ن لیگی ارکان کی عمران خان سے ملاقات کی حقیقت کیا؟

تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے صوبہ پنجاب کے ارکان اسمبلی کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کا دعویٰ سامنے آیا ہے تاہم مسلم لیگ ن کی جانب سے اس دعوے کی تردید کی جا رہی ہے۔
سنیچر کی شب وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی نعیم الحق نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں دعویٰ کیا کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے مسلم لیگ ن کے 15 ارکان اسمبلی کی وزیر اعظم سے ملاقات کروائی جو ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔
نعیم الحق نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے ارکان صوبائی اسمبلی نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
اس ملاقات کا دعویٰ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتیں اکٹھی ہو رہی ہیں اور گذشتہ ہفتے حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت مخالف تحریک چلانے کے لائحہ عمل کے لیے کل جماعتی کانفرنس کا بھی انعقاد کیا تھا۔

ن لیگ کے اراکین صوبائی اسمبلی کی وزیر اعظم سے ملاقات کے دعوے کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی اور سابق ترجمان حکومت پنجاب ملک محمد احمد خان نے ’اردو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے حکومتی دعوے کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بے بنیاد اور منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ اصل میں حکومتی جماعت کے لوگ وزیر اعظم عمران خان سے ناراض ہیں۔ اس بات کو چھپانے کے لیے حکومت کی جانب سے پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔
ملک محمد احمد نے مزید کہا کہ حکومت مشترکہ اپوزیشن سے خوف زدہ ہے اور اس سارے عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے یہ تاثر دیا جا رہے۔ وزیر اعظم خود اپنے اراکین اسمبلی کو منانے کے لیے فنڈز اور گرانٹس دے رہے ہیں اور ن لیگ سے متعلق خبریں صرف ان حقائق کو چھپانے کے لیے چلوائی جا رہی ہیں۔

سوشل میڈیا کا ردعمل

پی ٹی آئی کے اس دعوے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی بحث گرم ہے کہ کیا ن لیگ میں فاروڈ بلاک بن گیا ہے؟ تاہم ن لیگ کے سپورٹرز بھی اس دعوے کو کھلا جھوٹ قرار دے رہے ہیں۔
اس ملاقات کے دعوے پر یہ بھی سوال پوچھے جا رہے ہیں کہ آخر اس کے پیچھے حقائق کیا ہیں اور اس کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟
تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مسلم لیگ ن کے ایم پی اے گروپ کی وزیر اعظم سے ملاقات صرف ابتدا ہے، اگلا گروپ اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ کا ہو گا، مقامی سیاسی حقائق فیصلوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور عوامی سطح پر ن اور پیپلز پارٹی کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی لہٰذا ظاہر ہے لوگ اپنے فیصلے سیاسی حقائق پر کریں گے۔‘

فواد چوہدری کے جواب میں محمد ذیشان نامی ایک صارف نے پوچھا ’تو کیا یہ تمام ایم پی ایز تمام گناہوں (الزامات) سے پاک ہو جائیں گے جو آپ ن لیگ پر لگاتے ہیں؟ کیا ان کی توبہ قبول ہو جائے گی یا کوئی سزا کا انتظام بھی کر رکھا ہے؟‘
عبدالمتین نامی صارف نے فواد چوہدری کو کہا کہ ’جنوبی پنجاب کے ایم این ایز اور ایم پی ایز جن کو پی ٹی آئی میں شامل کروایا گیا تھا ان کی ملاقات ھوئی ہے، محترم ٹویٹ میں سچ بھی لکھا کرو۔‘

شیئر: