گلوکار علی نور ہیپٹائٹس کا شکار، جگر کی پیوندکاری کی ضرورت

علی حمزاہ نے مداہوں کو پیغام دیتے ہوئے لکھا کہ علی نور کی جگر منتقلی کے لیے معائنہ جاری ہے۔ تصویر: فیس بک
 مشہور زمانہ بینڈ نوری کے گلوکار علی نور کے ہیپٹائٹس کے علاج کے دوران جگر کی پیوندکاری کے ضرورت پڑ گئی ہے جس پر ان کے بھائی اور ساتھی گلوکار علی حمزہ نے مداحوں سے دعاؤں کی درخواست کی ہیں۔
اس بارے میں ٹوئٹر پر گذشتہ رات علی نور کے ماموں اعظم جمیل نے لکھا کہ ڈاکٹروں نے علی نور کے ہیپٹائٹس کے علاج کے دوران پیچیدگی پیدا کر دی جس کے باعث انہیں فوری طور پر جگر کی پیوندکاری کی ضرورت ہے۔

موسیقار احمد بٹ نے اسلام آباد کے شہریوں سے جگر کی پیوندکاری کے لیے ڈونر کی درخواست کی۔

اداکارہ وینا ملک نے بھی علی نور کی صحتیابی کے لیے  مداحوں سے دعاؤں کی درخواست کی۔ وینا نے اسلام آبادیوں سے اپیل کی کہ اگر آپ 18 سے 45 سال کے ہیں اور اگرآپ کے خون کا گروپ او پازٹیو، بی پازٹیو یا او نگیٹیو میں سے کوئی بھی ہے تو خون عطیہ کریں کیونکہ انہیں آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر جگر کی پیوندکاری کی ضرورت ہے۔ 

تاہم فیس بک پر نوری کے پیج پر علی حمزہ نے مداحوں کو پیغام دیتے ہوئے لکھا کہ علی نور کے جگر کی پیوندکاری کے لیے معائنہ جاری ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو صرف خاندان کے افراد ہی جگر عطیہ کر سکتے ہیں۔
 ’ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس جگر کی پیوندکاری کے لیے لوگ موجود نہیں لیکن یہ صرف خاندان کے افراد ہی عطیہ کر سکتے ہیں۔ ہمارا قانون خاندان سے باہر ڈونرز کی اجازت نہیں دیتا۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ علی نور کی حالت بہتری کی جانب گامزن ہے جس سے ہو سکتا ہے کہ جگر کی پیوندکاری کی ضرورت نہ پڑے۔
علی نور نے اپنے گانے ’منوا رے‘ سے 2002 میں کافی شہرت حاصل کی، جس کے بعد 2003 میں انکا پہلا ایلبم ’سنو کہ میں ہوں جوان‘ ریلیز ہوا۔
ان کے خاندان کا موسیقی سے گہرا تعلق سے۔ علی نور اور علی حمزہ کی والدہ ساگر وینا بھی مشہور موسیقار ہے۔

شیئر: