انڈیا کو انگلینڈ کے ہاتھوں شکست: کیا یہ میچ فکسڈ تھا؟

دھونی کی سست رفتار بیٹنگ پر سوال اُٹھ رہے ہیں۔ تصویر: اے ایف پی
کرکٹ ورلڈ کپ کے اتوار کو ہونے والے میچ میں انگلینڈ نے انڈیا کو شکست دے کر پاکستان کے لیے سیمی فائنل تک رسائی مزید دشوار بنا دی ہے۔ تاہم اس میچ میں انڈیا جس انداز سے ہارا اس کو لے کر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
کرکٹ شائقین اور سابق کھلاڑیوں کی جانب سے انڈین بیٹسمینوں پر تنقید کے نشتر برسائے جا رہے ہیں اور بیشتر شائقین اس میچ کو فکسڈ قرار دے رہے ہیں۔
ہوا کچھ یوں کہ انگلینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے انڈیا کو 338 رنز کا بڑا ہدف دیا جس کے تعاقب میں انڈین بیٹسمین کچھ نروس نظر آئے حتیٰ کہ کپتان کوہلی اور جارج مزاج بیٹسمین روہت شرما کے کریز پر ہوتے ہوئے بھی انڈیا پہلے 10 اوورز میں صرف 28 رنز بنا سکا اور اس کا ایک کھلاڑی آؤٹ ہوا۔
میچ کے آخری پانچ اوورز میں انڈیا کو جیت کے لیے 71 رنز درکار تھے اور اس وقت ایم ایس دھونی کے ساتھ کیدار یادو کریز پر موجود تھے تاہم دونوں بیٹسمینوں نے سست رفتار بلے بازی کرتے ہوئے آخری اوور شروع ہونے سے قبل 25 گیندوں پر محض 26 رنز سکور کیے جن میں 18 سنگلز، پانچ ڈاٹ بالز اور صرف دو چوکے شامل تھے۔
یوں انڈیا کو آخری اوور میں 44 رنز کا ناممکن سکور درکار تھا۔

روہت شرما نے سنچری سکور کی مگر انڈیا میچ نہ جیت سکا۔ فوٹو اے ایف پی
روہت شرما نے سنچری سکور کی مگر انڈیا میچ نہ جیت سکا۔ تصویر: اے ایف پی

اس وقت جب یادو اور دھونی بلے بازی کر رہے تھے تو انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین نے کمنٹری کے دوران کہا ’میں حیران ہوں یہ کیا ہو رہا ہے، یہ وہ نہیں جس کی انڈیا کو ضرورت ہے، انڈیا کو رنز چاہیے لیکن بیٹسمین کیا کر رہے ہیں؟ انڈین شائقین گراؤنڈ سے واپس جا رہے ہیں، یقیناً وہ دھونی کو شارٹس کھیلتا دیکھنا چاہتے ہیں چاہے وہ ہوا میں ہی شارٹ کھیل دیں، یہ ورلڈ کپ میچ ہے اور شائقین چاہتے ہیں کہ ان کی ٹیم مقابلہ کرے۔‘
ناصر حسین کے ساتھ کمنٹری باکس میں موجود سابق انڈین کپتان سارو گنگولی بھی انڈین بیٹنگ سے مایوس نظر آئے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا ’میرے پاس انڈیا کی اس انداز میں بیٹنگ کرنے کی کوئی وضاحت نہیں ہے۔‘
انڈیا کے میچ ہارتے ہی مین سٹریم میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی انڈین بیٹسمینوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور صارفین پوچھنے لگے کہ کیا پاکستان کو میگا ایونٹ سے باہر کرنے کے لیے یہ میچ فکس کیا گیا تھا؟
ایک انڈین ٹوئٹر صارف جارج وجے نے کہا ’اگر کوئی بیوقوف ٹیم کی شکست کا ذمہ دار دھونی کو ٹھہرانا چاہتا ہے تو پہلے وہ یہ وضاحت کرے کہ کوہلی اور روہت شرما کے کریز پر ہوتے ہوئے بھی انڈیا نے پہلے 10 اوورز میں محض 27 رنز کیوں بنائے؟‘
جارج وجے نے مزید کہا ’یہ ایک بڑا ہدف تھا لیکن انڈیا نے اسے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی، میں حیران ہوں کہ ایسا کیوں ہوا؟‘
آمنہ نامی ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا ’انڈین ٹیم کو اداکاری اور ڈرامہ کرنے پر آسکر ایوارڈ دیا جانا چاہیے۔‘

ایک اور صارف محمد علی نے لکھا ’338 رنز کے تعاقب کرتے ہوئے پہلے 40 اوورز میں ایک بھی چھکا نہیں لگا، روہت شرما نے سنچری بنائی مگر وہ چھکا نہ لگا سکے، کوہلی نے بھی ففٹی بنائی مگر کوئی چھکا نہیں۔ دھونی اور یادو تو خیر سکور بنانے کی کوشش ہی نہیں کر رہے تھے۔‘

کچھ صارفین نے تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے اس میچ کی تحقیات کروانے کا بھی مطالبہ کر دیا۔ عبدالوہاب نامی ایک ٹوئٹر صارف نے کہا ’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آج کے فکس میچ کی تحقیقات ہونی چاہیے اور جرم ثابت ہونے پر انڈیا کو ورلڈ کپ سے باہر کر دینا چاہیے۔‘

جب کرکٹ پر بحث چل رہی ہو تو راولپنڈی ایکسپریس کہلانے والے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کیسے کسی سے پیچھے رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے انڈیا انگلینڈ کے میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ’انڈیا اس سے بہتر کھیل سکتا تھا، آخری 10 اوورز میں پانچ وکٹوں کے ساتھ جارحانہ انداز اپنا کر انڈیا سب کو حیران کر سکتا تھا۔‘

شیئر: