Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’پوچھے بغیر تبدیل کیا گیا‘، نورا فتحی نے متنازع گانے ’سرکے چنر‘ پر خاموشی توڑ دی

گانے میں سنجے دت بھی نورا فتحی کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں (فوٹو: شوبز تماشا)
بالی وڈ سٹارز نورا فتحی اور سنجے دت کے گانے ’سرکے چُنر‘ پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے اور یہ ریلیز ہوتے ہی تنازع کا شکار ہو گیا تھا۔
اس کو نامناسب قرار دیا گیا جس پر اس کو مختلف پلیٹ فارمز سے ہٹایا جا چکا ہے تاہم اب اس معاملے پر پہلی بار اداکارہ و ڈانسر نورا فتحی نے بات کی ہے۔
دکن ہیرالڈ کے مطابق اداکارہ نے ایک ویڈیو بیان کے ذریعے اس بارے میں وضاحت دی ہے۔
اس گانے کو آنند آڈیو کی جانب سے مختلف زبانوں میں اپ لوڈ کیا تھا جس میں ہندی، ملیالم، تمل، تیلگو اور کناڈا زبانیں شامل تھے، تاہم ہندی ورژن کے آتے ہی تنازع اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
اداکارہ و ڈانسر نے اس بارے میں انسٹاگرام پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی ہے۔
ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ کوئی یہ سمجھے کہ وہ اس گانے کی حمایت کرتی ہیں۔
ان کے مطابق ’آپ کے سخت ردعمل کے لیے شکریہ، کیونکہ اس کی وجہ سے فلم سازوں پر دباؤ آیا اور اس گانے کو ہٹا دیا گیا ہے۔‘
ویڈیو میں وہ کہتی ہیں کہ ’میری بات سنیں،  میں نے یہ گانا تین سال قبل کناڈا زبان میں فلم  کے لیے شوٹ کروایا تھا کیونکہ اس میں فلم انڈسٹری کا ایک بڑا نام سنجے دت شامل تھا اور ان کے ساتھ کام کرنے سے کون انکار کر سکتا ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’جب میں شوٹنگ کروا رہی تھی تو مجھے فلم میکرز پر یقین تھا کہ وہ اس کو دوسری زبانوں میں اسی طرح ٹرانسلیٹ کرائیں گے جیسا کہ میں کر رہی تھی لیکن جب ہندی ورژن کو ان لیریکس کے ساتھ بنایا گیا اس کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں تھا اس کے لیے مجھ سے کوئی اجازت یا منظوری نہیں لی گئی تھی۔‘
ان کے مطابق ’انہوں نے میری نامناسب تصویریں استعمال کیں اور ان میں ایک سنجے دت کے ساتھ اے آئی جنریٹڈ تھی۔ میں نے اس بارے میں ڈائریکٹر کو نشاندہی کی تھی کہ ٹھیک نہیں لگ رہی۔‘
ان کے بقول ’اس کا ذمہ دار فلم سازوں اور کانٹینٹ کریئیٹرز کو قرار دیا جانا چاہیے۔‘
وہ ویڈیو کے آخر میں کہتی ہیں کہ آپ کے سخت ردعمل کا شکریہ، میں آئندہ محتاط رہوں گی۔‘
ایک صارف نے ان کی پوسٹ کے نیچے لکھا کہ ’آپ کو معلوم تھا کہ گانا کیا ہے، تھیم کیا ہے اس کو گاتے ہوئے کیا کرنا ہے کیونکہ ریکارڈنگ شروع کرنے سے قبل ہدایت کار فنکار کو سب کچھ بتاتا ہے کہ اس گانے میں کیا ہے اور اس نے کیسے کام کرنا ہے۔‘
اسی طرح ایک اور یوزر کا کہنا تھا کہ انہوں نے گانے کے حوالے سے صفائی دے کر اپنی فنکارانہ دیانت کو ظاہر کیا ہے۔
یہ گانا فلم کے ڈی ڈیول میں شامل ہے اور اس کو 15 مارچ کو ریلیز کیا گیا تھا جس کے بعد اس پر شدید اعتراضات سامنے آئے تھے۔

شیئر: