منافع کی پیش گوئی کی گئی تھی، بورڈ نے مسترد کر دیا ہے اور بحالی کی زیادہ جارحانہ حکمتِ عملی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایئر انڈیا، ٹاٹا گروپ اور سنگاپور ایئرلائنز کے ترجمانوں نے خساروں سے متعلق تبصرے کی درخواست پر ای میل کے ذریعے کوئی جواب نہیں دیا۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)

سرکاری دستاویزات، جنہیں کاروباری انٹیلی جنس پلیٹ فارم ٹوفلر نے مرتب کیا ہے، کے مطابق ایئر انڈیا کو گذشتہ تین برسوں میں مجموعی طور پر 322.1 ارب انڈین روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔
دوسری جانب سنگاپور ایئرلائنز لمیٹڈ، جس نے سنہ 2024 میں وستارا کو ایئر انڈیا میں ضم کرنے کے بعد 25.1 فیصد حصص حاصل کیے تھے، ایئر انڈیا کی کارکردگی کے باعث اپنی آمدنی پر دباؤ محسوس کر رہی ہے، حالانکہ وہ تنظیمِ نو کے منصوبے کے تحت طیاروں کی دیکھ بھال کے نظام کو اندرونِ خانہ لانے میں ایئر انڈیا کی مدد بھی کر رہی ہے۔

شیئر: