Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹرمپ نے ’بورڈ آف پیس‘ چارٹر کا آغاز کردیا، مشرق وسطیٰ میں امن لانے کا عزم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈیووس میں اپنے ’بورڈ آف پیس‘ کے منشور پر دیگر بانی اراکین کے ساتھ دستخط کیے، جسے وہ بین الاقوامی تنازعات حل کرنے والا ادارہ قرار دے رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دستخط کی تقریب میں وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ ’مبارک ہو صدر ٹرمپ! منشور اب مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بورڈ آف پیس اب ایک سرکاری بین الاقوامی تنظیم ہے۔‘
’بورڈ آف پیس‘ کے منشور پر صدر ٹرمپ کے علاوہ دیگر بانی اراکین بشمول پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دستخط کیے ہیں۔
اس ادارے کی سربراہی ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے جس کا مقصد غزہ میں عبوری حکمرانی اور اس کی تعمیرِ نو کی نگرانی کرنا ہے جو کہ تنازع کے خاتمے کے ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔
تاہم صدر ڈونلڈ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ ادارہ غزہ کی تعطل کا شکار جنگ بندی سے ہٹ کر دیگر چیلنجز پر بھی توجہ دے۔
اس تقریب میں 19 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی جن میں زیادہ تر عرب اور اسلامی ممالک شامل تھے جنہوں نے اس چارٹر پر دستخط کیے ہیں۔
چارٹر پر دستخط کرنے والوں میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، اردن کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ ایمن صفدی اور قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی شامل تھے۔
مصر کا کہنا ہے کہ صدر عبدالفتاح السیسی نے ٹرمپ کی شمولیت کی دعوت قبول کر لی تھی لیکن وہ سٹیج پر موجود نہیں تھے۔

’بورڈ آف پیس‘ کے منشور پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دستخط کیے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اپنی 20 منٹ کی تقریر کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ یہ بورڈ اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر ’دنیا کے لیے کچھ عظیم‘ حاصل کرنے کے لیے کام کرے گا۔‘
انہوں نے کہا ’ایک بار جب یہ بورڈ مکمل طور پر تشکیل پا جائے گا تو ہم تقریباً وہ سب کچھ کر سکیں گے جو ہم کرنا چاہتے ہیں اور ہم یہ اقوام متحدہ کے اشتراک سے کریں گے۔‘
غزہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ بورڈ ’بہت کامیاب رہے گا‘ اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ اس علاقے کو ’اسلحے سے پاک کیا جائے، وہاں مناسب حکمرانی ہو اور اسے خوبصورتی سے دوبارہ تعمیر کیا جائے۔‘
انہوں نے حماس کو دھمکی دی کہ وہ غیرمسلح ہو جائیں ورنہ یہ ’ان کا خاتمہ ہوگا۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’اگر حماس وہ نہیں کرتی جس کا انہوں نے وعدہ کیا ہے۔۔۔ میرا خیال ہے کہ وہ شاید کر لیں گے۔۔۔ لیکن وہ اپنے ہاتھوں میں رائفلیں لے کر پیدا ہوئے تھے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یہ بات دہرائی کہ ان کے دورِ حکومت میں امریکہ نے نو ماہ میں آٹھ تنازعات ختم کیے ہیں اور مزید کہا کہ وہ یوکرین کی جنگ کو جلد ختم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے خطے میں اپنی انتظامیہ کی کوششوں کا تذکرہ کیا جس میں ایران کو کمزور کرنے سے لے کر شام میں داعش کے خلاف آپریشنز شامل ہیں۔
انہوں نے اس چارٹر کے آغاز کو ’مشرق وسطیٰ میں امن‘ لانے سے تعبیر کیا جس کے بارے میں ان کے بقول ’کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ ممکن ہو گا۔‘
ایران کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے گزشتہ جون میں ایرانی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کی طرف اشارہ کیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ’تباہ‘ کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تہران ’بات چیت کرنا چاہتا ہے اور بات کرے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ’تباہ‘ کر دیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیووس میں بدھ کو مصر کے صدر السیسی کے ساتھ اپنی ملاقات کا حوالہ دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایتھوپیا کے ساتھ ’رائنا سینس ڈیم‘ پر جاری تنازع کو ختم کرنے کی کوششیں کریں گے۔
اس موقعے پر امریکی صدر نے اقوام متحدہ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس میں ’زبردست صلاحیت‘ ہے جو اس نے کبھی پوری نہیں کی اور یہ بورڈ عالمی ادارے کے امن لانے کے مینڈیٹ میں مدد کرے گا۔
انہوں نے کہا ’یہ صرف امریکہ کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے‘ اور اس بورڈ کو ’اب تک کے بنائے گئے اہم ترین اداروں میں سے ایک‘ قرار دیا۔
’میرا خیال ہے کہ ’بورڈ آف پیس‘ اور یہاں موجود لوگوں کا امتزاج... دنیا کے لیے ایک بہت ہی منفرد چیز ثابت ہو سکتا ہے۔‘
اگرچہ امریکی صدر نے کہا کہ 59 ممالک نے ان کے مجوزہ ’امن بورڈ‘ کی حمایت کا اظہار کیا ہے لیکن اراکین کی مکمل فہرست ابھی واضح نہیں ہے۔
امریکہ کے روایتی مغربی اتحادیوں نے اس بورڈ میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ مستقل ارکان کو فی کس ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کے ساتھ اس ادارے کے لیے فنڈز فراہم کرنے میں مدد کرنی چاہیے جس پر اتحادیوں نے محتاط ردعمل دیا یا دعوت مسترد کر دی۔

فرانس نے غزہ پیس بورڈ میں شمولیت سے انکار کر دیا جبکہ برطانیہ نے کہا کہ وہ فی الحال شامل نہیں ہو رہا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

بورڈ کے اراکین میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، غزہ کے لیے امریکی مذاکرات کار جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف اور برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہیں۔
روس نے بدھ کی شب دیر گئے کہا تھا کہ وہ اس تجویز کا مطالعہ کر رہا ہے جبکہ فرانس نے شمولیت سے انکار کر دیا ہے۔ برطانیہ نے جمعرات کو کہا کہ وہ فی الحال شامل نہیں ہو رہا اور چین نے اب تک یہ واضح نہیں کیا کہ وہ شامل ہو گا یا نہیں۔
اس بورڈ کی تشکیل کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے حصے کے طور پر کی گئی تھی اور اقوام متحدہ کے ترجمان رولانڈو گومز نے جمعرات کو کہا کہ بورڈ کے ساتھ اقوام متحدہ کا تعاون صرف اسی تناظر میں ہو گا۔

شیئر: