کویت کا عجائب گھر جسے احتیاطی تدابیر نے حملہ آوروں سے بچالیا

 کویت کے الجابریہ علاقے میں واقع ”طارق رجب عجائب گھر“عراق کے غاصبانہ قبضے کے دوران احتیاطی تدابیر کی بدولت حملہ آوروں کے چنگل میں جاتے جاتے رہ گیا۔
کویتی میڈیا کے مطابق کویت پر عراقی لشکر کشی کے دوران عجائب گھر دشواریوں کے حصار میں رہا۔ یہ عجائب گھر طارق رجب نے قائم کیا تھا۔ کویت پر لشکر کشی کے زمانے میں انکی اہلیہ نے اسے بچانے کیلئے ایک سادہ سی تدبیر اختیار کی۔ انہوں نے کار پینٹرز کو طلب کرکے عجائب گھر کے دروازے پر لکڑیاں فٹ کرادیں۔

زیاد رجب بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ عراقی فوجی گھومتے پھرتے عجائب گھر پہنچ گئے۔ انہوں نے بھانپ لیا کہ دروازے پر لکڑیاں آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے لگائی گئی ہیں۔ انہوں نے لکڑیوں کی رکاوٹ دور کرکے عجائب گھر کی حقیقت دریافت کرلی اور یہ کہہ کر چلے گئے کہ جلد ہی دوبارہ آئیں گے اور پھر اسے اچھی طرح سے دیکھیں گے۔
زیاد رجب بتاتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ عراقی فوجی کسی اور مصروفیت میں پھنس گئے اور وہ دوبارہ یہاںنہیں آئے۔
 طارق رجب عجائب گھر کا افتتاح 1980 میں کیا گیا تھا۔ یہ قرآن کریم کے نایاب نسخوں ، عربی قلمی نسخوں ، اسلامی فن کے نمائندہ برتنوں ، موسیقی کے آلات ، قدیم اسلامی عرب فرنیچر سے آراستہ ہے۔

اس عجائب گھر میں سونے اور چاندی کے زیورات بھی ہیں۔ قدیم عرب ملبوسات اور پھول بوٹوں سے سجی اشیاء اور زرہیں بھی ہیں۔ یہاں کئی نایاب مجموعے ہیں۔ ان میں سے یہ قابل ذکر ہیں۔
1۔ قرآن پاک کا ایک ایسا نسخہ اس عجائب گھر میں رکھا ہوا ہے جس کا تعلق چوتھی صدی ہجری اور 11ویں صدی عیسوی سے ہے۔ یہ کوفی رسم الخط میں تحریر ہے۔
2۔ یہاں گیارہویں صدی ہجری سے تعلق رکھنے والے فاطمی دور کا سونے کا ایک کنگن ہے۔
3۔ بخور جلانے والامبخرہ ہے یہ سلجوقی دور 1038اور 1194 ھ کا ہے۔
4۔ 18ویں اور 19ویں صدی کے بنے ہوئے خنجر اور تلواریں ہیں۔
5۔ 19ویں صدی کی لکڑی کی ایک کرسی ہے جس پر گل بوٹے بنے ہوئے ہیں۔

طارق رجب عجائب گھر کویت شہر میں اسلامی فن کی تاریخ کا مرکز ہے۔مقامی ، عرب اور غیر ملکی سیاح اسے دیکھنے کیلئے آتے ہیں۔
 

شیئر: