55 لاشوں میں سے 15 کی شناخت: گل پلازہ میں مرنے والوں کے ڈی این اے ٹیسٹ میں تاخیر کیوں؟
55 لاشوں میں سے 15 کی شناخت: گل پلازہ میں مرنے والوں کے ڈی این اے ٹیسٹ میں تاخیر کیوں؟
جمعرات 22 جنوری 2026 15:45
زین علی -اردو نیوز، کراچی
ڈی این اے ٹیسٹ عام حالات میں شناخت کا سب سے معتبر اور اہم ترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے مگر گل پلازہ میں آگ کے باعث مرنے والوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کرنا بھی آسان نہیں رہا۔
سندھ فارنزک ڈی این اے لیبارٹری میں موجود ماہرین ان انسانی باقیات سے نمونے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو آگ کی شدت کے باعث اس حد تک جھلس چکی ہیں کہ ان میں سے قابلِ استعمال جینیاتی مواد نکالنا ایک سائنسی چیلنج بن گیا ہے۔
پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمیہ سید کے مطابق اب تک 50 سے زائد انسانی باقیات سے ڈی این اے نمونے حاصل کیے جا چکے ہیں، تاہم ان میں سے کئی نمونے اس قدر خراب حالت میں ہیں کہ ان پر کام کرنا نہایت مشکل ہو گیا ہے۔
انہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کے باوجود شناخت کا عمل روکا نہیں گیا اور مرحلہ وار ڈی این اے رپورٹس موصول ہو رہی ہیں۔‘
شناخت کی سست رفتار، خاندانوں میں بے چینی
گل پلازہ کے ملبے سے اب تک مجموعی طور پر 55 لاشیں اور انسانی باقیات نکالی جا چکی ہیں، لیکن ڈی این اے اور دیگر ذرائع سے صرف 15 افراد کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔ ان میں سے سات لاشیں مکمل اور قابلِ شناخت حالت میں تھیں، ایک لاش کی شناخت شناختی کارڈ کے ذریعے ہوئی، جبکہ سات لاشوں کی شناخت ڈی این اے نتائج آنے کے بعد ممکن ہو سکی۔
سول ہسپتال کراچی کے باہر موجود خاندانوں کے لیے یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ہر گزرتا دن ایک نئی اذیت ہے۔ کسی کے لیے ایک رپورٹ امید بن کر آتی ہے تو کسی کے لیے خاموشی بے یقینی کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔
گل پلازہ کیا تھا؟
گل پلازہ کراچی کے جنوبی ضلع میں واقع ایک پرانی تجارتی عمارت تھی، جہاں برسوں سے دکانیں، گودام اور چھوٹے دفاتر قائم تھے۔
مقامی لوگوں کے مطابق یہ عمارت شہر میں خریداری کے ایک مشہور و معروف مقام کا درجہ رکھتی تھی۔
سنیچر کو اس عمارت میں لگنے والی آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ چند ہی لمحوں میں اندر موجود افراد باہر نکلنے سے قاصر ہو گئے۔ بعض لوگ عمارت میں پھنس گئے، جبکہ کچھ نے نکلنے کی کوشش میں اپنی جان گنوا دی۔
گل پلازہ کراچی کے جنوبی ضلع میں واقع ایک پرانی تجارتی عمارت تھی، جہاں برسوں سے دکانیں، گودام اور چھوٹے دفاتر قائم تھے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
آگ، ملبہ اور ریسکیو کی جدوجہد
حادثے کے بعد فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں، مگر انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ زیرِتعمیر سڑک کے تنگ راستے، حادثے کے موقع پر مبینہ طور پر پانی کی کمی اور عمارت میں موجود کپڑے اور پلاسٹک سمیت دیگر مواد نے آگ بجھانے کے عمل کو مشکل کر دیا۔
ریسکیو آپریشن کئی گھنٹوں تک جاری رہا اور تقریباً 33 گھنٹوں بعد آگ پر قابو پایا جاسکا۔ جیسے ہی ملبہ ہٹانا شروع کیا گیا تو لاشیں اور انسانی اعضا برآمد ہونے لگے جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ بعض لاشیں اس قدر جھلس چکی تھیں کہ انہیں فوری طور پر الگ کرنا ممکن نہیں تھا، جس کے باعث شناخت کا عمل مزید پیچیدہ ہو گیا۔
سول ہسپتال جہاں لاشیں نہیں، باقیات آ رہی ہیں
پولیس سرجن کے مطابق واقع کے بعد سے اب تک 21 انسانی اعضا سول ہسپتال کراچی منتقل کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہسپتال میں اب مکمل لاشوں کے بجائے زیادہ تر انسانی باقیات لائی جا رہی ہیں، جس سے اس سانحے کی شدت مزید واضح ہوتی ہے۔‘
یہی وہ مقام ہے جہاں متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی شناخت کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ تصویریں ہاتھ میں لیے موجود ہیں، کچھ صرف ایک اطلاع کے منتظر ہیں، جب کہ کئی ایسے بھی ہیں جو ڈی این اے سیمپل دینے کے بعد خاموشی سے ہسپتال کے دروازے کو تکے جا رہے ہیں۔
عمارت کے باہر موجود متاثرہ خاندان حکومتی موقف سے متفق نظر نہیں آتے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ڈاکٹر سمیہ سید کے مطابق شناخت کے عمل میں صرف ڈی این اے پر انحصار نہیں کیا جا رہا۔ لواحقین سے اینتھروپولوجیکل ڈیٹا بھی حاصل کیا جا رہا ہے، جس میں قد، جنس، رنگت، بالوں کا رنگ اور دیگر جسمانی خصوصیات شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بعض صورتوں میں یہی معلومات ڈی این اے رپورٹ کے ساتھ مل کر شناخت کی راہ ہموار کرتی ہیں، خاص طور پر ان باقیات میں جہاں جینیاتی مواد شدید متاثر ہو چکا ہو۔
’امدادی کارروائیاں سست ہیں‘
کراچی کے جنوبی ضلع کے ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کے مطابق واقعے کے بعد سے اب تک 55 لاشیں ملبے سے نکالی جا چکی ہیں اور سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
تاہم عمارت کے باہر موجود متاثرہ خاندان اس موقف سے متفق نظر نہیں آتے۔ قیصر علی جو اپنے گھر کے چار افراد کے انتظار میں گل پلازہ کے باہر موجود ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ’امدادی کارروائیاں سست ہیں اور اگر بروقت اقدامات کیے جاتے تو شاید مزید جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔‘
اسی طرح اپنے بھائی کی تلاش میں سرگرداں محمد اسلم بھی انتظامیہ کی کارکردگی سے پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’انتظامیہ اگر ہمارے پیاروں کو تلاش نہیں کر پارہی تو ہمیں اندر جانے دیا جائے۔‘
ملبے سے لاشیں اور انسانی اعضا برآمد ہونے کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
گل پلازہ میں لگنے والی کراچی کے لیے کوئی انوکھا واقعہ نہیں۔ ماضی میں بھی شہر میں فیکٹریوں، پلازوں اور رہائشی عمارتوں میں آتشزدگی اور عمارتیں گرنے جیسے واقعات پیش آتے رہے ہیں، جن میں درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ماہرین کے مطابق ان حادثات کی ایک بڑی وجہ پرانی عمارتوں کی خستہ حالت، فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کی کمی اور مؤثر نگرانی کا فقدان ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب تک ان مسائل کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا جاتا، ایسے سانحے وقوع پذیر ہونے کا خطرہ برقرار رہے گا۔